×
×
بنیادی عنوان درج کریں
عصر ایجوکیشنل ویلفئیر اینڈ ٹرسٹ (موجودہ نظام)
خواب،نظریہ حقیقت پسند انہ اہداف
خواب
برائے مدرسہ
مدرسے کا خواب
خواب کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
خواب(انفرادی) کیا ہے
خواب کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے انفرادی خواب، مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
بیٹے / بیٹی کے متعلق والدہ محترمہ کا خواب
بیٹے /بیٹی کے متعلق والد محترم کا خواب
کیا بیٹے /بیٹی کے متعلق والدمحترم اور والدہ محترمہ کا خواب ہم آہنگ ہے
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح کروا چکے ہیں
کیا والدین کا اپنے بیٹے / بیٹی کے متعلق خواب مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتاہے ؟
نظریہ
برائے مدرسہ
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں مدرسہ کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائےاراکین شوری/مہتمم مدرسہ/منتظمین
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کے نظریات، مدرسہ کےنظریہ کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے اساتذہ
کیا مدرسہ اساتذہ کو اس درجہ کا اعتماد دیتا ہے کہ استاد محترم بند دروازے میں بلا تأ مل اپنے نظریات کا مہتمم / منتظمین اور شوریٰ سے نہ صرف اظہار کرسکیں بلکہ سیرحاصل مذاکرہ بھی ہوسکے
برائے طلباء
کیا مدرسہ طلباء کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کا طریقہ کار سیکھاتا ہے ۔
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کے طریقہ کار سے آگاہ رکھتا ہے تاکہ بچے کے لیے ماحول ساز گار رہے ۔
اہداف
برائے مدرسہ
مدرسہ کے اہداف
ایک سالہ ہدف، 5 سالہ ہدف، 10 سالہ ہدف، 25 سالہ ہدف، 50 سالہ ہدف، 100 سالہ ہدف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباء کےموجودہ سال کے اور پانچ سال کے ذاتی اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے ذاتی اہداف، مدرسے کے اگلے ایک /دو/تین/چار/ پانچ سالہ اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے طلباء
طالب علم کے تعلیمی سال کے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد کے اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا طالب علم کے ذاتی اہداف تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً تعلیمی اور تربیتی اہداف سے اس درجے میں آگاہی دیتا رہتا ہے کہ طالب علم سے متعلق والدین کےتفکرات، تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے رہیں تاکہ طالب علم کے لیے ماحول ساز گار رہے
نظم و نسق کے متعلق
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
مجلس شوریٰ
دو علماء ہونے چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
دینی علمی شعبہ کی تعیین کرنا
مقرر کردہ شعبہ کے لیے اساتذہ کی تقرری کے اصول و ضوابط طے کرنا
دینی تعلیم سے متعلق نظام کو طے کرنا
اختیارات
دینی تعلیمی شعبہ کی تعین ،اساتذہ کی تقرری اور تعلیمی نظام کے متعلق ان کی رائے کو ترجیح دی جائے گی
ایک ماہر عصری تعلیم ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک کاروباری شخص ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک قانونی ماہر ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک امیر صاحب ہونے چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
کم از کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 11 اراکین ہونے چاہیے؟
اجتماعی ذمہ داریاں
اجتماعی اختیارات
مہتمم صاحب
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
منتظمین
ناطم اعلیٰ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
منتظمین دینی علوم
ناظم شعبہ حفظ و ناظرہ
اہلیت
مضبوط حافظِ قرآن ہو۔
تجوید پڑھا ہوا ہو۔
حفظ پڑھانے کا معتد بہ وقت کا تجربہ ہو۔
انتظامی امور سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
والدین کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کر سکتا ہو۔
والدین کو طلبہ کی رپورٹ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
عالمِ دین ہونا شرط نہیں، البتہ ترجیح دی جاتی ہے۔
ذمہ داریاں
شعبۂ حفظ کی نگرانی کرنا۔
شعبہ کے معیار کا جائزہ لینا اور اسے بہتر بنانے کی کوشش کرنا۔
امتحانات لینا۔
طلبہ کی کارکردگی کی رپورٹ مہتمم صاحب کو پیش کرنا۔
بچوں کی اخلاقی تربیت کی فکر رکھنا۔
والدین سے رابطہ رکھنا۔
والدین کو ان کے بچوں کی کارکردگی سے مسلسل مطلع کرتے رہنا۔
اساتذہ کو مارپیٹ کے نظام سے محفوظ رکھنے کے لیے اساتذہ کی نگرانی کرنا۔
اختیارات
کسی بھی وقت طالب علم کو بلا کر امتحان یا جائزہ لے سکتے ہیں۔
بچوں کی مارپیٹ کا اختیار حاصل نہیں۔
طلبہ کی کمزوری کی صورت میں والدین کو مطلع کرنا۔
والدین کو اعتماد میں لے کر بچے کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرنا۔
دو ہزار کے اندر اندر معمولی نوعیت کی خریداری خود کر سکتے ہیں یا اس کی سفارش پیش کر سکتے ہیں۔
بڑی خریداری کے لیے ناظمِ مالیات سے تحریری اجازت لینا ضروری ہے۔
اساتذہ کو چند گھنٹوں کی جز وقتی رخصت دے سکتے ہیں۔
ایک دن کی مکمل رخصت دینے کے لیے مہتمم صاحب سے رابطہ اور اجازت ضروری ہے۔
مہتمم صاحب کی اجازت کے بغیر ناظمِ حفظ ایک دن کی چھٹی نہیں دے سکتا۔
ناظم درسی نظامی
اہلیت
درسِ نظامی پڑھے ہوئے ہوں۔
درسی کتابوں کو سمجھنے کی اچھی استعداد رکھتے ہوں۔
کم از کم پانچ سال درسِ نظامی کے اسباق پڑھا چکے ہوں۔
انتظامی امور سنبھالنے کا تجربہ رکھتے ہوں۔
ذمہ داریاں
سالانہ جدول بنانا۔
مشورے سے اسباق کی تقسیم کرنا۔
تعلیمی نظام کا جائزہ لینا۔
طالبات کی تعلیمی استعداد پر نظر رکھنا۔
ششماہی اور سالانہ امتحانات کا انعقاد کرنا۔
طالبات اور معلمات کے دروس کی کارگزاری کا جائزہ لینا۔
طالبات اور معلمات کی طرف سے آنے والی سفارشات کو مشورے میں رکھنا۔
طالبات کے مسائل کو مشورے میں رکھ کر ان کا حل پیش کرنا۔
دیگر متعلقہ امور کی نگرانی کرنا۔
اختیارات
طالبات کی ایک یا دو دن کی چھٹی منظور کر سکتے ہیں۔
دو دن سے زیادہ کی چھٹی منظور کرنے کا اختیار نہیں۔
معلمات کی کارگزاری کے لیے ان کے گھر والوں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
ناظم شعبہ تخصصات
تخصص فی الفقہ
اہلیت
درس نظامی ، تخصص فی الافتاء اور تحقیق و افتاء کا معتدبہ تجربہ
ذمہ داریاں
1۔نصاب سازی کےلیے تجاویز،
2۔طے شدہ نصاب کی تنفیذ ، 3۔کمی بیشی کی اطلاع دینا
4۔انتظامی ذمہ داریوں کی تقسیم اور فالواپ
5۔اسباق اور امتحانات کے لیے جدول سازی ،
6۔ طلبہ اور شعبہ کی ضروریات سے آگاہی
7۔ضرویات فنڈ منظوری کروانا
8۔ فتاوی کی تصحیح
اختیارات
1۔طلبہ کو مختصر چھٹی دینا
2۔ مختصر اخراجات کی منظوری
3۔ وظائف کی مقدار کی حسب ضابطہ منظوری
تخصص فی الحدیث
اہلیت
متعلقہ فن میں متخصص ہو۔
متعلقہ فن میں عملی تجربہ رکھتا ہو۔
اس فن کے ماہرین کے نزدیک معتمد ہو۔
ذمہ داریاں
شعبۂ تخصص سے متعلق تمام امور کی نگرانی کرنا۔
ضرورت کے مطابق تدریس کرنا۔
تدریسی نظام کی نگرانی کرنا۔
اساتذہ کی تدریسی ذمہ داریوں کی تقسیم کرنا۔
اسباق اور تدریسی امور کی نگرانی کرنا۔
شعبے سے متعلق دیگر انتظامی امور کی نگرانی کرنا۔
مالیاتی امور کی نگرانی کرنا۔
شعبے سے متعلق پیش آنے والے دیگر امور کو دیکھنا۔
اختیارات
شعبے سے متعلق انتظامی امور میں اختیار حاصل ہے۔
اساتذہ کی تدریسی ذمہ داریوں کی تقسیم کر سکتے ہیں۔
اسباق اور تدریسی امور کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
شعبے کے کاموں کی تقسیم کر سکتے ہیں۔
شعبے سے متعلق مالیاتی امور کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
ناظم عصری علوم
اہلیت
گریجویشن (بی ایس سی) تک تعلیم حاصل کی ہو۔
ریاضی (Math) میں تخصصی تعلیم کے ساتھ دیگر مضامین، خصوصاً انگریزی، کا مناسب علم رکھتا ہو۔
عصری علوم کی تدریس اور انتظام کا تجربہ رکھتا ہو۔
ذمہ داریاں
فاؤنڈیشن کلاس سے کلاس ہفتم تک انگریزی اور ریاضی کی تدریس کے نظام کی نگرانی کرنا۔
متعلقہ اساتذہ کی تدریس کا جائزہ لینا۔
تدریسی کارکردگی، نتائج اور رپورٹ تیار کرنا۔
فاؤنڈیشن کلاس سے متعلقہ طلبہ کو ریاضی پڑھانا۔
روزہ کی طالبات کو جماعت نہم اور دہم کی ریاضی پڑھانا۔
نئے داخلوں کے وقت طلبہ کے فارم اور دیگر معلومات جمع کرنا۔
داخلہ فارموں پر استادِ جی سے دستخط کروا کر داخلہ کی تکمیل کروانا۔
روزانہ تمام کلاسوں کی حاضری کا جائزہ لینا۔
غیر حاضر طلبہ کے والدین سے رابطہ کر کے وجہ معلوم کرنا۔
مدرسے کے اصول کے مطابق والدین کو تنبیہ کرنا۔
رخصت پر موجود طلبہ کی رخصت درج کرنا۔
روزہ کی طالبات کی آن لائن (Zoom) کلاسز کا انتظام و تدریس کرنا۔
ضرورت کے مطابق والدین سے انتظامی امور کے سلسلے میں رابطہ کرنا۔
اختیارات
ناظم مالیات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم مطبخ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم دار الاقامہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم متفرق امور مدرسہ (صفائی ستھرائی ،بجلی ،پانی ،ترتیب وغیرہ کا نظام )
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم کتب خانہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے اساتذہ
حفظ و ناظرہ کے اساتذ
اہلیت
اچھا حافظِ قرآن ہو۔
قرآنِ کریم کو صحیح قراءت اور صحیح لہجے کے ساتھ پڑھ سکتا ہو۔
ترجیحی بنیاد پر عالمِ دین ہو۔
کسی بزرگ سے اصلاحی تعلق رکھتا ہو یا تبلیغی جماعت میں وقت لگایا ہو۔
تدریس کا کچھ تجربہ رکھتا ہو۔
شادی شدہ امیدوار کو ترجیح دی جاتی ہے، تاہم غیر شادی شدہ اساتذہ بھی رکھے جاتے ہیں۔
ذمہ داریاں
اپنی کلاس کا نظم و نسق سنبھالنا۔
طلبہ کو سبق یاد کروانا۔
طلبہ کی منزل سننا۔
سپرد کیے گئے تربیتی امور انجام دینا۔
پابندی کے ساتھ اپنی حاضری کا اہتمام کرنا۔
کسی بھی صورت میں مارپیٹ سے اجتناب کرنا۔
طلبہ کی کارکردگی سے ناظم صاحب کو آگاہ کرنا۔
طلبہ کے بہتر نتائج کی فکر کرنا۔
روزانہ، ماہانہ اور ہفتہ وار رپورٹ تیار کرنا۔
امتحانات کی تیاری کروانا۔
طلبہ کے تربیتی امور کی نگرانی کرنا۔
اختیارات
طلبہ کو مناسب حد تک کھڑا کرنے کی سزا دے سکتے ہیں۔
کسی بھی درجے میں مارپیٹ کی اجازت نہیں۔
طلبہ سے کسی قسم کی جسمانی خدمت لینے کی اجازت نہیں۔
درس نظامی کے اساتذہ
اہلیت
کسی مستند ادارے سے درسِ نظامی کیا ہوا ہو۔
علمی استعداد اچھی ہو۔
عبارت پڑھ کر اس کی حل اور تفہیم کا ملکہ رکھتا ہو۔
کسی بزرگ سے اصلاحی تعلق رکھتا ہو یا تبلیغی جماعت میں وقت لگایا ہو۔
مزاج میں اعتدال ہو۔
بالخصوص بنات کو پڑھانے کی نزاکتوں کو سمجھتا ہو۔
ترجیحاً شادی شدہ ہو۔
ذمہ داریاں
اپنی حاضری کا پابندی سے اہتمام کرنا۔
وقت پر اسباق پڑھانے کا نظم قائم رکھنا۔
سبق پہلے سے تیار کرنا۔
سال کے آغاز ہی میں تدریسی منصوبہ بندی مکمل کرنا۔
سال کے آغاز میں فراہم کیے گئے منہج اور ترتیب کے مطابق تدریس کرنا۔
امتحانات کے پرچے تیار کرنا۔
امتحانات کے پرچے چیک کرنا۔
طالبات میں علمی استعداد پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کرنا۔
مدرسے کے تعلیمی اور تربیتی نظم کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا۔
سپرد کی گئی انتظامی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے انجام دینا۔
روزانہ ہونے والے اساتذہ کے مشورے میں شرکت کرنا۔
تعلیمی نظم کو بہتر بنانے کے لیے اپنی سفارشات پیش کرنا۔
اختیارات
کلاس کی ٹائمنگ میں رد و بدل کے لیے سفارشات پیش کر سکتے ہیں۔
خارجی کتب کے مطالعہ کے لیے طالبات کو مناسب کتابوں کی تعیین کی سفارش کر سکتے ہیں۔
اگر کسی طالبہ کی تعلیمی کارکردگی کے بارے میں کوئی اشکال ہو تو مشورے سے اس کے والد سے رابطہ کر کے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔
پابندیاں
کسی طالبہ سے براہِ راست ذاتی رابطہ نہیں کر سکتے۔
کسی طالبہ کو بھی استاد سے براہِ راست ذاتی رابطے کی اجازت نہیں۔
والدین سے براہِ راست رابطہ معمول کے طور پر نہیں کیا جا سکتا۔
طالبات سے متعلق معاملات معلمات کے ذریعے پہنچائے جائیں گے، پھر معلمات متعلقہ طالبہ سے مذاکرہ کریں گی۔
جن اساتذہ کے گھر والے ادارے میں موجود ہوں، وہ ان کے ذریعے پیغام یا رابطہ کر سکتے ہیں۔
اساتذہ اور معلمات کے مشترکہ گروپ کے ذریعے تحریری پیغامات اور جوابات کا تبادلہ کیا جائے گا۔
تخصصات کے اساتذہ
تخصص فی الحدیث
اہلیت
متعلقہ فن میں متخصص ہو۔
متعلقہ فن میں تدریس اور عملی تجربہ رکھتا ہو۔
متعلقہ فن میں خدمات انجام دی ہوں۔
اہلِ فن کے نزدیک معتمد اور معتبر ہو۔
ذمہ داریاں
متعلقہ فن کی تدریس کرنا۔
فتاویٰ حدیثیہ چیک کرنا۔
تدریبات اور تمرینات کا جائزہ لینا اور چیک کرنا۔
طلبہ کی نگرانی کرنا۔
ادارے کی طرف سے سپرد کی گئی دیگر ذمہ داریاں ادا کرنا۔
اختیارات
طلبہ کو مدرسہ سے خارج کرنے کا اختیار نہیں۔
اسباق کی تقسیم یا تبدیلی کا اختیار نہیں۔
اسباق کی تقسیم کے بارے میں مشورہ دے سکتے ہیں، لیکن اپنی مرضی سے اسباق تبدیل نہیں کر سکتے۔
تین دن سے کم رخصت کی منظوری متعلقہ ناظم (مولانا ابوہریرہ صاحب) مشورے سے دے سکتے ہیں۔
تین دن یا اس سے زیادہ رخصت کی منظوری کا فیصلہ اعلیٰ انتظامیہ کرتی ہے یا اس کے لیے مولانا ہشام صاحب کو درخواست پیش کی جاتی ہے۔
تخصص فی الفقہ (المعاملات)
اہلیت
درسِ نظامی مکمل کیا ہو۔
کسی مستند ادارے سے تخصص فی الفقہ کیا ہو۔
تدریس کا تجربہ ہو تو بہتر ہے۔
ذمہ داریاں
تخصص کے نصاب کی تدریس کرنا۔
فتاویٰ کی تصحیح کرنا۔
طلبہ کے پروجیکٹس کی نگرانی کرنا۔
سپرد کی گئی انتظامی ذمہ داریوں کے نظم کی نگرانی کرنا۔
فتاویٰ کی تمرین و تصحیح کا نظم مشاورت سے ترتیب دینا اور اس کی تنفیذ کرنا۔
اساتذہ کو تفویض کردہ امور کی نگرانی کرنا۔
طلبہ کے مسائل کو مشاورت سے حل کرنا۔
اختیارات
فتاویٰ کی تمرین و تصحیح کے نظم کو مشاورت سے ترتیب دینا اور اس کی تنفیذ کرنا۔
اساتذہ کو تفویض کردہ امور کی نگرانی کرنا۔
طلبہ کے مسائل کو مشاورت سے حل کرنا۔
برائے طلباء
امیر جماعت
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
رہائشی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
غیر رہائشی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے والدین
رہا ئشی طلباء کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
کتب کے طلباء کے والدین
غیر رہائشی کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
کتب کے طلباء کے والدین
برائے دیگر معاونین
چوکیدار
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
باورچی
اہلیت
کھانا پکانا آتا ہو
دین دار ہو
ذمہ داریاں
ہفتہ وار شیڈول کے مطابق کھانا تیار کرنا
اختیارات
صفائی کرنے والے
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مالی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ڈرائیور
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
الیکٹریشن
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
پلمپر
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے مدرسہ
زمین و عمارت کا انتظام
رقبہ و حد بندی
14 مرلہ ہے جو کہ تین فلور پر مشتمل ہے
نقشہ
تعلیمی زون
رہائشی زون
مسجد
وضو ایریا
دفاتر
مہمان خانہ
مطبخ ومطعم کی عمارت
اسٹور روم
پارکنگ ایریا
کھیل کا میدان
باغات و شجرکاری
بنیادی سہولیات کا انتظام
ٹرانسپورٹ
بجلی کا نظام
وائرنگ نیٹ ورک
جنریٹر بیک اپ
سولر سسٹم
پانی کا نظام
فلٹریشن یونٹ
گیس سپلائی
سیوریج لائنز
صفائی کا نظام
رہائش و اقامت کا انتظام
استقبال نظام
طلبہ ہاسٹل
اساتذہ رہائش
مہمان رہائش
بستر
الماریاں
پنکھے / کولنگ
لائٹنگ
واش رومز
وضو خانہ
کپڑوں کی دھلائی
خشک کرنے کا نظام
خوراک و مطبخ کا انتظام
اشیائے خوردونوش
اسٹاک کنٹرول
خریداری نظام
سپلائی چین
کھانا پکانے کا نظام
کچن آلات
خوراک کی تقسیم
وقت بندی
صفائی معیار
پینے کا پانی
کولنگ سسٹم
سامان و اثاثہ جات کا انتظام
فرنیچر
بستر
الیکٹرانکس
کمپیوٹرز
ساؤنڈ سسٹم
لائبریری
کتب کا ریکارڈ
گاڑیاں
جنریٹرز
مرمت نظام
مینٹیننس شیڈول
خرابی رپورٹنگ
صحت کا نظام
فرسٹ ایڈ باکس
میڈیکل روم
حفاظت کا نظام
آگ بجھانے کے آلات
ایمرجنسی الرٹ
سیکیورٹی سسٹم
گیٹ کنٹرول
داخلی نگرانی
CCTV نگرانی
ہنگامی پروٹوکول
مالی وسائل کا انتظام
آمدنی کے ذرائع
چندہ
زکوٰۃ
عطیات
صدقات
وقف املاک
مالی منصوبہ بندی
بجٹ سازی
اخراجات
تنخواہیں (صرف اخراجاتی پہلو)
کھانے پینےکے اخراجات
یوٹیلٹی بلز
تعمیری اخراجات
مرمت اخراجات
سفر کے اخراجات
تقریبات کے اخراجات
دیگر اخراجات
آڈٹ سسٹم
ریکارڈ تصدیق
اندرونی جانچ
انتظامی ریکارڈ کا نظام
داخلہ ریکارڈ
طلبہ ڈیٹا
داخلہ فارم
رہائش ریکارڈ
ہاسٹل الاٹمنٹ
اثاثہ جات ریکارڈ
سامان کی فہرست
استعمال لاگ
مالی ریکارڈ
آمدنی و اخراجات
دستاویزات
قانونی کاغذات
معاہدات
مواصلات و ٹیکنالوجی
انٹرنیٹ سسٹم
نیٹ ورک انفراسٹرکچر
ڈیجیٹل سسٹم
ویب سائٹ
LMS / پورٹل
اعلاناتی نظام
لاؤڈ اسپیکر
ڈیجیٹل نوٹس
نوٹس بورڈ
ڈیٹا مینجمنٹ
بیک اپ سسٹم
کلاؤڈ اسٹوریج
ڈیٹا مینجمنٹ
ERP سسٹم
دیکھ بھال و ترقی
عمارتوں کی دیکھ بھال
مرمت
حفاظتی جانچ
خوبصورتی و اپ گریڈ
رنگ و روغن
تزئین و آرائش
توسیعی منصوبے
نئی عمارتیں
اضافی بلاکس
سہولیات کی اپ گریڈیشن
جدید آلات
نظام کی بہتری
دار التصنیف
ماہنامہ بینات
رفاہ عامہ
شعبۂ رفاہِ عامہ کے تحت مختلف نوعیت کی فلاحی خدمات انجام دی جاتی ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
ماہانہ بنیاد پر تقریباً 400 مستحق گھرانوں کو زکوٰۃ کی مد سے راشن فراہم کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ بعض ایسی مستحق فیملیز، جن کے حالات سے ذاتی تعلق اور واقفیت کی بنیاد پر آگاہی ہوتی ہے، انہیں ماہانہ بنیاد پر زکوٰۃ کی مد سے وظائف بھی دیے جاتے ہیں۔ ان میں خصوصاً بیوہ خواتین اور دیگر مستحق افراد شامل ہوتے ہیں۔
اسی طرح میڈیکل کی مد میں بھی ضرورت مند افراد کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے، تاہم اس مقصد کے لیے فی الحال کوئی مستقل اور علیحدہ نظم قائم نہیں ہے۔
رفاہِ عامہ کے تحت بعض ہنگامی یا حادثاتی حالات میں بھی متاثرہ افراد کی مدد کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ سیلاب کے دوران سیلاب زدگان کے گھروں کی تعمیر کے سلسلے میں تعاون کیا گیا۔
بعض اوقات ایسے علاقوں سے بھی رابطہ کیا جاتا ہے جہاں پانی کے کنویں یا پانی کا مناسب نظام موجود نہیں ہوتا۔ ایسے مواقع پر ضرورت کے مطابق پمپ کی کھدائی کے اخراجات میں بھی تعاون کیا جاتا ہے، تاہم اس کے لیے بھی کوئی مستقل اور علیحدہ نظام موجود نہیں ہے۔
اس کے علاوہ فلسطین میں بھی ماہانہ بنیاد پر تقریباً سات لاکھ روپے ارسال کیے جاتے ہیں۔ یہ رقم صرف کھانے کی ضروریات کے لیے نہیں بلکہ وہاں قائم 10 مکاتب کے لیے بھی خرچ کی جاتی ہے، جہاں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اس رقم سے اساتذہ کے وظائف اور طلبہ کے لیے روزانہ کی ضروریات کا سامان فراہم کیا جاتا ہے۔
تعلیم کے متعلق
تعلیمی شعبہ جات
شعبہ ناظرہ و تجوید
شعبہ حفظ
روزانہ کا طریقہ کار
مطالعہ
حفظ
سماعت
سبقی
منزل
ہفتہ وار نظام
مجموعی سماعت
غلطیوں کا تجزیہ
ماہانہ نظام
حفظ امتحان
روانی امتحان
تکمیل حفظ
گردان
درس نظامی
بنین
بنات
دراسات دینیہ
تخصصات
تخصص فی الحدیث
فقہ المعاملات
تجوید للمعلمات
دیگر تعلیمی شعبہ جات
تعلیم بالغان
نصاب
تفسیر قرآن اور حدیث شریف کا کورس ہوتا ہے
دوارانیہ
ہفتہ میں تین دن
النور کورس
فقہ المسلمہ
آن لائن تفسیر کورس
آن لائن عربی کورس
ویک اینڈ پروگرام
عصری علوم کے شعبہ جات
تعلیمی منصوبہ بندی
ابتدائی مشاورت
تعلیمی کیلنڈر
تدریسی اوقات
تدریسی ایام
تعطیلات
امتحانات
دورات
عربی تکلم
رد فرقہ باطلہ
اخلاقی تربیت و اہم عنوانات
اصلاحی مجالس
روزانہ کی بنیاد پر ہمارے یہاں اصلاحی مجلس منعقد کی جاتی ہے
نصاب کی منصوبہ بندی
روزانہ
ہفتہ وار نصاب
ماہانہ نصاب
سہ ماہی نصاب
ششماہی نصاب
سالانہ نصاب
داخلہ و تعلیمی تشخیص
ابتدائی معلومات
نام مع ولدیت
عمر
سابقہ تعلیم
مطلوبہ درجہ
تعلیمی درجہ بندی
ناظرہ
حفظ
درس نظامی
تخصصات
علمی جانچ
قرآن کریم
عربی
تقریری
تحریری
درجہ وار کتب برائے جائزہ
شرائط داخلہ
حفظ
درس نظامی
عمومی شرائط
تخصصات
تخصص فی الافتاء
تخصص فی الحدیث
تخصص فی الغۃ العربیۃ
تخصص فی القراء ا ت
کلیۃ الدعوۃ
انگلش لینگویج کورس
تجوید للعلماء
حفاظ عربک کی داخلہ شرائط
بیرون کے طلبہ کے لیے
داخلہ کا طریقہٴ کار
تعلیمی اہداف
انفرادی اہداف
کمزوریوں کی نشاندہی
تدریسی نظام
سبق سے پہلے
طالب علم
پیشگی مطالعہ
مشکل مقامات کی نشاندہی
استاد
سبق کی تیاری
تدریسی مقاصد
تدریسی مواد
سبق کے دوران
استاد
پچھلا سبق سنا جا تا ہے
تعارف
تشریح
تطبیق
خلاصہ
جی ہمارے اساتذہ اس کا اہتمام کرتے ہیں
طالب علم
عبارت
ترجمہ
سوال و جواب
سبق کے بعد
نوٹس
مشق
تکرار
عملی نگرانی
تعلیم کی بہتری کا معیار
روزانہ
سبق مکمل ہوا؟
ہفتہ وار
اہداف حاصل ہوئے؟
ماہانہ
نصاب رفتار درست ہے؟
ماہانہ جائزہ
سہ ماہی
سہ ماہی نصاب کی مقدار
امتحان
نتائج کا تجزیہ
ششماہی
ششماہی نصاب کی مقدار
امتحان
نتائج کا تجزیہ
سالانہ
تعلیمی نظم کا احتسابی جائزہ
امتحانی نظام
روزانہ جائزہ
سبق سننا
جی روزانہ سبق سنا جاتا ہے
ہفتہ وار امتحان
زبانی
تحریری
ماہانہ امتحان
زبانی
تحریری
سہ ماہی امتحان
زبانی
تحریری
ششماہی امتحان
زبانی
تحریری
سالانہ امتحان
تحریری امتحان
ترقی کا فیصلہ
کامیابی کے درجات
ممتازمرتفع ٪۹۰
ممتاز ٪۸۰
جیدجدا ٪۶۰
جید ٪۵۰
مقبول ٪۴۰
حوصلہ افزائی
ترقی و اصلاح نظام
کمزور طلبہ
اضافی وقت دینا
خصوصی نگرانی
نمایاں طلبہ
کمزور طلباء کی مدد میں لگانا
اضافی مطالعہ
تحقیق
نصاب بہتری
سالانہ جائزہ
اصلاحات
کارکردگی کی نگرانی
طالب علم
حاضری
امتحان
مطالعہ
درجات
نصاب کی تکمیل
اوسط کارکردگی
شعبہ جات
حفظ
درس نظامی
تخصص
تعلیمی معاونت
کتب
نصابی
حوالہ جاتی
لائبریری
اجراء
واپسی
ڈیجیٹل مواد
آڈیو
ویڈیو
LMS
علمی مہارتوں کا نظام
تحریر
خوش خطی
املاء
رموز واوقاف
درست جملہ سازی
پیراگراف نویسی
تقریر
خطاب
تدریس
تحقیق
حوالہ نویسی
مقالہ نویسی
جی مقالہ لکھوایا جاتا ہے
افتاء و استنباط
زبان
انگلش
اردو
عربی
ظاہری تربیت کے متعلق
ظاہری تربیت کی تعریف
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
ہمارے ہاں ظاہری تربیت کے عنوان سے کوئی باقاعدہ تحریری تعریف یا دستاویز موجود نہیں، تاہم اس کا تصور اور اس پر عمل واضح طور پر موجود ہے۔ اسی فہم کے مطابق ادارے میں ظاہری تربیت کی محنت جاری ہے۔
طے شدہ مقصود کے تحت اپنی ،معاونین اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
اس تربیت کی محنت مجلسِ شوریٰ، منتظمین، معاونین، ناظمین، اساتذہ، طلبہ اور والدین سب پر کی جاتی ہے۔ اللہ کے فضل سے یہ تمام طبقات ظاہری تربیت کی اہمیت اور ضرورت کے قائل ہیں۔
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اس تربیت کی اہمیت کو مزید واضح کرنے کے لیے بار بار تربیتی نشستیں منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ نشستیں مجلسِ شوریٰ کے لیے بھی ہوتی ہیں اور والدین کے لیے بھی، تاکہ ان کے سامنے ظاہری تربیت کی اہمیت اجاگر ہو اور وہ اس کے تقاضوں سے آگاہ رہیں۔
اپنی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کو کسی ماہر / بڑے سے سیکھنے کے قائل ہوں
ہم اللہ کے فضل سے اہلِ علم اور اکابر سے سیکھنے کے بھی قائل ہیں۔ اسی مقصد کے لیے لاہور، پورے پاکستان بلکہ بیرونِ ملک سے بھی اکابر کو دعوت دی جاتی ہے۔ ان کے سامنے ادارے کا مشن، تعلیمی نظم اور تربیتی نظام پیش کیا جاتا ہے اور ان سے اصلاح و رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اسی طرح ہم اپنے گھروں میں بھی ظاہری تربیت کے ضروری تقاضوں پر عمل کے قائل ہیں۔ مدرسہ کی کوشش یہ ہے کہ صرف اس کا نظریاتی اقرار نہ ہو بلکہ اس پر عملی طور پر بھی عمل ہو، اس کے لیے باقاعدہ کوشش کی جائے اور ایک منظم ماحول قائم کیا جائے۔
اپنے گھروں میں ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اسی طرح ہم اپنے گھروں میں بھی ظاہری تربیت کے ضروری تقاضوں پر عمل کے قائل ہیں۔ مدرسہ کی کوشش یہ ہے کہ صرف اس کا نظریاتی اقرار نہ ہو بلکہ اس پر عملی طور پر بھی عمل ہو، اس کے لیے باقاعدہ کوشش کی جائے اور ایک منظم ماحول قائم کیا جائے۔
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
ہم اس بات کے بھی قائل ہیں کہ کسی معتبر ادارے سے ظاہری تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے بعض افراد ہمارے اپنے تربیتی نظم سے وابستہ ہوتے ہیں، جبکہ بعض دیگر مدارس، خانقاہوں یا اللہ کے راستے میں نکلنے والی جماعتوں کے تربیتی نظام سے استفادہ کرتے ہیں۔
ظاہری تربیت سے متعلق امور پر اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
اللہ کے فضل سے مجلسِ شوریٰ کے اراکین اور ادارے کا دیگر عملہ بھی اہلِ علم سے استفادہ کرنے کا اہتمام کرتا ہے، اور اس پر عملی طور پر بھی کاربند ہے۔
برائے اساتذہ
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے اساتذہ اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
ہمارے ہاں ظاہری تربیت کے عنوان سے کوئی باقاعدہ تحریری تعریف یا دستاویز موجود نہیں، تاہم اس کا تصور اور اس پر عمل واضح طور پر موجود ہے۔ اسی فہم کے مطابق ادارے میں ظاہری تربیت کی محنت جاری ہے۔
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اس تربیت کی محنت مجلسِ شوریٰ، منتظمین، معاونین، ناظمین، اساتذہ، طلبہ اور والدین سب پر کی جاتی ہے۔ اللہ کے فضل سے یہ تمام طبقات ظاہری تربیت کی اہمیت اور ضرورت کے قائل ہیں۔
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ذات کی حد تک ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اس تربیت کی اہمیت کو مزید واضح کرنے کے لیے بار بار تربیتی نشستیں منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ نشستیں مجلسِ شوریٰ کے لیے بھی ہوتی ہیں اور والدین کے لیے بھی، تاکہ ان کے سامنے ظاہری تربیت کی اہمیت اجاگر ہو اور وہ اس کے تقاضوں سے آگاہ رہیں۔
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
ہم اللہ کے فضل سے اہلِ علم اور اکابر سے سیکھنے کے بھی قائل ہیں۔ اسی مقصد کے لیے لاہور، پورے پاکستان بلکہ بیرونِ ملک سے بھی اکابر کو دعوت دی جاتی ہے۔ ان کے سامنے ادارے کا مشن، تعلیمی نظم اور تربیتی نظام پیش کیا جاتا ہے اور ان سے اصلاح و رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔
اپنے گھروں میں مقصود کے تحت ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اسی طرح ہم اپنے گھروں میں بھی ظاہری تربیت کے ضروری تقاضوں پر عمل کے قائل ہیں۔ مدرسہ کی کوشش یہ ہے کہ صرف اس کا نظریاتی اقرار نہ ہو بلکہ اس پر عملی طور پر بھی عمل ہو، اس کے لیے باقاعدہ کوشش کی جائے اور ایک منظم ماحول قائم کیا جائے۔
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
اسی طرح ہم اپنے گھروں میں بھی ظاہری تربیت کے ضروری تقاضوں پر عمل کے قائل ہیں۔ مدرسہ کی کوشش یہ ہے کہ صرف اس کا نظریاتی اقرار نہ ہو بلکہ اس پر عملی طور پر بھی عمل ہو، اس کے لیے باقاعدہ کوشش کی جائے اور ایک منظم ماحول قائم کیا جائے۔
ظاہری تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
ہم اس بات کے بھی قائل ہیں کہ کسی معتبر ادارے سے ظاہری تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے بعض افراد ہمارے اپنے تربیتی نظم سے وابستہ ہوتے ہیں، جبکہ بعض دیگر مدارس، خانقاہوں یا اللہ کے راستے میں نکلنے والی جماعتوں کے تربیتی نظام سے استفادہ کرتے ہیں۔
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
اللہ کے فضل سے مجلسِ شوریٰ کے اراکین اور ادارے کا دیگر عملہ بھی اہلِ علم سے استفادہ کرنے کا اہتمام کرتا ہے، اور اس پر عملی طور پر بھی کاربند ہے۔
برائے طلباء
مقصود تک پہنچنے کے لیے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہوتاکہ وہ تربیت کے نظم کو بیکار روک ٹوک یا بوجھ نہ سمجھیں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کا تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے والدین
اللہ کے فضل سے والدین کی ظاہری اور باطنی تربیت کے لیے بھی باقاعدہ نظم موجود ہے۔
سال میں ایک مرتبہ خصوصی تربیتی نشست منعقد کی جاتی ہے۔
دو مرتبہ سہ ماہی امتحانات اور سالانہ امتحان کے نتائج کے موقع پر والدین سے تربیتی گفتگو کی جاتی ہے۔
والدین کے مطالعہ کے لیے ایک تربیتی نصاب بھی متعین ہے، اگرچہ فی الحال وہ مطلوبہ حد تک فعال نہیں۔
والدات کے لیے ہفتہ وار کورس جاری ہے۔
والد حضرات کے لیے بھی ایک مستقل کورس موجود ہے۔
جو بچوں کے بہن بھائی اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں، ان کے لیے بھی ہفتہ وار ویک اینڈ کورس کا انتظام کیا گیا ہے۔
اس تمام نظام کا مقصد یہ ہے کہ اگر خاندان کا ایک بچہ مدرسہ سے وابستہ ہو تو اس کا پورا خاندان بھی اس تربیتی ماحول سے جڑے اور اس تربیت سے استفادہ کرے۔
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
ظاہری تربیت کی اہمیت وفوائد بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
اس بات کوماہرین سے سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے کے قابل ہو
باطنی تربیت کے متعلق
باطنی تربیت کی تعریف
باطنی تربیت کی بھی کوئی باقاعدہ تحریری تعریف یا دستاویز موجود نہیں، تاہم اس کا تصور واضح ہے اور اس پر باقاعدہ محنت کی جاتی ہے۔
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
اللہ کے فضل سے مجلسِ شوریٰ، منتظمین، اساتذہ، معاونین، عملہ، والدین اور طلبہ سب کے لیے باطنی تربیت کا اہتمام موجود ہے۔ سب اس کی اہمیت کے قائل ہیں، اس کے مقاصد واضح ہیں، اس کے حصول کی کوشش کرتے ہیں، اور اللہ کے فضل سے اس کے لیے ایک مناسب نظم بھی قائم ہے۔
اپنی ،معاونین اور طلباء کی باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی ،اساتذہ ، دیگر عملہ اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور سے متعلق اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
برائے اساتذہ
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے طلباء
باطنی تربیت کے قائل ہوں
کے دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کا قائل ہوں
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کے تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے والدین
باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
والدین اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں باطنی تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے قابل ہوں
اپڈیٹڈ چیک لسٹ 1
خواب،نظریہ حقیقت پسند انہ اہداف
خواب
برائے مدرسہ
مدرسے کا خواب
خواب کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
خواب(انفرادی) کیا ہے
خواب کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے انفرادی خواب، مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
بیٹے / بیٹی کے متعلق والدہ محترمہ کا خواب
بیٹے /بیٹی کے متعلق والد محترم کا خواب
کیا بیٹے /بیٹی کے متعلق والدمحترم اور والدہ محترمہ کا خواب ہم آہنگ ہے
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح کروا چکے ہیں
کیا والدین کا اپنے بیٹے / بیٹی کے متعلق خواب مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتاہے ؟
نظریہ
برائے مدرسہ
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں مدرسہ کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائےاراکین شوری/مہتمم مدرسہ/منتظمین
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کے نظریات، مدرسہ کےنظریہ کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے اساتذہ
کیا مدرسہ اساتذہ کو اس درجہ کا اعتماد دیتا ہے کہ استاد محترم بند دروازے میں بلا تأ مل اپنے نظریات کا مہتمم / منتظمین اور شوریٰ سے نہ صرف اظہار کرسکیں بلکہ سیرحاصل مذاکرہ بھی ہوسکے
برائے طلباء
کیا مدرسہ طلباء کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کا طریقہ کار سیکھاتا ہے ۔
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کے طریقہ کار سے آگاہ رکھتا ہے تاکہ بچے کے لیے ماحول ساز گار رہے ۔
اہداف
برائے مدرسہ
مدرسہ کے اہداف
ایک سالہ ہدف، 5 سالہ ہدف، 10 سالہ ہدف، 25 سالہ ہدف، 50 سالہ ہدف، 100 سالہ ہدف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباء کےموجودہ سال کے اور پانچ سال کے ذاتی اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے ذاتی اہداف، مدرسے کے اگلے ایک /دو/تین/چار/ پانچ سالہ اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے طلباء
طالب علم کے تعلیمی سال کے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد کے اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا طالب علم کے ذاتی اہداف تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً تعلیمی اور تربیتی اہداف سے اس درجے میں آگاہی دیتا رہتا ہے کہ طالب علم سے متعلق والدین کےتفکرات، تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے رہیں تاکہ طالب علم کے لیے ماحول ساز گار رہے
نظم و نسق کے متعلق
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
مجلس شوریٰ
دو علماء ہونے چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
دینی علمی شعبہ کی تعیین کرنا
مقرر کردہ شعبہ کے لیے اساتذہ کی تقرری کے اصول و ضوابط طے کرنا
دینی تعلیم سے متعلق نظام کو طے کرنا
اختیارات
دینی تعلیمی شعبہ کی تعین ،اساتذہ کی تقرری اور تعلیمی نظام کے متعلق ان کی رائے کو ترجیح دی جائے گی
ایک ماہر عصری تعلیم ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک کاروباری شخص ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک قانونی ماہر ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک امیر صاحب ہونے چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
کم از کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 11 اراکین ہونے چاہیے؟
اجتماعی ذمہ داریاں
اجتماعی اختیارات
مہتمم صاحب
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
منتظمین
ناطم اعلیٰ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
منتظمین دینی علوم
ناظم شعبہ حفظ و ناظرہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم درسی نظامی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم شعبہ تخصصات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم عصری علوم
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم مالیات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم مطبخ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم دار الاقامہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم متفرق امور مدرسہ (صفائی ستھرائی ،بجلی ،پانی ،ترتیب وغیرہ کا نظام )
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم کتب خانہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے اساتذہ
حفظ و ناظرہ کے اساتذ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
درس نظامی کے اساتذہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
تخصصات کے اساتذہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
اساتذہ سے میٹنگز کی پالیسی
میٹنگ میں کھانے کی پالیسی
برائے طلباء
امیر جماعت
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
رہائشی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
غیر رہائشی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے والدین
رہا ئشی طلباء کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
کتب کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
غیر رہائشی کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
کتب کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے دیگر معاونین
چوکیدار
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
باورچی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
صفائی کرنے والے
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مالی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ڈرائیور
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
الیکٹریشن
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
پلمپر
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے مدرسہ
زمین و عمارت کا انتظام
رقبہ و حد بندی
نقشہ
تعلیمی زون
رہائشی زون
مسجد
وضو ایریا
دفاتر
مہمان خانہ
مطبخ ومطعم کی عمارت
اسٹور روم
پارکنگ ایریا
کھیل کا میدان
باغات و شجرکاری
بنیادی سہولیات کا انتظام
بجلی کا نظام
وائرنگ نیٹ ورک
جنریٹر بیک اپ
سولر سسٹم
پانی کا نظام
فلٹریشن یونٹ
گیس سپلائی
سیوریج لائنز
صفائی کا نظام
رہائش و اقامت کا انتظام
استقبال نظام
طلبہ ہاسٹل
اساتذہ رہائش
مہمان رہائش
بستر
الماریاں
پنکھے / کولنگ
لائٹنگ
واش رومز
وضو خانہ
کپڑوں کی دھلائی
خشک کرنے کا نظام
خوراک و مطبخ کا انتظام
اشیائے خوردونوش
اسٹاک کنٹرول
خریداری نظام
سپلائی چین
کھانا پکانے کا نظام
کچن آلات
خوراک کی تقسیم
وقت بندی
صفائی معیار
پینے کا پانی
کولنگ سسٹم
سامان و اثاثہ جات کا انتظام
فرنیچر
بستر
الیکٹرانکس
کمپیوٹرز
ساؤنڈ سسٹم
لائبریری
کتب کا ریکارڈ
گاڑیاں
جنریٹرز
مرمت نظام
مینٹیننس شیڈول
خرابی رپورٹنگ
صحت کا نظام
فرسٹ ایڈ باکس
میڈیکل روم
.
حفاظت کا نظام
آگ بجھانے کے آلات
ایمرجنسی الرٹ
سیکیورٹی سسٹم
گیٹ کنٹرول
داخلی نگرانی
CCTV نگرانی
ہنگامی پروٹوکول
مالی وسائل کا انتظام
آمدنی کے ذرائع
چندہ
زکوٰۃ
عطیات
صدقات
وقف املاک
مالی منصوبہ بندی
بجٹ سازی
اخراجات
تنخواہیں (صرف اخراجاتی پہلو)
کھانے پینےکے اخراجات
یوٹیلٹی بلز
تعمیری اخراجات
مرمت اخراجات
سفر کے اخراجات
تقریبات کے اخراجات
دیگر اخراجات
آڈٹ سسٹم
ریکارڈ تصدیق
اندرونی جانچ
انتظامی ریکارڈ کا نظام
داخلہ ریکارڈ
طلبہ ڈیٹا
داخلہ فارم
رہائش ریکارڈ
ہاسٹل الاٹمنٹ
اثاثہ جات ریکارڈ
سامان کی فہرست
استعمال لاگ
مالی ریکارڈ
آمدنی و اخراجات
دستاویزات
قانونی کاغذات
معاہدات
مواصلات و ٹیکنالوجی
انٹرنیٹ سسٹم
نیٹ ورک انفراسٹرکچر
ڈیجیٹل سسٹم
ویب سائٹ
LMS / پورٹل
اعلاناتی نظام
لاؤڈ اسپیکر
ڈیجیٹل نوٹس
نوٹس بورڈ
ڈیٹا مینجمنٹ
بیک اپ سسٹم
کلاؤڈ اسٹوریج
ڈیٹا مینجمنٹ
ERP سسٹم
دیکھ بھال و ترقی
عمارتوں کی دیکھ بھال
مرمت
حفاظتی جانچ
خوبصورتی و اپ گریڈ
رنگ و روغن
تزئین و آرائش
توسیعی منصوبے
نئی عمارتیں
اضافی بلاکس
سہولیات کی اپ گریڈیشن
جدید آلات
نظام کی بہتری
دار التصنیف
رفاہ عامہ
سہولیات
میڈیکل سہولیات کی پالیسی
قرض کی پالیسی
تقرری معاہدہ
ماہانہ وظیفہ کی پالیسی
رخصت/ چھٹی کی پالیسی
ہدایات برائے عملہ
وقت کی پابندی
ایونٹ مینجمنٹ پالیسیز
ہدیہ پالیسی
تعلیم کے متعلق
تعلیمی شعبہ جات
ناظرہ
حفظ القرآن
روزانہ کا طریقہ کار
مطالعہ
حفظ
سماعت
سبقی
منزل
ہفتہ وار نظام
مجموعی سماعت
غلطیوں کا تجزیہ
ماہانہ نظام
حفظ امتحان
روانی امتحان
تکمیل حفظ
گردان
درس نظامی
بنین
بنات
تخصصات
داخلہ و تعلیمی تشخیص
علمی جانچ
قرآن کریم
عمومی استعداد
عربی
تقریری
تحریری
تعلیمی درجہ بندی
ناظرہ
حفظ
درس نظامی
تخصصات
تعلیمی اہداف
انفرادی اہداف
کمزوریوں کی نشاندہی
ابتدائی معلومات
نام مع ولدیت
عمر
سابقہ تعلیم
مطلوبہ درجہ
تعلیمی منصوبہ بندی
تعلیمی کیلنڈر
تدریسی ایام
تعطیلات
امتحانات
دورات
اصلاحی مجالس
نصاب منصوبہ بندی
روزانہ نصاب
ہفتہ وار نصاب
ماہانہ نصاب
سہ ماہی نصاب
سالانہ نصاب
تعلیم کی بہتری کا معیار
روزانہ
سبق مکمل ہوا؟
ہفتہ وار
اہداف حاصل ہوئے؟
ماہانہ
نصاب رفتار درست ہے؟
ماہانہ جائزہ
سہ ماہی
سہ ماہی نصاب کی مقدار
امتحان
نتائج کا تجزیہ
ششماہی
ششماہی نصاب کی مقدار
امتحان
نتائج کا تجزیہ
سالانہ
Academic Audit
تدریسی نظام
سبق سے پہلے
طالب علم
پیشگی مطالعہ
مشکل مقامات کی نشاندہی
استاد
سبق کی تیاری
تدریسی مقاصد
تدریسی مواد
سبق کے دوران
استاد
تعارف
تشریح
تطبیق
خلاصہ
طالب علم
عبارت
ترجمہ
سوال و جواب
سبق کے بعد
نوٹس
مشق
تکرار
عملی نگرانی
ترقی و اصلاح نظام
کمزور طلبہ
اضافی وقت دینا
خصوصی نگرانی
نمایاں طلبہ
کمزور طلباء کی مدد میں لگانا
اضافی مطالعہ
تحقیق
نصاب بہتری
سالانہ جائزہ
اصلاحات
کارکردگی نگرانی
طالب علم
حاضری
امتحان
مطالعہ
درجات
نصاب کی تکمیل
اوسط کارکردگی
شعبہ جات
حفظ
درس نظامی
تخصص
علمی مہارتوں کا نظام
زبان
اردو
عربی
تحریر
املاء
رموز واوقاف
درست جملہ سازی
پیراگراف نویسی
تقریر
خطاب
تدریس
تحقیق
حوالہ نویسی
مقالہ نویسی
افتاء و استنباط
فقہی تطبیقات
عملی مشق
تعلیمی معاونت
کتب
نصابی
حوالہ جاتی
لائبریری
اجراء
واپسی
ڈیجیٹل مواد
آڈیو
ویڈیو
LMS
امتحانی نظام
روزانہ جائزہ
سبق سننا
ہفتہ وار امتحان
زبانی
تحریری
ماہانہ امتحان
زبانی
تحریری
سہ ماہی امتحان
زبانی
تحریری
سالانہ امتحان
تحریری امتحان
ترقی کا فیصلہ
تصحیحِ امتحانی پرچے، نمبرات کی تعیین اور امتحانی پرچوں کی جانچ کے قواعد
مصححین (پرچے چیک کرنے والوں) سے متعلق قواعد
مراجعین (دوبارہ جانچ کرنے والوں) سے متعلق قواعد
ظاہری تربیت کے متعلق
ظاہری تربیت کی تعریف
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
طے شدہ مقصود کے تحت اپنی ،معاونین اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اپنی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کو کسی ماہر / بڑے سے سیکھنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
ظاہری تربیت سے متعلق امور پر اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
برائے اساتذہ
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے اساتذہ اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ذات کی حد تک ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں مقصود کے تحت ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
ظاہری تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے طلباء
مقصود تک پہنچنے کے لیے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہوتاکہ وہ تربیت کے نظم کو بیکار روک ٹوک یا بوجھ نہ سمجھیں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کا تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے والدین
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
ظاہری تربیت کی اہمیت وفوائد بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
اس بات کوماہرین سے سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے کے قابل ہو
باطنی تربیت کے متعلق
باطنی تربیت کی تعریف
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
اپنی ،معاونین اور طلباء کی باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی ،اساتذہ ، دیگر عملہ اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور سے متعلق اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
برائے اساتذہ
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے طلباء
باطنی تربیت کے قائل ہوں
کے دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کا قائل ہوں
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کے تعاون کرنے کے قابل ہو
برائے والدین
باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
والدین اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں باطنی تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے قابل ہوں
ثانوی کوشش(ورژن-2)
خواب،نظریہ حقیقت پسند انہ اہداف
خواب
برائے مدرسہ
مدرسے کا خواب
خواب کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
خواب(انفرادی) کیا ہے
خواب کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح ہوچکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے انفرادی خواب، مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
بیٹے / بیٹی کے متعلق والدہ محترمہ کا خواب
بیٹے /بیٹی کے متعلق والد محترم کا خواب
کیا بیٹے /بیٹی کے متعلق والدمحترم اور والدہ محترمہ کا خواب ہم آہنگ ہے
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق خواب کی پرکھ اور اصلاح کروا چکے ہیں
کیا والدین کا اپنے بیٹے / بیٹی کے متعلق خواب مدرسہ کے خواب کی موافقت اور معاونت کرتاہے ؟
نظریہ
برائے مدرسہ
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں مدرسہ کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائےاراکین شوری/مہتمم مدرسہ/منتظمین
مقصود تک پہنچنے کے لئے ، ذرائع اختیار کرنے کے بارے میں اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کا نظریہ کیا ہے
نظریہ کے متن کی وضاحت
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق نظریہ کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ اور منتظمین کے نظریات، مدرسہ کےنظریہ کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے اساتذہ
کیا مدرسہ اساتذہ کو اس درجہ کا اعتماد دیتا ہے کہ استاد محترم بند دروازے میں بلا تأ مل اپنے نظریات کا مہتمم / منتظمین اور شوریٰ سے نہ صرف اظہار کرسکیں بلکہ سیرحاصل مذاکرہ بھی ہوسکے
برائے طلباء
کیا مدرسہ طلباء کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کا طریقہ کار سیکھاتا ہے ۔
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً دینی علوم کی حفاظت و اشاعت سے جڑے ضروری نظریات کی تعلیم اور ان کی حفاظت کے طریقہ کار سے آگاہ رکھتا ہے تاکہ بچے کے لیے ماحول ساز گار رہے ۔
اہداف
برائے مدرسہ
مدرسہ کے اہداف
ایک سالہ ہدف، 5 سالہ ہدف، 10 سالہ ہدف، 25 سالہ ہدف، 50 سالہ ہدف، 100 سالہ ہدف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
برائے اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذ/طلباء
اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباء کےموجودہ سال کے اور پانچ سال کے ذاتی اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا اراکین شوریٰ /مہتمم مدرسہ /اساتذاور طلباءکے ذاتی اہداف، مدرسے کے اگلے ایک /دو/تین/چار/ پانچ سالہ اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے طلباء
طالب علم کے تعلیمی سال کے اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد کے اہداف
کیا شریعت کے تقاضوں کے مطابق اہداف کی پرکھ اور اصلاح ہو چکی ہے
کیا طالب علم کے ذاتی اہداف تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے ہیں ؟
برائے والدین
کیا مدرسہ والدین کو وقتاً فوقتاً تعلیمی اور تربیتی اہداف سے اس درجے میں آگاہی دیتا رہتا ہے کہ طالب علم سے متعلق والدین کےتفکرات، تعلیمی اور تربیتی اہداف کی موافقت اور معاونت کرتے رہیں تاکہ طالب علم کے لیے ماحول ساز گار رہے
نظم و نسق کے متعلق
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
مجلس شوری
دو علماء ہونے چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
دینی علمی شعبہ کی تعیین کرنا
مقرر کردہ شعبہ کے لیے اساتذہ کی تقرری کے اصول و ضوابط طے کرنا
دینی تعلیم سے متعلق نظام کو طے کرنا
اختیارات
دینی تعلیمی شعبہ کی تعین ،اساتذہ کی تقرری اور تعلیمی نظام کے متعلق ان کی رائے کو ترجیح دی جائے گی
ایک ماہر عصری تعلیم ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک کاروباری شخص ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک قانونی ماہر ہونا چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ایک امیر صاحب ہونے چاہیے؟
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مجموعی طور پر مجلس شوریٰ کیسی ہونی چاہیے
اجتماعی ذمہ داریاں
نظریاتی و پالیسی امور
تعلیمی پالیسیوں کی منظوری
انتظامی پالیسیوں کی منظوری
اثاثہ جات
زمین اور عمارات کی نگرانی
وقف جائیدادوں کی نگرانی
احتساب
مہتمم کی تقرری
اجتماعی اختیارات
مہتمم کی تقرری یا معزولی
مہتمم صاحب
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
منتظمین
ناظم اعلیٰ
ذمہ داریاں
تعلیمی امور کی نگرانی
طلبہ کی دینی واخلاقی تربیت
اختیارات
مجلس تعلیمی کی سفارشات کو مجلس شویٰ میں پیش کرنا
شعبہ تعلیمات کی رپورٹ مجلس شوریٰ میں پیش کرنا
ناظم شعبہ حفظ و ناظرہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم درسی نظامی
اہلیت
ذمہ داریاں
داخلہ کے امتحانات کا انتظام
نصاب تعلیم میں تبدیلی و ترمیم کی ضرورت
اسباق کی تقسیم
طلباء کے مشاغل علمیہ وعملیہ کی نگرانی
سال میں سہ ماہی وششماہی اور سالانہ امتحان کا انعقاد کرنا
سالانہ امتحان کا رزلٹ پوری کلاس کا اوسطا معلوم کرنا
کلاس میں پڑھائی جانے والی ہر کتاب کا اوسط نتیجہ نکالنا
ہر استاد کی کل کتب کا اوسط رزلٹ معلوم کرنا
اختیارات
ناظم شعبہ تخصصات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم عصری علوم
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم مالیات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ناظم مطبخ
اہلیت
ذمہ داریاں
ہر کلاس کی مطعم میں ایک ہفتہ کھانا کھلانے اور مطعم کی صفائی کا اہتمام
اختیارات
ناظم دار الاقامہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
دار الاقامہ کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی پر طالب علم کے اخراج اختیار ہے
ناظم متفرق امور مدرسہ (صفائی ستھرائی ،بجلی ،پانی ،ترتیب وغیرہ کا نظام )
اہلیت
ذمہ داریاں
ہر جمعرات کو پورے جامعہ کی اجتماعی صفائی کا نظم
ہر منزل میں رہنے والے طلباء کا بیت الخلاء اور وضو خانے کی صفائی کا اہتما م
روزانہ کمروں کی اور اور منزل کی صفائی اور جمعرات کو عمومی صفائی کا اہتمام
اختیارات
ناظم کتب خانہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے اساتذہ
حفظ و ناظرہ کے اساتذ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
درس نظامی کے اساتذہ
اہلیت
ذمہ داریاں
ہر استاذ صاٖحب کامدرسے میں داخل ہوتے ہی بائیو میٹرک کے ذریعے اپنی حاضری کا اندراج کرنا۔
ہر سبق سے قبل طلباء کی حاضری لی جاتی ہے۔
روزانہ طلباء سے سبق سننے کا اہتمام
طلباء سے عبارت سننے کی پابندی
مقدار خوندگی کو مناسب انداز میں چلانا
مقدار خوندگی کو مقررہ وقت پر مکمل کرنا
ہر ماہ کی مقدار خواندگی کو دفتر میں موجود رجسٹر پر درج کرنا
ہر تین ماہ کی مقدار خواندگی کو مقررہ وقت پر مکمل کروانا
طلباء کو تیاری کروانا
تمام اساتذہ کا جامعہ کےہدف پر توجہ دینا
اختیارات
کلاس میں موبائل استعمال پر پابندی۔
تخصصات کے اساتذہ
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے طلباء
امیر جماعت
اہلیت
ذمہ داریاں
تمام کلاسوں کی پورے ہفتے کی حاضری اور رخصت کی الگ الگ رپورٹ تیار کی جاتی ہے۔
اختیارات
رہائشی
بنین
اہلیت
ذمہ داریاں
دار الاقامہ میں مقیم طلبہ کے لئے باہر جانے لئے اجازت ضروری ہے
چھٹی کے علاوہ باقی تمام اوقات میں طلباء کا مدرسہ میں ہونا ضروری ہے
اپنے احباب اور ملنے والوں کو بتا دینا چاہئے کہ وہ صرف عصر ومغرب کے درمیان یا جمعہ کے دن ملاقات کے لئے آیا کریں۔
صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنا
کوڑا مقررہ جگہ پر رکھیں
درسگاہ کمرہ برآمدہ صاف رکھیں
برتن ،کپڑے دھونے کے بعد اس جگہ کو صاف کریں
تمام اشیاء کو سلیقہ اور ترتیب سے رکھیں
صفائی اور تہذیب اخلاق کا نمونہ بنیں
اختیارات
صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنا
دیواروں پر نہ لکھیں
پتھر ڈھیلے لے کر بیت الخلاء نہ جائیں
پتھر ڈھیلے کے بجائےپانی سے استنجاءکریں
بغیر اجازت دار الاقامہ میں کسی کو ٹھہرانے کی اجازت نہیں ہے
مختلف مدارس میں عمومی نظام
بنات
اہلیت
ذمہ داریاں
دورانِ تعلیم طالبات کو مذکورہ امور کی پابندی کرنی ہوگی۔
اپنی وضع قرآن و سنت کے مطابق بنائیں گی۔
نماز بر وقت پابندی سے ادا کریں گی۔
شرعی پردہ کا اہتمام کریں گی۔
مدرسہ میں غیر حاضری کی صورت میں نگران معلمہ کو بروقت اطلاع دیں گی۔
دورانِ تعلیم ناظم صاحب کی اجازت کے بغیر عصری علوم یا پرائیویٹ امتحان میں شرکت نہیں کریں گی۔
معلمہ کو واجبات المدرسیۃ (ہوم ورک)پابندی سے چیک کروائیں گی اور روزانہ سبق یاد کریں گی۔
مدرسہ کے اوقات کے مطابق محرم رشتہ دار کے ساتھ آئیں گی، نا محرم رشتہ دار کے ساتھ آمد و رفت کی اجازت نہیں۔
طالبہ کی تعلیم و رخصت سے متعلق کسی قسم کا رابطہ یا معلومات صرف محرم رشتہ دار کرسکتے ہیں، دیگر سے معذرت کیجائے گی۔
طالبات سے کسی قسم کی فیس نہیں لی جاتی ہے۔
برقعہ پر کسی قسم کی کڑھائی یالیس نہ ہو۔
برقعہ ڈھیلا اور ٹخنوںتک ہو۔
طالبات دستانے اور موزے بھی استعمال کریں۔
پردے کیلئے طالبات حجاب استعمال کریں۔
اختیارات
غیر رہائشی
بنین
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مختلف مدارس میں عمومی نظام
بنات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مختلف مدارس میں عمومی نظام
برائے والدین
رہا ئشی طلباء کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
کتب کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
غیر رہائشی کے والدین
حفظ کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
کتب کے طلباء کے والدین
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے دیگر معاونین
چوکیدار
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
باورچی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
صفائی کرنے والے
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
مالی
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
ڈرائیور
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
الیکٹریشن
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
پلمپر
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
برائے مدرسہ
زمین و عمارت کا انتظام
رقبہ و حد بندی
نقشہ
تعلیمی زون
طالبات کے لیے ایک مستقل الگ عمارت قائم ہے
رہائشی زون
مسجد
وضو ایریا
دفاتر
مہمان خانہ
مطبخ ومطعم کی عمارت
اسٹور روم
پارکنگ ایریا
کھیل کا میدان
باغات و شجرکاری
بنیادی سہولیات کا انتظام
ٹرانسپورٹ
طالبات کی جامعہ آمدو رفت کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہلوت بھی موجود ہے
بجلی کا نظام
وائرنگ نیٹ ورک
جنریٹر بیک اپ
سولر سسٹم
پانی کا نظام
فلٹریشن یونٹ
گیس سپلائی
سیوریج لائنز
صفائی کا نظام
رہائش و اقامت کا انتظام
استقبال نظام
طلبہ ہاسٹل
اساتذہ رہائش
مہمان رہائش
بستر
الماریاں
پنکھے / کولنگ
لائٹنگ
واش رومز
وضو خانہ
کپڑوں کی دھلائی
خشک کرنے کا نظام
خوراک و مطبخ کا انتظام
اشیائے خوردونوش
اسٹاک کنٹرول
خریداری نظام
سپلائی چین
کھانا پکانے کا نظام
کچن آلات
خوراک کی تقسیم
وقت بندی
صفائی معیار
صفائی کا معیار
ہر کلاس کی مطعم میں ایک ہفتہ کھانا کھلانے اور مطعم کی صفائی کا اہتمام ہے
پینے کا پانی
کولنگ سسٹم
سامان و اثاثہ جات کا انتظام
فرنیچر
بستر
الیکٹرانکس
کمپیوٹرز
ساؤنڈ سسٹم
لائبریری
کتب کا ریکارڈ
گاڑیاں
جنریٹرز
مرمت نظام
مینٹیننس شیڈول
خرابی رپورٹنگ
صحت کا نظام
فرسٹ ایڈ باکس
میڈیکل روم
حفاظت کا نظام
آگ بجھانے کے آلات
ایمرجنسی الرٹ
شفاخانہ(ڈسپنسری)
سیکیورٹی سسٹم
گیٹ کنٹرول
داخلی نگرانی
CCTV نگرانی
ہنگامی پروٹوکول
مالی وسائل کا نظم
مالی منصوبہ بندی
بجٹ سازی
آمدنی کے ذرائع
چندہ
زکوٰۃ
عطیات
صدقات
وقف املاک
اخراجات
تنخواہیں (صرف اخراجاتی پہلو)
کھانے پینےکے اخراجات
یوٹیلٹی بلز
تعمیری اخراجات
مرمت اخراجات
سفر کے اخراجات
تقریبات کے اخراجات
دیگر اخراجات
اجتماعی قربانی کا نظم
جامعہ میں اجتماعی قربانی کا نظم کرنا
عید سے 15 دن قبل حکومت سے اجازت طلب کرنا۔
عید سے 2 دن قبل منڈی سے جانوروں کی خریداری کرنا
اجتماعی قربانی کے لیے اساتذہ وطلباء کو مقرر کرنا۔
عید والے دن 5 جگہ کھالیں جمع کرنے کے لیےکیمپ لگانا۔
قربانی والے دن خدمت پر مامور طلباء واساتذہ کو انعام کے طور پر نقدی دینا
آڈٹ سسٹم
ریکارڈ کی تصدیق
اندرونی جانچ
انتظامی ریکارڈ کا نظام
داخلہ ریکارڈ
طلبہ ڈیٹا
داخلہ فارم
رہائش ریکارڈ
ہاسٹل الاٹمنٹ
اثاثہ جات ریکارڈ
سامان کی فہرست
استعمال لاگ
مالی ریکارڈ
آمدنی و اخراجات
دستاویزات
قانونی کاغذات
معاہدات
مواصلات و ٹیکنالوجی
انٹرنیٹ سسٹم
نیٹ ورک انفراسٹرکچر
ڈیجیٹل سسٹم
ویب سائٹ
LMS / پورٹل
ERP سسٹم
اعلاناتی نظام
لاؤڈ اسپیکر
ڈیجیٹل نوٹس
نوٹس بورڈ
ڈیٹا مینجمنٹ
بیک اپ سسٹم
کلاؤڈ اسٹوریج
دیکھ بھال و ترقی
عمارتوں کی دیکھ بھال
مرمت
حفاظتی جانچ
خوبصورتی و اپ گریڈ
رنگ و روغن
تزئین و آرائش
توسیعی منصوبے
نئی عمارتیں
اضافی بلاکس
سہولیات کی اپ گریڈیشن
جدید آلات
نظام کی بہتری
دار التصنیف
جامعہ میں "دار التصنیف "کے نام سے ایک مستقل شعبہ قائم ہے
دار التصنیف " کی مطبوعات میں معارف السنن سر فہرست ہے
دار التصنیف " کی مطبوعات میں نثر الأزھار علی شرح معانی الاٰثار بھی سر فہرست ہے
مجلس دعوت و تحقیق اسلامی
جامعہ میں ایک ادارہ "مجلس دعوت وتحقیق اسلامی "کے نام سے قائم ہے
اس ادارہ سے "کشف النقاب عما یقولہ الترمذی وفی الباب "کے نام سے ایک منفرد اور عظیم کتاب کی پانچ جلدیں چھپ چکی ہیں
ماہنامہ بینات
بینات کے لیے لکھے گئے بعض اہم تحقیقی مضامین اور اداریے مستقل کتابی شکل میں بھی طبع ہوچکے ہیں
اہم فقہی مضامین"فتاوی بینات" کے نام سے ۴ جلدوں پر مشتمل کتابی شکل میں شائع ہوچکے ہیں ۔
البیّنات "کے نام سے ایک سہ ماہی عربی مجلہ بھی شائع ہوتا ہے
"بینات "کے ساتھ انگریزی زبان میں بھی ایک مختصر پرچہ ضمیمہ کے طور پرہرماہ شائع ہوتا ہے ۔
رفاہ عامہ
علامہ بنوری ٹرسٹ
علامہ بنوری ٹرسٹ
تعلیم کے متعلق
تعلیمی شعبہ جات
شعبہ ناظرہ و تجوید
شعبہ حفظ
روزانہ کا طریقہ کار
مطالعہ
حفظ
سماعت
سبقی
منزل
ہفتہ وار نظام
مجموعی سماعت
غلطیوں کا تجزیہ
ماہانہ نظام
حفظ امتحان
روانی امتحان
تکمیل حفظ
گردان
درس نظامی
بنین
متوسطہ
متوسطہ اول
متوسطہ دوم
متوسطہ سوم
متوسطہ سال اول تا سال پنجم
تمہیدی
درجہ اولیٰ
درجہ ثانیہ
درجہ ثالثہ
درجہ رابعہ
درجہ خامسہ
درجہ سادسہ
درجہ سابعہ
دورہ حدیث
بنات
درجہ ثانویہ خاصہ سال اول
درجہ ثانویہ خاصہ سال دوم
درجہ عالیہ سال اول
درجہ عالیہ سال دوم
درجہ عالمیہ سال اول
درجہ عالمیہ سال دوم
دراسات دینیہ
تخصصات
تخصص فی القراء ا ت
خصوصیات
بہترین کارکردگی دکھانے والے شریک کےلیے سال کے اختتام پر حسب معمول جامعۃ الرشید دینی خدمت کے مواقع فراہم کریگا
نصاب(جامعۃ الرشید )
نورانی قاعدہ
بچوں کی تعلیمی نفسیات
آداب تدریس : قاعده / ناظره / حفظ / گردان / تجوید وقراءات پڑھانے کی تربیت
آداب نظامت ،ادارہ تحفیظ کو قائم کرنے اور اسے چلانے کا انتظام و انصرام
اذان واقامت / امامت و خطابت تراویح اور مسجد سے منسلک دیگر ذمہ داریوں کی عملی تربیت
شعبہ حفظ میں عصریات کا امتزاج
تجوید
وقوف
قراءات عشرہ
فواصل
رسم
ضبط
حجة القراءات
معانى القراءات
قراءت عشرہ کے مروجہ نصاب کے ساتھ درج ذیل امور کا اہتمام کیا جاتا ہے
شاطبیہ /درہ اور المقدمة الجزریۃ کے اصولی 600 ابیات کا مکمل حفظ
بیس (20) روایات میں عمل قرآن کریم کا فردا اجراء
جمع الجمع میں منتخب حصے کا اجراء
قراءات سے متعلقہ علوم وفنون (وقف /ضبط /فواصل/ اور علم الرسم) کی تدریس
تجوید اور ادا پر خاص توجہ عملی مشق واجراء کے ساتھ
سہولیات وغیرہ
امتحان داخلہ میں منتخب ہونے والے طلباء کو قیام و طعام کی سہولت اور دو ہزار چار سو بیس روپے وظیفہ دیا جائے گا۔
نصاب (جامعہ دار العلوم کراچی)
سال اول
عشرہ کبری (طیبۃ النشر، اصول) کی تعلیم دی جاتی ہے۔
طبقات القراء کا مطالعہ کرایا جاتا ہے اور مختلف مضامین لکھوائے جاتے ہیں۔
علم الرسم اور علم الضبط کی تعلیم دی جاتی ہے اور اہم مباحث لکھوائے جاتے ہیں۔
علم التجوید اور علم الوقف میں گہرائی پیدا کرائی جاتی ہے۔
قراآت کا افراداً اجراء کرایا جاتا ہے، تاکہ مختلف قراآت میں بے تکلف تلاوت کرسکیں
بحث و تحقیق کا طریقہ کار سکھایا جاتا ہے۔
سال دوم
عشرہ کبریٰ (طیبۃ النشر، فرش) کی تعلیم دی جاتی ہے۔
قراآتِ مختلفہ کا افراداً مزید اجراء کرایا جاتا ہے۔
تفسیر ابی سعود کا ایک مخصوص حصہ باقاعدہ پڑھایا جاتا ہے۔
علم عدالآیات پر ایک تحقیقی مضمون لکھوایا جاتا ہے۔
علم توجیہ القراآت کا باقاعدہ درس ہوتا ہے۔
اصولِ حدیث اور اسماء الرجال کی روشنی میں دفاعِ قراآت کی تعلیم دی جاتی ہے۔
فنونِ قراآت سے متعلق ایک تحقیقی مقالہ لکھوایا جاتا ہے۔
تجوید و قراآت کی تدریس کی عملی تربیت دی جاتی ہے۔
تخصص فی الحدیث
ایک سالہ تخصص فی الحدیث
نمایاں خصوصیات
جدید منابع تحقیق (ریسرچ میتھاڈولوجی) کے مطابق مقالہ نویسی
نما یا ں خصو صیات
علل الحدیث پر خصوصی توجہ
فتاوی حدیثیہ پر خصوصی توجہ
دراستہ الاسانید کا جامع منہج
تخریج حدیث کی عملی مشق
تحقیقی مقالہ نویسی
ماہرین فن کے محاضرات
علم اسماء الرجال اور کتب رجال کا جامع تعارف
مطالعہ اور تحقیق کے لئے سازگارماحول
تخصص فی الفقہ وفقہ الحلال
نما یا ں خصو صیات
موٹیویشنل ورکشاپس:
فقہ الحلال کا جا مع نصاب
حلال معیا رات کی تدریس
اہم انڈ سٹریز کے ماہا نہ دورے
حلال تصدیق کے مکمل نظام سے آگا ہی
فقہ المعاملات
خصوصیات
علمی مباحثوں اور انعامی تقریری مقابلوں کی تربیت
انگریزی کا ایک سالہ معیاری ڈپلومہ پروگرام
معاملات سے تعلق ابواب کی اختصاصی تدریس و عملی مشق
فقہ الواقع اور فقہ الحکم کا امتزاج
کاروباری اور تجارتی اداروں کے تعلیمی دورے اور انٹر نشپ کے مواقع
ایم ایس سے پہلے فاؤنڈیشن کو رسز
الغزالی یونیورسٹی سے ایم ایس اسلامک بینکنگ اینڈ فائنانس کا موقع
سہولت
میرٹ اور ضرورت کی بنیاد پر 75فیصد تک اسکالرشپ
طلباء کے لیے جامعۃ الرشید کراچی میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہاسٹل کی سہولت مفت مہیا کی جاتی ہے۔ اس میں کھانا، پینے کے لیے صاف پانی، گرمیوں میں ٹھنڈا پانی، اسی طرح سردیوں میں گیزر وغیرہ کی سہولیات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جامعہ میں پڑھنے والے مستحق طلباء کے لیے کورسز کی فیس وغیرہ معافی کی سہولت دی جاتی ہے۔ اوراس کے ساتھ ہی جامعۃ الرشید کراچی میں پڑھنے والے مستحق طلباء جو ضرورت مند ہوں ۔اور جامعہ کے میرٹ پر پورا اتریں۔ ایسے طلباء کو ماہانہ 6500 روپے وظیفہ دیا جاتا ہے۔
تجوید للعلماء
ایک سالہ تجوید للعلماء کورس جوکہ وفاق المدارس العربیہ سے منظور شدہ ہے۔
امتحان داخلہ میں منتخب ہونے والے طلباء کو قیام و طعام کی سہولت اور دو ہزار چار سو بیس روپے وظیفہ دیا جائے گا۔
دوران سال 50 چھٹیوں پر مکمل وظیفہ سوخت ہو جائے گا۔
سوگھنٹے کی غیر حاضریوں سالانہ امتحان سے روکا جائے گا۔
کم از کم 3 اور زیادہ سے زیاد 20 طلباء کو داخلہ دیا جائے گا۔
شعبہ تجوید کا نظم
تخصص کلیۃ الدعوۃ
نصاب
تحفیظ ، تجوید، قراءات اور امامت و خطابت کے متعلق اہم شارٹ کورسز اور ورکشاپس
فقہ الدعوۃ
السیرۃ النبویہ
ماہانہ مقالہ
اسلوب الدعوہ
التاریخ الاسلامی
العربیۃ بین یدیک
الغزو الفکری
حاضر العالم الاسلامی
تقابل ادیان و فرق
تخصص فی الغۃ العربیۃ
نما یا ں خصو صیات
مصطلحات حدیث کی تدریس کا منفرد اسلوب
عربی زبان کی چاروں مہارتوں پر محنت
عرب ادیبوں سے لہجہ و تعبیر کا اخذ مواقع
صوتیات مرئیات کے ذریعے سیکھنے میں آسانی
تخصص کلیۃ الدعوہ
کلیۃ الفنون
خصوصیات
حفظ حدیث
نصاب
کالم نگاری کورس
متفرق اصناف صحافت
فن خطابت کورس
جغرافیہ کورس
فلکیات کورس
انگلش کورس
کمپیوٹر کورس
تخصص فی الافتاء
نمایاں خصوصیات
تدریس فقہ کافنی اسلوب و منہج
فقه القضاء اور فقہ الاقتصاد پر خصوصی توجہ
جدید فقہی مسائل سے آگاہی اور تمرین
سال اول
نصاب
اصول الافتاء، مقدمہ الدر المختار، السراجی فی المیراث، الدر المختار با عانت شامی یا طحطاوی،
اصول الکرخی، امداد الفتاویٰ(جلد اول تا پنجم)، آلات جدیدہ، رویت ہلال،
ضابط المفطرات، تاریخ التشریع الاسلامی، مقدمہ تدوین فقہ، تحریر کیسے سیکھیں،
حیلہ ناجزہ مسئلہ سود
پراویڈنٹ فنڈ اسلام کا نظام اراضی بیمہ زندگی مع جائزہ نظام تکافل
انسانی اعضاء کی پیوندکاری ایمان اور کفر قرآن کی روشنی میں
وحدت امت انگریزی ۸۰ فتاویٰ
سال دوم
نصاب
لاشباہ والنظائر الدر المختار باعانت شامی یا طحطاوی جواہر الفقہ
امداد الاحکام ملکیت زمین اور اس کی تحدید بحوث فی قضایا فقہیۃ
عدالتی فیصلے امداد المفتین فہم الفلکیات باعانت آسان فلکیات
انگریزی کمپیوٹر ۲۱۰ فتاویٰ
سال سوم
نصاب
المعاییر الشرعیہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا رائج الوقت آئین بمع جملہ ترامیم
اسلامی قوانین ۱۹۸۲ء ۲۲ نکات پر علماء کا متفقہ فیصلہ ۲۵۰فتاویٰ کی تخریج و تحقیق
انگریزی مقالہ نویسی یا تبویب فتاویٰ
تدوین فتاویٰ
جامعہ کے تمام فتاویٰ جات کو یکجا کرکے مجموعہ فتویٰ تیار کیا جارہاہے
دیگر تعلیمی شعبہ جات
معہد کا نظم
حفاظ عربک 4 سالہ کورس
تعلیم بالغان
قرآن مجید کو تجوید سے پڑھنے اور بنیادی دینی علوم کو سکھانے کا اہتمام کیا جاتا ہے
ایام تعلیم: ہفتے میں پانچ دن (علاوہ جمعہ، اتوار)
مضامین: اسلامی عقائد، ترجمہ قرآن کریم، حدیث، فقہ، عربی زبان
مغرب کے بعد ان کی کلاسیں ہوتی ہیں
جامعہ کے خدام و معاونین کااس کورس میں شریک ہونا لازم ہے
پوسٹ گریجویشن کورس برائے یونیورسٹی گریجویٹس
تدریب المعلمین
مکاتب الرشید
جامعہ ام حبیبہ للبنات
البیرونی ماڈل سکنڈری سکول اور انٹرمیڈیٹ کالج
الصفہ
کراچی انسٹیٹیوٹ آف منیجمنٹ اینڈ سائنسز
ماوی ہومز
صفہ اکیڈمی
البیرونی گرلز سیکنڈری سکول
دراسات دینیہ
دورۂ تدریبیہ
دورانیہ
ا دورانیہ تقریباً چالیس دن ہوتا ہے
مقصد
اہل سنت والجماعت کے مسلک کے بارے میں علی وجہ البصیرت مہارت و کمال پیدا کرنا
دینی تربیتی کورس
سکول و کالج کے طلباء کے لیے چالیس روزہ دینی تربیتی کورس کا اہتمام ہوتا ہے
دینی تربیتی کورس کا نصاب اساتذہ کی نگرانی میں تیار کیا جاتا ہے
جامعہ کے درجہ حفظ کے کامل الحفظ طلباء کے لیے دینی تربیتی کورس میں شرکت لازمی ہے
دینی تربیتی کورس کا اہتمام جامعہ کی طرف سے ملک اور بیرون ملک متعدد مقامات پر کیا جاتا ہے
عصری علوم کے شعبہ جات
اولی مع میٹرک برائے حفاظ
مدرسہ ابتدائیہ (پرائمری اسکول)
مدرسہ ثانویہ (سیکنڈری اسکول)
فوڈ سا ئینسز
تعلیمی منصوبہ بندی
ابتدائی مشاورت
8شوال کو اساتذہ کا مشورہ ہوتاہے
9شوال کو اسباق کی تقسیم ہوتی ہے اور داخلہ سے متعلق بات کی جاتی ہے
اسباق کی عارضی تقسیم ۔
آئندہ سال داخلوں کے طریقہ کار پر مشاورت۔
پورا سال اسباق کی تدریس کیسی رہی اس کا جائزہ۔
کوائف داخلہ اور شرائط داخلہ پر غور و فکر۔
تعلیمی کیلنڈر
تدریسی اوقات
صبح 7 بجےسے 12 بجے تک اسباق
ظہر تا عصر اسباق
صبح 7 بجےسے 12 بجے تک اسباق اور ظہرتا عصر
دورہ حدیث کے اسباق مغرب اور عشاء کے بعد بھی ہوتے ہیں
ظہر کے بعد کچھ کلاسوں کا تکراراور کچھ کتب کا سبق
اوقات تعلیم: صبح 7:00 بجے تا 9:30 بجے / شام مغرب تا 10:00 بجے
طالبات کے لیے بھی تعلیمی گھنٹے چھ ہیں
جامعہ میں درس کے لیے یومیہ چھے گھنٹے مقرر ہیں
عشاء کے بعد تکرار کی پابندی
درجہ ثانیہ و ثالثہ کا ظہر کے فورا بعد تکرار تا نماز عصر
مغرب کے بعد مطالعہ کا اہتمام
تدریسی ایام
16شوال سے پڑھائی کا آغاز کیا جاتاہے۔
جامعہ دارالعلوم کراچی میں تعلیمی دورانیہ ۱۶ شوال تا ۱۵ شعبان ہے
تعطیلات
ہفتہ وار تعطیل
ہفتہ شام سے اتور شام تک ایک دن کی چھٹی
سہ ماہی امتحان کی چھٹی کا نظم
ششماہی امتحان کی چھٹی کا نظم
سالانہ تعطیلات دوماہ ہوتی ہیں، عید الاضحیٰ کے موقع پر بھی دس روز کی تعطیل ہوتی ہے جبکہ ہفتہ وار چھٹی جمعہ کو ہوتی ہے۔
جو استاذ صاحب 12 دن سے جتنے کم دن چھٹی کرے گا اتنے دنوں کا اضافی وظیفہ دیا جائے گا
جس استاد کی کتب کا مجموعی رزلٹ 70 فیصد سے کم ہو تو اس کو ایک تنبیہی لیٹر لکھا جاتا ہے
مربی استاد کو تین دن کی چھٹی دینے کی اجازت ہوتی ہے۔
تین دن سے زائد رخصت لینے کی صورت میں مربی اور نگران استاذ کے دستخط کے بعد ناظم تعلیمات چھٹی دیتا ہے۔
امتحانات
جامعہ کے تمام تعلیمی شعبوں میں سال میں تین امتحانات لئے جاتے ہیں
طلباء سے سال مین دو ٹیسٹ اور تین امتحان لیے جاتے ہیں
ایک ٹیسٹ بقرہ عید کی تعطیلات سے قبل اور ایک سالانہ امتحان سے قبل
دورات
دورۂ تدریبیہ
دورانیہ
ا دورانیہ تقریباً چالیس دن ہوتا ہے
دینی تربیتی کورس
سکول و کالج کے طلباء کے لیے چالیس روزہ دینی تربیتی کورس کا اہتمام ہوتا ہے
اصلاحی مجالس
نصاب کی منصوبہ بندی
روزانہ
ہفتہ وار نصاب
ماہانہ نصاب
سہ ماہی نصاب
ششماہی نصاب
سالانہ نصاب
داخلہ و تعلیمی تشخیص
ابتدائی معلومات
نام مع ولدیت
عمر
سابقہ تعلیم
مطلوبہ درجہ
تعلیمی درجہ بندی
ناظرہ
حفظ
درس نظامی
تخصصات
علمی جانچ
قرآن کریم
عربی
تقریری
تحریری
درجہ وار کتب برائے جائزہ
حفظ
تحریری امتحان
تقریری امتحان
درست ناظره قرآن مجید
ابتدائیہ
تحریری امتحان
تقریری امتحان
قاعده و ناظره
تمہیدی
تحریری امتحان
اردو و انگریزی ( حروف تیجی )، ریاضی (1 سے 100 تک گنتی)
تقریری امتحان
اولیٰ
تحریری امتحان
آٹھویں جماعت کی اردو، ریاضی اور انگریزی / یادداشت
تقریری امتحان
اولیٰ طالبات
تحریری امتحان
میٹرک کی انگلش ، ریاضی اور اردو
تقریری امتحان
اعدادیہ اول
تحریری امتحان
جماعت پنجم کی اردو، انگریزی، سائنس اور ریاضی
تقریری امتحان
اعدادیہ اول طالبات
تحریری امتحان
جماعت سوم کی اردو، انگلش ، ریاضی
تقریری امتحان
سابعہ
تحریری امتحان
جلالین، ہدایہ جلد ثانی
تقریری امتحان
شرح العقائد
دورہ حدیث
تحریری امتحان
مشکوٰۃ المصابیح، شرح نخبۃ الفکر
تقریری امتحان
ہدایہ جلد رابع ، مکمل پارہ عم حفظ
دراسات دینیہ
تحریری امتحان
ناظرہ قرآن مجید اور اردو نوشت وخواند
تقریری امتحان
تخصصات
تحریری امتحان
ترمذی، شرح نخبۃ الفکر، منتخب الحسامی، ہدایہ جلد رابع
تقریری امتحان
ہدایہ جلد ثالث
شرائط داخلہ
حفظ
قرآن مجید ( ناظرہ) صحیح تلفظ کے ساتھ پڑھا ہو ۔
طلبہ اپنے یا والد کے شناختی کارڈ کی نقل ہمراہ لائیں۔
فارم ب یا پیدائشی سرٹیفکیٹ کی کاپی ۔
طلبہ تین عدد پاسپورٹ سائز تصاویر ضرور ہمراہ لائیں جو ناقابل واپسی ہوں گی
اصل اسناد ہمراہ لائیں
اسناد اور مارکس شیٹ کی تصدیق شدہ نقول قابل قبول ہوں گی۔
اپنے علاقے کے کسی با اثر عالم دین / ڈسٹرک خطیب / کونسلر یا کسی 17 گریڈ کے افسر کا ضمانت نامہ لائیں
درس نظامی
عمومی شرائط
کسی بھی درجہ میں داخلہ کے لیے سابقہ اسناد لانا ضروری ہے
سرپرست کے شناختی کارڈ کی کاپی
طالب علم کے شناختی کارڈ کی کاپی
تحری ٹیسٹ میں پاس ہونا ضروری ہے
انٹرویومیں کامیابی پر داخلہ ہوگا
طلباء کے لیے جامعہ کے قواعد وضوابط کی پابندی کرنا ضروری ہے
طالب علم کے لیے صحیح العقیدہ مسلمان ہونا ضروری ہے
طالب علم میٹرک پاس ہو
حتمی داخلہ کا اعلان رمضان میں کردیا جاتا ہے
جدید طلبہ کے لیے قابل اعتماد ضمانت نامہ پر کرنا ضروری ہے
دار العلوم میں کرایہ کا مکان کا انتظام ادارہ کے ذمہ نہیں ہے
۶- کسی بھی درجہ میں داخلہ کے لئے اس سے پچھلے درجہ کی تمام ’’معیاری کتب‘‘ کا امتحان لیا جاتا ہے۔مثلاًدرجۂ ثانیہ میں داخلہ کے لئے درجۂ اُولیٰ کی معیاری کتب کا امتحان لیا جائے گا۔
ہر طالب علم کا پہلے تحریری پھر تقریری امتحان ہوگا
ہر درجہ کے لیے طلباء کی تعداد متعین ہے
رہائش کی گنجائش نہ ہوتو داخلہ بلا رہائش دیاجاسکے گا
رہائشی داخلہ کے لیے 14 کی عمر ہونا ضروری ہے
چودہ سال سے کم عمر والےکے لیے رہائشی داخلہ نہیں ہے
اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ اصلی شناختی کارڈ اور اس کی دو عدد فوٹو کاپی لائیں اور حالیہ بنی ہوئی دو تصویریں لائیں۔
اٹھارہ سال سے کم عمر کے طلبہ فارم ب اور حالیہ بنی ہوئی دو تصویریں لائیں۔
داخلے کے خواہش مند تمام طلبہ اپنے والد / رشتہ دار سرپرست کے شناختی کارڈ کی مصدقہ فوٹو کاپی اور فون نمبر لائیں۔
سابقہ وفاقی درجہ کی کشف الدرجات یا وفاق کا مصدقہ نتیجہ اور اس کی ایک فوٹو کاپی لائیں۔
درجہ اولیٰ کے علاوہ تمام درجات کے طلبہ وفاق المدارس کا رجسٹریشن کارڈ لازمی طور پر پیش کریں۔
درجہ اولیٰ کے لیے متوسطہ سوم کا کشف الدرجات یا مڈل کا مصدقہ سرٹیفکیٹ اور اس کی فوٹو کاپی لائیں۔
تمام درجات کے تحریری امتحان میں خوش نویسی اور عربی انشاء کے نمبرات بھی شامل ہوں گے۔
سرپرست رشتہ دار سے مراد طالب علم کا وہ قریبی عزیز ہوگا
اولیٰ میں داخلہ کے لیے متوسطہ پاس ہونا ضروری ہے
درجہ اولیٰ سے درجہ رابعہ تک کسی طالب علم کو عصری تعلیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں ۔
درجہ خامسہ سے دورہ حدیث تک عصری تعلیم کی صرف انہیں طلباء کو اجازت دی جاتی ہے جو مدرسے کے امتحان میں 80 فیصد سے زائد نمبر لے سکتا ہو۔
فوقانی درجات میں عصری علوم کے صرف پرچہ دینے کی چھٹی طالب علم کو دی جاتی ہے ، امتحان کی تیاری کی الگ سے رخصت نہیں دی جاتی ۔
متوسطہ
پانچ سالہ متوسطہ میں داخلہ کی شرائط
متوسطہ کے سال اول میں 15 سال سے زائد عمر کا داخلہ نہیں مل سکتا
تمہیدی میں داخلہ کی شرائط
تحری ٹیسٹ میں پاس ہونا ضروری ہے
تمہیدی(عمر 10 سے 12 سال)
بیس (20) سال سے زائد عمر والا داخلہ کا اہل نہیں ہے
عمر 19 سال سے زائد نہ ہو
حافظ قرآن
میٹرک کی ہوئی ہو
درجہ اولیٰ
متوسطہ سوم میں جید یا مڈل پاس
درجہ ثانویہ عامہ
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
درجہ اولی کا تصدیق شدہ نتیجہ موجود ہو
درجہ اولی کا وفاق کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن کارڈ اور میٹرک کا رزلٹ کارڈ ہونا ضروری ہے
درجہ ثالثہ
درجہ ثالثہ تک کسی درجہ میں جدید داخلہ نہیں دیا جاتا سوائے اس طالب علم کے جو پہلے کسی ادرے میں عربی پڑھ کر آیا ہو
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
انٹر پاس کرنے کا رزلٹ کارڈ موجود ہونا لازمی ہے۔
درجہ رابعہ
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
ایسوسی ایٹ ڈگری یا انٹر یا میٹرک کم از کم بی گریڈ سے پاس ہو۔
درجہ خامسہ
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
ایسوسی ایٹ ڈگری یا انٹر پاس ہو۔
درجہ سادسہ
سابقہ درجات میں ممتازنتائج ہونا لازمی ہے
عصری تعلیم کم از کم گریجویشن ہونا لازمی ہے
درجہ سابعہ
سابعہ (سادسہ میں جید جدا (360 نمبر)
دورہ حدیث
دورہ حدیث( سابعہ میں جید جدا (360 نمبر)
درجہ عربی سال اول
درجہ عربی سال اول میں داخلہ کیلئے میٹرک یا اسکے مساوی استعداد کا حامل ہونا ضروری ہے۔
درس نظامی بنات(لڑکیوں کیلئے)
درسِ نظامی کیلئے میٹرک پاس ہونا ضروری ہے۔
اعدادیہ اول طالبات(جماعت سوم پاس، ناظرہ قرآن مجید)
قرآن کریم ناظرہ باتجوید مکمل پڑھا ہوا ہو۔
امتحان (ناظرہ: قرآن کریم، تحریری ٹیسٹ : اردو، ریاضی، انگریزی) میں کامیابی
کلمے، نماز، مسنون دعائیں حفظ یاد ہوں۔
اولیٰ طالبات (میٹرک پاس)
جامعہ دار العلوم کراچی کے قابل اعتماد کی ضمانت بھی ہو۔
تخصصات
سابعہ اور دورہ حدیث میں 70فیصد نمبر ہونا ضروری ہے
تخصص فی الافتاء
دورہ حدیث شریف کے سالانہ امتحان میں کم از کم 70 فیصد
تخصص فی الفقہ (فاضل جامعہ)دورہ حدیث کے تینوں امتحانات میں 70 فیصد (1540 نمبر)
تخصص فی الفقہ (دورہ حدیث میں ممتاز)
داخلہ امتحان (تحریری اورتقریری امتحان) میں نمایاں کامیابی
علاقہ کےمعروف اور معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ سا تھ لا ئیں
تخصص فی الحدیث
دورہ حدیث شریف کے سالانہ امتحان میں کم از کم ممتاز
داخلہ امتحان (تحریری اورتقریری امتحان) میں نمایاں کامیابی
تخصص فی الحدیث ( دورہ حدیث 70 فیصد (420 نمبر)
علاقہ کےمعروف اور معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ سا تھ لا ئیں
تخصص فی الغۃ العربیۃ
دورہ حدیث
علاقے کے معروف و معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ ساتھ لائیں
تخصص فی القراء ا ت
دورہ حدیث اور حفظ کی اسناد
شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی
دو عدد تصاویر اور ضمانت نامہ
کلیۃ الدعوۃ
دورہ حدیث
تخصص فی الدعوۃ والارشاددورہ (حدیث میں 70 فیصد (420 نمبر)
علاقے کے معروف و معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ ساتھ لائیں
کلیۃ الفنون
درس نظامی کے ساتھ کم ازکم انٹر تک تعلیم
عمر کی حد 26 سال
کمپیوٹر کی بنیادی معلومات
اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ ساتھ ہو
انگلش لینگویج کورس
دورہ حدیث شریف
عصری تعلیم کم از کم میٹرک
علاقہ کےمعروف اور معتبر عالم دین کا تصدیق نامہ سا تھ لا ئیں
تجوید للعلماء
ناظرہ قرآن مجید صحیح تلفظ کے ساتھاور روانیکے ساتھ پڑھنا آتا ہو
حافظ قرآن ہونا قابل ترجیح
کسی مستند دینی مدرسے تکمیل کم از کم 50 فیصد اور درجہ جید میں کامیاب ہوا ہو
تجوید للعلماء (دورہ حدیث میں 50 فیصد (300 نمبر) (حافظ قرآن قابل ترجیح)
درجہ ممتاز میں کامیابی اور وفاق المدارس کی سند کا حامل ہونا قابل ترجیح ہوگا
حفاظ عربک کی داخلہ شرائط
حفاظ عربک 4 سالہ کورس کی داخلہ شرائط
حافظ قرآن
کم از کم 4 جماعت سکول پڑھا ہوا ہو
13 سال سے زائد عمر نہ ہو
دو عدد تازہ تصاویر
سرپرست کے شناختی کارڈ کی کاپی
طالب علم کےب فارم کی کاپی
تحری ٹیسٹ میں پاس ہونا ضروری ہے
انٹرویومیں کامیابی پر داخلہ ہوگا
بیرون کے طلبہ کے لیے
قرآن کریم "ناظرہ "پڑھ چکا ہو اور تھوڑی بہت عربی زبان جانتا ہو یا سمجھ سکتا ہو۔
اردو ،عربی سے کچھ نہ کچھ مناسبت ہونا ضروری ہے
سیاحت یا کسی اور قسم کے ویزے پر داخلہ نہیں دیاجاتا۔
مستحق طلبہ کو داخلہ کے بعد سے تعلیم، کتب، علاج، کھانے پینے اور جامعہ کے اندر رہائش کی سہولتیں مفت مہیا کی جاتی ہیں
داخلہ کا طریقہٴ کار
سابقہ درجہ کا امتحان دینا ضروری ہے
تعلیمی استعداد کے ساتھ ذہنی وفکری رجحان کی جانچ بھی ضروری ہوتی ہے
داخلہ کا امتحان اور جائزہ تین مراحل پر مشتمل ہوتاہے :
پہلا مرحلہ
طالب علم سے ناظرہ قرآن مجید ،نماز اور دعاؤں کا امتحان لیا جاتا ہے
دوسرا مرحلہ
پہلے مرحلہ میں کامیاب امیدواروں کا مطلوبہ درجہ کے لیے تحریری امتحان لیاجاتا ہے۔
تیسرا مرحلہ
تحریری امتحان میں کامیاب طلبہ کا سابقہ درجہ کی منتخب کتب کا تقریری امتحان لیا جاتا ہے
اس مرحلہ میں کامیاب طالب علم کو داخلہ فارم دیا جاتا ہے
14شوال کو جدید داخلوں کا تحریری و تقریری ٹیسٹ لیا جاتا ہے اور انٹرویو کیا جاتاہے۔
3دن تک داخلہ فارم وصول کیے جاتے ہیں۔
15شوال کو ظہر کے بعد جدید داخلوں کا نتیجہ بتایا جاتا ہے
10شوال سے 15 شوال تک قدیم طلباء کا اندراج کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ جامعہ اور اس کی تمام شاخوں میں داخلہ مرکز ہی سے ہوتا ہے ۔
ہدایات برائے تجدید داخلہ
جو طلبہ ایک شاخ سے دوسری شاخ یا مرکز میں منتقل ہوں گے ان کا تجدید داخلہ بھی ان کی متعلقہ شاخ میں ہوگا۔
تجدید داخلہ کے لیے درج ذیل کوائف ہمراہ لائیں
اپنا سابقہ کوائف فارم متعلقہ ناظم دفتر سے حاصل کرکے اس کے مندرجات کی تصحیح کریں۔
اٹھارہ سال یا اس سے زائد عمر کے طلبہ اصلی شناختی کارڈ اور اس کی ایک عدد فوٹو کاپی لائیں۔
تمام قدیم طلبہ اپنے رشتہ دار سرپرست کے شناختی کارڈ کی مصدقہ فوٹو کاپی اور فون نمبر لائیں۔
جن طلبہ کے گزشتہ سال کے کوائف ناقص تھے وہ مطلوبہ کوائف اپنے ہمراہ ضرور لائیں۔
سابقہ دینی وعصری تعلیم کی تمام اسناد کی ایک ایک مصدقہ فوٹو کاپی اپنے ہمراہ لائیں۔
تعلیمی اہداف
انفرادی اہداف
کمزوریوں کی نشاندہی
تدریسی نظام
سبق سے پہلے
طالب علم
پیشگی مطالعہ
مغرب کے بعد مطالعہ کا اہتمام
مشکل مقامات کی نشاندہی
استاد
سبق کی تیاری
تدریسی مقاصد
تدریسی مواد
سبق کے دوران
استاد
تعارف
تشریح
تطبیق
خلاصہ
طالب علم
عبارت
ترجمہ
سوال و جواب
سبق کے بعد
نوٹس
مشق
تکرار
عشاء کے بعد تکرار کی پابندی
درجہ ثانیہ و ثالثہ کا ظہر کے فورا بعد تکرار تا نماز عصر
ظہر کے بعد کچھ کلاسوں کا تکراراور کچھ کتب کا سبق
درجہ رابعہ تا سادسہ ظہر کے دوسرے گھنٹے میں تکرار تا نماز عصر
عملی نگرانی
تعلیم کی بہتری کا معیار
روزانہ
سبق مکمل ہوا؟
ہفتہ وار
اہداف حاصل ہوئے؟
ماہانہ
نصاب رفتار درست ہے؟
ماہانہ جائزہ
سہ ماہی
سہ ماہی نصاب کی مقدار
امتحان
نتائج کا تجزیہ
ششماہی
ششماہی نصاب کی مقدار
امتحان
نتائج کا تجزیہ
سالانہ
تعلیمی نظم کا احتسابی جائزہ
امتحانی نظام
روزانہ جائزہ
سبق سننا
ہفتہ وار امتحان
زبانی
تحریری
ماہانہ امتحان
زبانی
تحریری
سہ ماہی امتحان
زبانی
تحریری امتحان سے ایک دن قبل 3 کتب کاتقریری امتحان لینا۔
سہ ماہی امتحان میں تین کتب کا تقریری امتحان لیا جاتا ہے۔
تحریری
6پیپر زپر مشتمل تحریری امتحان کا انعقاد۔
تما م کتب کا سہ ماہی تحریری امتحان ہوتا ہے۔
درجہ اولیٰ سے ثالثہ تک ہر سہ ماہی پر ایک کلاس کا عربی میں مقالہ لکھنا
مذکورہ کلاسیں ہر سہ ماہی پر ایک جداریہ تیار کریں گے
درجہ رابعہ سے دورہ حدیث تک ہر سہ ماہی پر مختلف موضوعات پر مقالہ لکھنے کا اہتمام کرنا
ششماہی امتحان
زبانی
ششماہی امتحان کے موقع پر تین کتب کاتقریری امتحان جامعہ کے اساتذہ کے علاوہ باہر کے علماء سے دلوایا جاتا ہے۔
تقریری امتحان کے لیے باہر سے اساتذہ کو مدعو کیا جاتا ہے۔
تحریری
امتحانات سے چندروز قبل طلبہ کے رول نمبرنوٹس بورڈ پر لگائے جاتے ہیں اور امتحان کے نظام الاوقات کا اعلان کردیا جاتا ہے،اسی طرح امتحان سے قبل طلباء کا اجتماع منعقد کیا جاتا ہے جس میں امتحان کے قواعد وضوابط کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے ۔
ایک ماہ قبل امتحان کااعلان لگانا تاکہ طلباء تیاری شروع کردیں ۔
10رجب المرجب سے سالانہ امتحان کے لیےطلباء کا اجتماعی تکرار۔
ششماہی امتحان پر شروع سال سے امتحان تک پڑھے ہوئے مکمل نصاب کا امتحان لیا جاتا ہے
امتحان کی تیاری کانظم
ہر امتحان کے دو ہفتے بعد نتیجہ بتایا جاتا ہے
تحریری امتحانات کا دورانیہ سات د ن کا ہوتا ہے ،ابتدائی درجات کا تقریری امتحان بھی اسی ہفتے کے دوران ہوتا ہے ۔
تمام امتحانات تحریری ہوتے ہیں
اولیٰ اور متوسطہ کے بعض درجات کے امتحان تقریری ہوتے ہیں
تحریری امتحان میں ہر پرچہ کا وقت تین گھنٹے ہے
امتحان شروع ہونے کے ایک گھنٹہ بعد طلباء پرچہ جمع کرواسکتے ہیں
سہ ماہی اور ششماہی امتحان کے پرچے کتاب پڑھانے والے استاد خود بناتے ہیں
سوالیہ پرچوں کو حتمی شکل امتحانی کمیٹی کی نظر ثانی کے بعد دی جاتی ہے
ہر کتاب اور مضمون کے تین سوالات ہوتے ہیں اور تینوں لازمی ہوتے ہیں
صفوف عربیہ کے تمام پرچے عربی میں ہوتے ہیں
درجہ خامسہ سے تخصصات تک پرچہ عربی میں ہوتے ہیں
درجہ خامسہ سے پچھلے درجات کے پرچے اردو میں ہوتے ہیں
وفاق کے سالانہ امتحان کے سوالیہ پرچے "وفاق المدارس العربیہ" کی طرف سے آتے ہیں۔
امتحانات کے ایام میں اساتذہ بوقت فرصت پرچے چیک کرتے رہتے ہیں
امتحانات کے اختتام پر دو ایام کی چھٹی دی جاتی ہے تاکہ پرچے چیک کر کے رزلٹ تیار کیا جائے
نتائج مرتب ہونے کے بعد امتحانی کمیٹی بغور جائزہ لیتی ہے
امتیازی نمبروں اور فیل ہونے والے پرچہ جات کو امتحانی کمیٹی نظر ثانی سے بغور دیکھتی ہے
نتائج مرتب ہونے کے بعد اساتذہ کا اجلاس منعقد ہوتا ہے ہر کلاس کے نتائج پر تبصرہ ہوتا ہے
طلباء کے مجمع میں نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے اور پوزیشن لینے والے طلباء میں انعام تقسیم کیے جاتے ہیں
نوے فیصد سے زائد نمبر لینے والے طلباء کی بھی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
سالانہ امتحان
تحریری امتحان
سالانہ امتحان سے قبل ٹیسٹ صرف ششماہی کے بعد سے سالانہ تک پڑھے ہوئے کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔
سالانہ امتحان کے پرچہ دوسرے استاد بناتے ہیں
ترقی کا فیصلہ
کامیابی کے درجات
ممتازمرتفع ٪۹۰
ممتاز ٪۸۰
جیدجدا ٪۶۰
جید ٪۵۰
مقبول ٪۴۰
حوصلہ افزائی
پوزیشن لینے والے طلباء کو کتب کی شکل میں انعام دیا جاتا ہے ۔
90فیصد نمبر حاصل کرنے والے طالب کو ایک سہ ماہی سے دوسری سہ ماہی تک مختلف درجات کے اعتبار سے وظیفہ دیا جاتا ہے
ترقی و اصلاح نظام
کمزور طلبہ
اضافی وقت دینا
خصوصی نگرانی
نمایاں طلبہ
کمزور طلباء کی مدد میں لگانا
اضافی مطالعہ
تحقیق
نصاب بہتری
سالانہ جائزہ
اصلاحات
کارکردگی کی نگرانی
طالب علم
حاضری
امتحان
مطالعہ
درجات
نصاب کی تکمیل
اوسط کارکردگی
شعبہ جات
حفظ
درس نظامی
ہفتہ وار مدرسے کی رپورٹ
ناظم تعلیمات پورے ہفتے کی رپورٹ مہتمم صاحب کو پیش کرتےہے۔
تخصص
تعلیمی معاونت
کتب
نصابی
حوالہ جاتی
لائبریری
اجراء
واپسی
ڈیجیٹل مواد
آڈیو
ویڈیو
LMS
علمی مہارتوں کا نظام
تحریر
خوش خطی
املاء
رموز واوقاف
درست جملہ سازی
پیراگراف نویسی
تقریر
خطاب
ہفتہ وار اردو عربی بزم کا انعقاد
درجہ اولیٰ سے درجہ رابعہ تک بزم ادب کا اہتمام کیا جاتاہے
درجہ خامسہ اور سادسہ میں طلباء کو مباحثہ کی مشق کروائی جاتی ہے
ہر جمعرات کو فن خطابت کی مشق کا اہتمام ہوتا ہے
سال کے آخر میں اساتذۃ کی نگرانی میں تقریری مقابلہ ہوتا ہے
نمایاں پوزیشن والوں کو انعام تقسیم کیے جاتے ہیں
مقابلہ میں تمام شریک ہونے والےتمام طلباء کی حوصلہ افزائی کے لیے انعام دیا جاتا ہے
تدریس
درجہ سابعہ میں درس حدیث کی مشق کروائی جاتی ہے
دورہ حدیث کے طلباء کو درس قرآن کی مشق کروائی جاتی ہے۔
تحقیق
حوالہ نویسی
مقالہ نویسی
افتاء و استنباط
فقہی تطبیقات
عملی مشق
زبان
انگلش
انگلش لینگویج کورس
خصوصیات
ماہر تجربہ کار اساتذہ سے انگریزی سیکھنے کا نادر موقع
40 دن کے بعد انگریزی کے علاوہ دیگر زبانیں بولنے پر مکمل پابندی
انگریزی میں درس حدیث ، وعظ و بیان کی خصوصی تربیت
اردو
عربی
حفاظ عربک انگلش لینگویج کورس
معھدالرشید عربی
ظاہری تربیت کے متعلق
ظاہری تربیت کی تعریف
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
ذہن سازی کے متعلق
طے شدہ مقصود کے تحت اپنی ،معاونین اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اپنی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کو کسی ماہر / بڑے سے سیکھنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
ظاہری تربیت سے متعلق امور پر اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
عمل کے متعلق
برائے اساتذہ
ذہن سازی کے متعلق
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے اساتذہ اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ذات کی حد تک ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں مقصود کے تحت ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
ظاہری تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
برائے طلباء
ذہن سازی کے متعلق
مقصود تک پہنچنے کے لیے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہوتاکہ وہ تربیت کے نظم کو بیکار روک ٹوک یا بوجھ نہ سمجھیں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کا تعاون کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
سالانہ امور
ہر کلاس کا مربی متعین ہوتاہے۔
تربیت کا نظم
ہرطالب علم کے لئے اخلاق واعمال، صورت وسیرت ،وضع قطع اور لباس میں صلحاء امت کی اتباع ضروری ہے،
روزانہ کا معمول
روزانہ عصر کی نماز سے پہلے طلباء کے لیے خصوصی تعلیم کا اہتمام
ہفتہ وار امور
ہر ہفتے کے دن طلباء کے بالوں اور ناخنوں کی چیکنگ
ظاہری وضع قطع
سگریٹ پینا، انگریزی بال رکھنا، داڑھی منڈانا یا خلاف شرع کٹانا قطعاًممنوع ہے
قیام گاہ کی صفائی کی تربیت
کوڑا مقررہ جگہ کے علاوہ اور کہیں نہ پھینکے، درسگاہ، کمرہ اور برآمدہ کو خراب اور گندہ نہ کرے، دیواروں پر نہ لکھے
پتھر اور ڈھیلے لے کر بیت الخلا میں نہ جائے، پانی سے استنجاء کرے، برتن یا کپڑے دھونے کے بعداس جگہ کو صاف کردے
اپنے کمرے کی تمام چیزوں کو سلیقہ اور قرینہ کے ساتھ رکھے، غرض صفائی، شائستگی، تہذیب واخلاق اور دینداری کا مثالی نمونہ پیش کرے۔
بد اخلاقی سے بچنا
اپنے ساتھیوں یا ملازمین جامعہ سے لڑنا جھگڑنا، بدکلامی یا بداخلاقی سے پیش آنا، ایک دوسرے کی چغلی، عیب جوئی، غیبت، مذاق اڑانا، بیہودہ مذاق کرنا بدترین عیوب ہیں، ان سے اجتناب کرنا ہرطالب علم کا فرض ہے۔
ظاہری صفائی کی چیکنگ
ہرطالب علم کو چاہیے کہ صفائی وستھرائی کا بھر پور اہتمام کرے، بالخصوص جمعہ کے دن غسل کرنے اور کپڑے بدلنے سے پہلے اپنے کمرے اور برآمدہ کو صاف کرے
برائے والدین
ذہن سازی کے متعلق
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
ظاہری تربیت کی اہمیت وفوائد بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
اس بات کوماہرین سے سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
باطنی تربیت کے متعلق
باطنی تربیت کی تعریف
برائے شوریٰ و منتظمین و مہتمم مدرسہ
ذہن سازی کے متعلق
اپنی ،معاونین اور طلباء کی باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی ،اساتذہ ، دیگر عملہ اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور سے متعلق اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
عمل کے متعلق
برائے اساتذہ
ذہن سازی کے متعلق
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
برائے طلباء
ذہن سازی کے متعلق
باطنی تربیت کے قائل ہوں
کے دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کا قائل ہوں
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کے تعاون کرنے کے قابل ہو
عمل کے متعلق
روزانہ کا معمول
روزانہ عصر کی نماز سے پہلے طلباء کے لیے خصوصی تعلیم کا اہتمام
روزانہ ایک پارہ قرآن پاک کی تلاوت کی پابندی
نماز مغرب کے بعد سورۃ الواقعہ اور درود تنجیناکااہتمام
درجہ کتب میں تلاوت کا وقت مقرر ہے
روزانہ نماز عشاء کے بعد ختم خواجگان کا اہتمام
ختم خواجگان کا نظم
تلاوت کی ترتیب
ہفتہ وار امور
ہر اتوار کو اصلاحی مجلس اور ذکر کی مجلس
ذکر کی مجلس
سالانہ امور
نماز تہجد
تربیت کا نظم
موسم سرما میں نماز تہجد کا اہتمام
ہر کلاس کا مربی متعین ہوتاہے۔
برائے والدین
ذہن سازی کے متعلق
باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
والدین اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں باطنی تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے قابل ہوں
عمل کے متعلق
کم از کم 5 اور زیادہ سے زیادہ 11 اراکین ہونے چاہیے؟
اجتماعی ذمہ داریاں
اجتماعی اختیارات
اہلیت
مضبوط حافظِ قرآن ہو۔
تجوید پڑھا ہوا ہو۔
حفظ پڑھانے کا معتد بہ وقت کا تجربہ ہو۔
انتظامی امور سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
والدین کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کر سکتا ہو۔
والدین کو طلبہ کی رپورٹ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
عالمِ دین ہونا شرط نہیں، البتہ ترجیح دی جاتی ہے۔
شعبۂ حفظ کی نگرانی کرنا۔
شعبہ کے معیار کا جائزہ لینا اور اسے بہتر بنانے کی کوشش کرنا۔
امتحانات لینا۔
طلبہ کی کارکردگی کی رپورٹ مہتمم صاحب کو پیش کرنا۔
بچوں کی اخلاقی تربیت کی فکر رکھنا۔
والدین سے رابطہ رکھنا۔
والدین کو ان کے بچوں کی کارکردگی سے مسلسل مطلع کرتے رہنا۔
اساتذہ کو مارپیٹ کے نظام سے محفوظ رکھنے کے لیے اساتذہ کی نگرانی کرنا۔
کسی بھی وقت طالب علم کو بلا کر امتحان یا جائزہ لے سکتے ہیں۔
بچوں کی مارپیٹ کا اختیار حاصل نہیں۔
طلبہ کی کمزوری کی صورت میں والدین کو مطلع کرنا۔
والدین کو اعتماد میں لے کر بچے کی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرنا۔
دو ہزار کے اندر اندر معمولی نوعیت کی خریداری خود کر سکتے ہیں یا اس کی سفارش پیش کر سکتے ہیں۔
بڑی خریداری کے لیے ناظمِ مالیات سے تحریری اجازت لینا ضروری ہے۔
اساتذہ کو چند گھنٹوں کی جز وقتی رخصت دے سکتے ہیں۔
ایک دن کی مکمل رخصت دینے کے لیے مہتمم صاحب سے رابطہ اور اجازت ضروری ہے۔
مہتمم صاحب کی اجازت کے بغیر ناظمِ حفظ ایک دن کی چھٹی نہیں دے سکتا۔
درسِ نظامی پڑھے ہوئے ہوں۔
درسی کتابوں کو سمجھنے کی اچھی استعداد رکھتے ہوں۔
کم از کم پانچ سال درسِ نظامی کے اسباق پڑھا چکے ہوں۔
انتظامی امور سنبھالنے کا تجربہ رکھتے ہوں۔
سالانہ جدول بنانا۔
مشورے سے اسباق کی تقسیم کرنا۔
تعلیمی نظام کا جائزہ لینا۔
طالبات کی تعلیمی استعداد پر نظر رکھنا۔
ششماہی اور سالانہ امتحانات کا انعقاد کرنا۔
طالبات اور معلمات کے دروس کی کارگزاری کا جائزہ لینا۔
طالبات اور معلمات کی طرف سے آنے والی سفارشات کو مشورے میں رکھنا۔
طالبات کے مسائل کو مشورے میں رکھ کر ان کا حل پیش کرنا۔
دیگر متعلقہ امور کی نگرانی کرنا۔
طالبات کی ایک یا دو دن کی چھٹی منظور کر سکتے ہیں۔
دو دن سے زیادہ کی چھٹی منظور کرنے کا اختیار نہیں۔
معلمات کی کارگزاری کے لیے ان کے گھر والوں سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
تخصص فی الفقہ
اہلیت
درس نظامی ، تخصص فی الافتاء اور تحقیق و افتاء کا معتدبہ تجربہ
ذمہ داریاں
1۔نصاب سازی کےلیے تجاویز،
2۔طے شدہ نصاب کی تنفیذ ، 3۔کمی بیشی کی اطلاع دینا
4۔انتظامی ذمہ داریوں کی تقسیم اور فالواپ
5۔اسباق اور امتحانات کے لیے جدول سازی ،
6۔ طلبہ اور شعبہ کی ضروریات سے آگاہی
7۔ضرویات فنڈ منظوری کروانا
8۔ فتاوی کی تصحیح
اختیارات
1۔طلبہ کو مختصر چھٹی دینا
2۔ مختصر اخراجات کی منظوری
3۔ وظائف کی مقدار کی حسب ضابطہ منظوری
تخصص فی الحدیث
اہلیت
متعلقہ فن میں متخصص ہو۔
متعلقہ فن میں عملی تجربہ رکھتا ہو۔
اس فن کے ماہرین کے نزدیک معتمد ہو۔
ذمہ داریاں
شعبۂ تخصص سے متعلق تمام امور کی نگرانی کرنا۔
ضرورت کے مطابق تدریس کرنا۔
تدریسی نظام کی نگرانی کرنا۔
اساتذہ کی تدریسی ذمہ داریوں کی تقسیم کرنا۔
اسباق اور تدریسی امور کی نگرانی کرنا۔
شعبے سے متعلق دیگر انتظامی امور کی نگرانی کرنا۔
مالیاتی امور کی نگرانی کرنا۔
شعبے سے متعلق پیش آنے والے دیگر امور کو دیکھنا۔
اختیارات
شعبے سے متعلق انتظامی امور میں اختیار حاصل ہے۔
اساتذہ کی تدریسی ذمہ داریوں کی تقسیم کر سکتے ہیں۔
اسباق اور تدریسی امور کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
شعبے کے کاموں کی تقسیم کر سکتے ہیں۔
شعبے سے متعلق مالیاتی امور کی نگرانی کر سکتے ہیں۔
گریجویشن (بی ایس سی) تک تعلیم حاصل کی ہو۔
ریاضی (Math) میں تخصصی تعلیم کے ساتھ دیگر مضامین، خصوصاً انگریزی، کا مناسب علم رکھتا ہو۔
عصری علوم کی تدریس اور انتظام کا تجربہ رکھتا ہو۔
فاؤنڈیشن کلاس سے کلاس ہفتم تک انگریزی اور ریاضی کی تدریس کے نظام کی نگرانی کرنا۔
متعلقہ اساتذہ کی تدریس کا جائزہ لینا۔
تدریسی کارکردگی، نتائج اور رپورٹ تیار کرنا۔
فاؤنڈیشن کلاس سے متعلقہ طلبہ کو ریاضی پڑھانا۔
روزہ کی طالبات کو جماعت نہم اور دہم کی ریاضی پڑھانا۔
نئے داخلوں کے وقت طلبہ کے فارم اور دیگر معلومات جمع کرنا۔
داخلہ فارموں پر استادِ جی سے دستخط کروا کر داخلہ کی تکمیل کروانا۔
روزانہ تمام کلاسوں کی حاضری کا جائزہ لینا۔
غیر حاضر طلبہ کے والدین سے رابطہ کر کے وجہ معلوم کرنا۔
مدرسے کے اصول کے مطابق والدین کو تنبیہ کرنا۔
رخصت پر موجود طلبہ کی رخصت درج کرنا۔
روزہ کی طالبات کی آن لائن (Zoom) کلاسز کا انتظام و تدریس کرنا۔
ضرورت کے مطابق والدین سے انتظامی امور کے سلسلے میں رابطہ کرنا۔
اچھا حافظِ قرآن ہو۔
قرآنِ کریم کو صحیح قراءت اور صحیح لہجے کے ساتھ پڑھ سکتا ہو۔
ترجیحی بنیاد پر عالمِ دین ہو۔
کسی بزرگ سے اصلاحی تعلق رکھتا ہو یا تبلیغی جماعت میں وقت لگایا ہو۔
تدریس کا کچھ تجربہ رکھتا ہو۔
شادی شدہ امیدوار کو ترجیح دی جاتی ہے، تاہم غیر شادی شدہ اساتذہ بھی رکھے جاتے ہیں۔
اپنی کلاس کا نظم و نسق سنبھالنا۔
طلبہ کو سبق یاد کروانا۔
طلبہ کی منزل سننا۔
سپرد کیے گئے تربیتی امور انجام دینا۔
پابندی کے ساتھ اپنی حاضری کا اہتمام کرنا۔
کسی بھی صورت میں مارپیٹ سے اجتناب کرنا۔
طلبہ کی کارکردگی سے ناظم صاحب کو آگاہ کرنا۔
طلبہ کے بہتر نتائج کی فکر کرنا۔
روزانہ، ماہانہ اور ہفتہ وار رپورٹ تیار کرنا۔
امتحانات کی تیاری کروانا۔
طلبہ کے تربیتی امور کی نگرانی کرنا۔
طلبہ کو مناسب حد تک کھڑا کرنے کی سزا دے سکتے ہیں۔
کسی بھی درجے میں مارپیٹ کی اجازت نہیں۔
طلبہ سے کسی قسم کی جسمانی خدمت لینے کی اجازت نہیں۔
کسی مستند ادارے سے درسِ نظامی کیا ہوا ہو۔
علمی استعداد اچھی ہو۔
عبارت پڑھ کر اس کی حل اور تفہیم کا ملکہ رکھتا ہو۔
کسی بزرگ سے اصلاحی تعلق رکھتا ہو یا تبلیغی جماعت میں وقت لگایا ہو۔
مزاج میں اعتدال ہو۔
بالخصوص بنات کو پڑھانے کی نزاکتوں کو سمجھتا ہو۔
ترجیحاً شادی شدہ ہو۔
اپنی حاضری کا پابندی سے اہتمام کرنا۔
وقت پر اسباق پڑھانے کا نظم قائم رکھنا۔
سبق پہلے سے تیار کرنا۔
سال کے آغاز ہی میں تدریسی منصوبہ بندی مکمل کرنا۔
سال کے آغاز میں فراہم کیے گئے منہج اور ترتیب کے مطابق تدریس کرنا۔
امتحانات کے پرچے تیار کرنا۔
امتحانات کے پرچے چیک کرنا۔
طالبات میں علمی استعداد پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کرنا۔
مدرسے کے تعلیمی اور تربیتی نظم کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا۔
سپرد کی گئی انتظامی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے انجام دینا۔
روزانہ ہونے والے اساتذہ کے مشورے میں شرکت کرنا۔
تعلیمی نظم کو بہتر بنانے کے لیے اپنی سفارشات پیش کرنا۔
کلاس کی ٹائمنگ میں رد و بدل کے لیے سفارشات پیش کر سکتے ہیں۔
خارجی کتب کے مطالعہ کے لیے طالبات کو مناسب کتابوں کی تعیین کی سفارش کر سکتے ہیں۔
اگر کسی طالبہ کی تعلیمی کارکردگی کے بارے میں کوئی اشکال ہو تو مشورے سے اس کے والد سے رابطہ کر کے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔
پابندیاں
کسی طالبہ سے براہِ راست ذاتی رابطہ نہیں کر سکتے۔
کسی طالبہ کو بھی استاد سے براہِ راست ذاتی رابطے کی اجازت نہیں۔
والدین سے براہِ راست رابطہ معمول کے طور پر نہیں کیا جا سکتا۔
طالبات سے متعلق معاملات معلمات کے ذریعے پہنچائے جائیں گے، پھر معلمات متعلقہ طالبہ سے مذاکرہ کریں گی۔
جن اساتذہ کے گھر والے ادارے میں موجود ہوں، وہ ان کے ذریعے پیغام یا رابطہ کر سکتے ہیں۔
اساتذہ اور معلمات کے مشترکہ گروپ کے ذریعے تحریری پیغامات اور جوابات کا تبادلہ کیا جائے گا۔
تخصص فی الحدیث
اہلیت
متعلقہ فن میں متخصص ہو۔
متعلقہ فن میں تدریس اور عملی تجربہ رکھتا ہو۔
متعلقہ فن میں خدمات انجام دی ہوں۔
اہلِ فن کے نزدیک معتمد اور معتبر ہو۔
ذمہ داریاں
متعلقہ فن کی تدریس کرنا۔
فتاویٰ حدیثیہ چیک کرنا۔
تدریبات اور تمرینات کا جائزہ لینا اور چیک کرنا۔
طلبہ کی نگرانی کرنا۔
ادارے کی طرف سے سپرد کی گئی دیگر ذمہ داریاں ادا کرنا۔
اختیارات
طلبہ کو مدرسہ سے خارج کرنے کا اختیار نہیں۔
اسباق کی تقسیم یا تبدیلی کا اختیار نہیں۔
اسباق کی تقسیم کے بارے میں مشورہ دے سکتے ہیں، لیکن اپنی مرضی سے اسباق تبدیل نہیں کر سکتے۔
تین دن سے کم رخصت کی منظوری متعلقہ ناظم (مولانا ابوہریرہ صاحب) مشورے سے دے سکتے ہیں۔
تین دن یا اس سے زیادہ رخصت کی منظوری کا فیصلہ اعلیٰ انتظامیہ کرتی ہے یا اس کے لیے مولانا ہشام صاحب کو درخواست پیش کی جاتی ہے۔
تخصص فی الفقہ (المعاملات)
اہلیت
درسِ نظامی مکمل کیا ہو۔
کسی مستند ادارے سے تخصص فی الفقہ کیا ہو۔
تدریس کا تجربہ ہو تو بہتر ہے۔
ذمہ داریاں
تخصص کے نصاب کی تدریس کرنا۔
فتاویٰ کی تصحیح کرنا۔
طلبہ کے پروجیکٹس کی نگرانی کرنا۔
سپرد کی گئی انتظامی ذمہ داریوں کے نظم کی نگرانی کرنا۔
فتاویٰ کی تمرین و تصحیح کا نظم مشاورت سے ترتیب دینا اور اس کی تنفیذ کرنا۔
اساتذہ کو تفویض کردہ امور کی نگرانی کرنا۔
طلبہ کے مسائل کو مشاورت سے حل کرنا۔
اختیارات
فتاویٰ کی تمرین و تصحیح کے نظم کو مشاورت سے ترتیب دینا اور اس کی تنفیذ کرنا۔
اساتذہ کو تفویض کردہ امور کی نگرانی کرنا۔
طلبہ کے مسائل کو مشاورت سے حل کرنا۔
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
اہلیت
ذمہ داریاں
اختیارات
کھانا پکانا آتا ہو
دین دار ہو
ہفتہ وار شیڈول کے مطابق کھانا تیار کرنا
14 مرلہ ہے جو کہ تین فلور پر مشتمل ہے
مالی وسائل کا انتظام
آمدنی کے ذرائع
چندہ
زکوٰۃ
عطیات
صدقات
وقف املاک
مالی منصوبہ بندی
بجٹ سازی
اخراجات
تنخواہیں (صرف اخراجاتی پہلو)
کھانے پینےکے اخراجات
یوٹیلٹی بلز
تعمیری اخراجات
مرمت اخراجات
سفر کے اخراجات
تقریبات کے اخراجات
دیگر اخراجات
آڈٹ سسٹم
ریکارڈ تصدیق
اندرونی جانچ
ڈیٹا مینجمنٹ
ERP سسٹم
شعبۂ رفاہِ عامہ کے تحت مختلف نوعیت کی فلاحی خدمات انجام دی جاتی ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
ماہانہ بنیاد پر تقریباً 400 مستحق گھرانوں کو زکوٰۃ کی مد سے راشن فراہم کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ بعض ایسی مستحق فیملیز، جن کے حالات سے ذاتی تعلق اور واقفیت کی بنیاد پر آگاہی ہوتی ہے، انہیں ماہانہ بنیاد پر زکوٰۃ کی مد سے وظائف بھی دیے جاتے ہیں۔ ان میں خصوصاً بیوہ خواتین اور دیگر مستحق افراد شامل ہوتے ہیں۔
اسی طرح میڈیکل کی مد میں بھی ضرورت مند افراد کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے، تاہم اس مقصد کے لیے فی الحال کوئی مستقل اور علیحدہ نظم قائم نہیں ہے۔
رفاہِ عامہ کے تحت بعض ہنگامی یا حادثاتی حالات میں بھی متاثرہ افراد کی مدد کی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ سیلاب کے دوران سیلاب زدگان کے گھروں کی تعمیر کے سلسلے میں تعاون کیا گیا۔
بعض اوقات ایسے علاقوں سے بھی رابطہ کیا جاتا ہے جہاں پانی کے کنویں یا پانی کا مناسب نظام موجود نہیں ہوتا۔ ایسے مواقع پر ضرورت کے مطابق پمپ کی کھدائی کے اخراجات میں بھی تعاون کیا جاتا ہے، تاہم اس کے لیے بھی کوئی مستقل اور علیحدہ نظام موجود نہیں ہے۔
اس کے علاوہ فلسطین میں بھی ماہانہ بنیاد پر تقریباً سات لاکھ روپے ارسال کیے جاتے ہیں۔ یہ رقم صرف کھانے کی ضروریات کے لیے نہیں بلکہ وہاں قائم 10 مکاتب کے لیے بھی خرچ کی جاتی ہے، جہاں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اس رقم سے اساتذہ کے وظائف اور طلبہ کے لیے روزانہ کی ضروریات کا سامان فراہم کیا جاتا ہے۔
تجوید للمعلمات
نصاب
تفسیر قرآن اور حدیث شریف کا کورس ہوتا ہے
دوارانیہ
ہفتہ میں تین دن
النور کورس
فقہ المسلمہ
آن لائن تفسیر کورس
آن لائن عربی کورس
ویک اینڈ پروگرام
عربی تکلم
رد فرقہ باطلہ
اخلاقی تربیت و اہم عنوانات
روزانہ کی بنیاد پر ہمارے یہاں اصلاحی مجلس منعقد کی جاتی ہے
پچھلا سبق سنا جا تا ہے
جی ہمارے اساتذہ اس کا اہتمام کرتے ہیں
جی روزانہ سبق سنا جاتا ہے
جی مقالہ لکھوایا جاتا ہے
ہمارے ہاں ظاہری تربیت کے عنوان سے کوئی باقاعدہ تحریری تعریف یا دستاویز موجود نہیں، تاہم اس کا تصور اور اس پر عمل واضح طور پر موجود ہے۔ اسی فہم کے مطابق ادارے میں ظاہری تربیت کی محنت جاری ہے۔
طے شدہ مقصود کے تحت اپنی ،معاونین اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
اس تربیت کی محنت مجلسِ شوریٰ، منتظمین، معاونین، ناظمین، اساتذہ، طلبہ اور والدین سب پر کی جاتی ہے۔ اللہ کے فضل سے یہ تمام طبقات ظاہری تربیت کی اہمیت اور ضرورت کے قائل ہیں۔
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اس تربیت کی اہمیت کو مزید واضح کرنے کے لیے بار بار تربیتی نشستیں منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ نشستیں مجلسِ شوریٰ کے لیے بھی ہوتی ہیں اور والدین کے لیے بھی، تاکہ ان کے سامنے ظاہری تربیت کی اہمیت اجاگر ہو اور وہ اس کے تقاضوں سے آگاہ رہیں۔
اپنی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کو کسی ماہر / بڑے سے سیکھنے کے قائل ہوں
ہم اللہ کے فضل سے اہلِ علم اور اکابر سے سیکھنے کے بھی قائل ہیں۔ اسی مقصد کے لیے لاہور، پورے پاکستان بلکہ بیرونِ ملک سے بھی اکابر کو دعوت دی جاتی ہے۔ ان کے سامنے ادارے کا مشن، تعلیمی نظم اور تربیتی نظام پیش کیا جاتا ہے اور ان سے اصلاح و رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اسی طرح ہم اپنے گھروں میں بھی ظاہری تربیت کے ضروری تقاضوں پر عمل کے قائل ہیں۔ مدرسہ کی کوشش یہ ہے کہ صرف اس کا نظریاتی اقرار نہ ہو بلکہ اس پر عملی طور پر بھی عمل ہو، اس کے لیے باقاعدہ کوشش کی جائے اور ایک منظم ماحول قائم کیا جائے۔
اپنے گھروں میں ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اسی طرح ہم اپنے گھروں میں بھی ظاہری تربیت کے ضروری تقاضوں پر عمل کے قائل ہیں۔ مدرسہ کی کوشش یہ ہے کہ صرف اس کا نظریاتی اقرار نہ ہو بلکہ اس پر عملی طور پر بھی عمل ہو، اس کے لیے باقاعدہ کوشش کی جائے اور ایک منظم ماحول قائم کیا جائے۔
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
ہم اس بات کے بھی قائل ہیں کہ کسی معتبر ادارے سے ظاہری تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے بعض افراد ہمارے اپنے تربیتی نظم سے وابستہ ہوتے ہیں، جبکہ بعض دیگر مدارس، خانقاہوں یا اللہ کے راستے میں نکلنے والی جماعتوں کے تربیتی نظام سے استفادہ کرتے ہیں۔
ظاہری تربیت سے متعلق امور پر اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
اللہ کے فضل سے مجلسِ شوریٰ کے اراکین اور ادارے کا دیگر عملہ بھی اہلِ علم سے استفادہ کرنے کا اہتمام کرتا ہے، اور اس پر عملی طور پر بھی کاربند ہے۔
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے اساتذہ اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے قائل ہوں
ہمارے ہاں ظاہری تربیت کے عنوان سے کوئی باقاعدہ تحریری تعریف یا دستاویز موجود نہیں، تاہم اس کا تصور اور اس پر عمل واضح طور پر موجود ہے۔ اسی فہم کے مطابق ادارے میں ظاہری تربیت کی محنت جاری ہے۔
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
اس تربیت کی محنت مجلسِ شوریٰ، منتظمین، معاونین، ناظمین، اساتذہ، طلبہ اور والدین سب پر کی جاتی ہے۔ اللہ کے فضل سے یہ تمام طبقات ظاہری تربیت کی اہمیت اور ضرورت کے قائل ہیں۔
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ذات کی حد تک ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اس تربیت کی اہمیت کو مزید واضح کرنے کے لیے بار بار تربیتی نشستیں منعقد کی جاتی ہیں۔ یہ نشستیں مجلسِ شوریٰ کے لیے بھی ہوتی ہیں اور والدین کے لیے بھی، تاکہ ان کے سامنے ظاہری تربیت کی اہمیت اجاگر ہو اور وہ اس کے تقاضوں سے آگاہ رہیں۔
اپنی اور طلباء کی ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
ہم اللہ کے فضل سے اہلِ علم اور اکابر سے سیکھنے کے بھی قائل ہیں۔ اسی مقصد کے لیے لاہور، پورے پاکستان بلکہ بیرونِ ملک سے بھی اکابر کو دعوت دی جاتی ہے۔ ان کے سامنے ادارے کا مشن، تعلیمی نظم اور تربیتی نظام پیش کیا جاتا ہے اور ان سے اصلاح و رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔
اپنے گھروں میں مقصود کے تحت ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اسی طرح ہم اپنے گھروں میں بھی ظاہری تربیت کے ضروری تقاضوں پر عمل کے قائل ہیں۔ مدرسہ کی کوشش یہ ہے کہ صرف اس کا نظریاتی اقرار نہ ہو بلکہ اس پر عملی طور پر بھی عمل ہو، اس کے لیے باقاعدہ کوشش کی جائے اور ایک منظم ماحول قائم کیا جائے۔
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
اسی طرح ہم اپنے گھروں میں بھی ظاہری تربیت کے ضروری تقاضوں پر عمل کے قائل ہیں۔ مدرسہ کی کوشش یہ ہے کہ صرف اس کا نظریاتی اقرار نہ ہو بلکہ اس پر عملی طور پر بھی عمل ہو، اس کے لیے باقاعدہ کوشش کی جائے اور ایک منظم ماحول قائم کیا جائے۔
ظاہری تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
ہم اس بات کے بھی قائل ہیں کہ کسی معتبر ادارے سے ظاہری تربیت حاصل کرنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے بعض افراد ہمارے اپنے تربیتی نظم سے وابستہ ہوتے ہیں، جبکہ بعض دیگر مدارس، خانقاہوں یا اللہ کے راستے میں نکلنے والی جماعتوں کے تربیتی نظام سے استفادہ کرتے ہیں۔
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
اللہ کے فضل سے مجلسِ شوریٰ کے اراکین اور ادارے کا دیگر عملہ بھی اہلِ علم سے استفادہ کرنے کا اہتمام کرتا ہے، اور اس پر عملی طور پر بھی کاربند ہے۔
مقصود تک پہنچنے کے لیے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہوتاکہ وہ تربیت کے نظم کو بیکار روک ٹوک یا بوجھ نہ سمجھیں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ اپنی ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں ظاہری تربیت کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کا تعاون کرنے کے قابل ہو
اللہ کے فضل سے والدین کی ظاہری اور باطنی تربیت کے لیے بھی باقاعدہ نظم موجود ہے۔
سال میں ایک مرتبہ خصوصی تربیتی نشست منعقد کی جاتی ہے۔
دو مرتبہ سہ ماہی امتحانات اور سالانہ امتحان کے نتائج کے موقع پر والدین سے تربیتی گفتگو کی جاتی ہے۔
والدین کے مطالعہ کے لیے ایک تربیتی نصاب بھی متعین ہے، اگرچہ فی الحال وہ مطلوبہ حد تک فعال نہیں۔
والدات کے لیے ہفتہ وار کورس جاری ہے۔
والد حضرات کے لیے بھی ایک مستقل کورس موجود ہے۔
جو بچوں کے بہن بھائی اسکولوں میں زیرِ تعلیم ہیں، ان کے لیے بھی ہفتہ وار ویک اینڈ کورس کا انتظام کیا گیا ہے۔
اس تمام نظام کا مقصد یہ ہے کہ اگر خاندان کا ایک بچہ مدرسہ سے وابستہ ہو تو اس کا پورا خاندان بھی اس تربیتی ماحول سے جڑے اور اس تربیت سے استفادہ کرے۔
مقصود کو سامنے رکھتے ہوئے ظاہری تربیت کے قائل ہوں
دل ودماغ میں مقصوداور ظاہری تربیت کے درمیان تعلق اور اہمیت واضح ہو
ظاہری تربیت کی اہمیت وفوائد بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
ظاہری تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
اس بات کوماہرین سے سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں ظاہری تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے کے قابل ہو
باطنی تربیت کی بھی کوئی باقاعدہ تحریری تعریف یا دستاویز موجود نہیں، تاہم اس کا تصور واضح ہے اور اس پر باقاعدہ محنت کی جاتی ہے۔
اللہ کے فضل سے مجلسِ شوریٰ، منتظمین، اساتذہ، معاونین، عملہ، والدین اور طلبہ سب کے لیے باطنی تربیت کا اہتمام موجود ہے۔ سب اس کی اہمیت کے قائل ہیں، اس کے مقاصد واضح ہیں، اس کے حصول کی کوشش کرتے ہیں، اور اللہ کے فضل سے اس کے لیے ایک مناسب نظم بھی قائم ہے۔
اپنی ،معاونین اور طلباء کی باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی ،اساتذہ ، دیگر عملہ اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور سے متعلق اہل علم و عمل حضرات اور مدرسے کے اساتذہ سے مشورہ لینے اور معاونت لینے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اپنی اور طلباء کی باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں نظم بنانے کے قائل ہوں
اپنے گھروں میں باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا نظم بنانے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
باطنی تربیت سے متعلق امور میں مہتمم صاحب یا شوریٰ کو مشورہ دینے اور معاونت کرنے کے صحیح طریقہ کار سے آگاہ ہوں
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں اساتذہ کے تعاون کرنے کے قابل ہو
باطنی تربیت کے قائل ہوں
کے دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا مدرسہ میں اور گھر میں( اپنی ذات کی حد تک )نظم بنانے کا قائل ہوں
اپنی ذات کی حد تک باطنی اصلاح کا نظم بنانے کی تربیت حاصل کرنے کے قائل ہوں
اس بات کے قائل ہوں کہ اپنے گھروں / اداروں میں باطنی اصلاح کا نظم بنانے کے لیے بھی تربیت حاصل کرنے پڑتی ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں طلباء کے تعاون کرنے کے قابل ہو
باطنی تربیت کے قائل ہوں
دل میں باطنی تربیت کی اہمیت ہو
باطنی تربیت بچوں کے دل میں ڈالنے کے قائل ہوں
باطنی تربیت کے لیے ضروری تقاضوں کا گھر میں نظم بنانے کا قائل ہوں
والدین اس بات کو سیکھنے کے قائل ہوں کہ گھر میں باطنی تربیت کا نظم کیسے بنانا ہے
مدرسہ مندرجہ بالا تمام امور میں والدین کی رہنمائی کرنے قابل ہوں
انتظامی مجلس شوریٰ
انتظامی شوریٰ کی ذمہ داریاں
تمام کیمپسز کے انتظامی معاملات کی نگرانی کرنا
ایڈمن آفس کا تقرر
شوریٰ سربراہ تعمیراتی کاموں کیلئے ایڈمن آفس کو کیمپس متعین کریں گے
مالیاتی پالیسی
پیٹی کیش / اخراجات پالیسی
ماہانہ بجٹ پلان اور اخراجات پیش کرنا
طلبہ سے حاصل ہونے والی فیسوں کی رپورٹ (فارمیٹ 12)
پیٹی کیش کے اخراجات کی تفصیلات (فارمیٹ 5)
اگلے مہینے کے لیے مطلوبہ بجٹ کی تفصیل (فارمیٹ 5)
بجٹ اور اصل اخراجات کے درمیان فرق (فارمیٹ 5)
پچھلے ماہ کے اصل اخراجات کی تفصیل، بجٹ اور اصل اخراجات کے درمیان فرق۔
تمام اخراجات کا فوری طور پر Zoho سسٹم میں اندراج
اخراجات کے اندراج میں کوتاہی قبول نہیں کی جائے گی
مقررہ بجٹ سے تجاوز کرنے پر منتظم کے لیے پابندی ہے
کیمپس منتظم مقررہ بجٹ سے تجاوز کرنے کا مجاز نہیں ہے
تمام ماہانہ اخراجات مقرر کردہ بجٹ اور پیٹی کیش کی رقم سے کیے جائیں گے۔
تمام ماہانہ اخراجات مقررہ بجٹ اور پیٹی کیش سے کیے جائیں گے
اکاؤنٹس آفیسر کی منظوری کے بعد رقم منتظم کو حوالے کر دی جائے گی
اکاؤنٹس آفیسر کی منظوری کے بعد پرنسپل آفس منتظم کو منظور شدہ رقم دے گا
پیٹی کیش کے مصارف کی تفصیل
پیٹی کیش سے کیمپس کے کرایوں کی ادائیگی
کیمپس کے کرایے کے اخراجات۔
بجلی، گیس اور پانی کے بلوں کے لیے پیٹی کیش کا استعمال ہوگا
بجلی، گیس اور پانی کے بل۔
کیمپس کی ضروری مرمت اور دیکھ بھال (Maintenance)
ضروریات درست (مرمت)۔
ادارے کے کام سے آنے والے بیرونی مہمانوں کا اکرام
باہر سے آنے والے مہمانوں کا اکرام صرف ادارے کے کام سے ہونے کی صورت میں کیا جائے گا
مہمانوں کے اکرام کے لیے فی کس 200 روپے کی حد پوگہ
فی کس حد سے زائد اکرام کے لیے ایچ آر کی اجازت ضروری ہوگی
فی کس مقررہ حد سے زائد اکرام کیلئے ایچ آر آفس سے اجازت لینا ضروری ہے
طلبہ و اساتذہ کے اکرام کے لیے پیشگی منظوری لازم ہے
منتظم پرنسپل آفس کی منظوری کے بغیر طلبہ یا اساتذہ کا اکرام کرنے کا مجاز نہیں
پیٹی کیش سے رقم خرچ کرنے سے قبل منظوری کا لزوم
پیٹی کیش میں سے کام کرنے کے لیے پہلے ریپلیسمنٹ آفس سے اس کی منظوری لینا لازم ہے۔
گراسری کی پالیسی
کیمپس کی ضروریات کے مطابق گراسری کی مقدار کی منظوری
ہر کیمپس کیلئے گراسری کی مقدار وہاں کی ضرورت کے مطابق پہلے منظور کروائی جائے گی
گراسری کے لیے مختص رقم کی منتظم کو منتقلی
گراسری کی رقم کیمپس کے منتظم کے پاس بھیجی جائے گی
سامان کی خریداری اور بلوں کا Zoho میں فوری اندراج
اس کے بعد وہ مطلوبہ سامان خرید کر تمام بلوں کا فوری طور پر Zoho میں اندراج کریں گے۔
ہر ماہ کی 25 تاریخ کو اخراجات کی تفصیل کی جمع کروانا ضروری ہے
ہر ماہ کے اخراجات کی تفصیل منتظم کی جانب سے 25 تاریخ کو جمع کروائی جائے گی
گزشتہ ریکارڈ جمع ہونے پر اگلے ماہ کے فنڈز کا اجراء ہوگا
اور پھر الگ سے ماہانہ ریگولر کی مد میں مختص رقم دے دی جائے گی۔
مقامی گراسری اسٹور کی پرنسپل آفس میں رجسٹریشن ہوگی
تمام کیمپس منتظم مقامی گراسری اسٹور پرنسپل آفس میں رجسٹرڈ کرائیں گے اور وہیں سے خریداری کریں گے
گراسری کا سامان منتظم ذاتی تحویل میں رکھے گا
گراسری کے ذاتی استعمال پر سخت پابندی اور ممانعت ہے
منظور شدہ افراد سے ہی مرمت اور دیکھ بھال کے کام لینا ہوگا
منتظم مرمت کے کاموں کیلئے منظور شدہ افراد کی فہرست فراہم کریں گے اور انہی سے کام لیں گے
اور انہی افراد سے وہ مرمت اور دیکھ بھال کے تمام ضروری کام حاصل کریں گے۔
حصولِ فنڈز کی پالیسی
دورانِ ماہ فنڈز کی کمی (Shortage) کی صورتحال میں فنڈ حاصل کرنے کا طریقہ
کوئی بھی شعبہ فنڈز کیلئے براہِ راست ٹریژری ڈیپارٹمنٹ کو درخواست نہیں بھیجے گا
تمام درخواستیں صرف فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے ہی قبول کی جائیں گی
خریداری و ادائیگی
5000 سے زائد کی خریداری کے باقاعدہ طریقہ کار
مرحلہ 1 خریداری کی درخواست اور منظوری
متعلقہ شعبہ خریداری کی درخواست شے، مقدار، ترسیل کے وقت اور مقام کی تفصیل کے ساتھ شروع کرے گا
خریداری کی درخواست کا متعلقہ شعبے کے سربراہ سے منظور شدہ ہونا لازمی ہے
منظوری مقررہ گوگل فارم لنک کے ذریعے حاصل کی جائے گی
مرحلہ 2: ایڈمن کو جمع کروانا
تمام منظور شدہ درخواستیں ایڈمن ڈیپارٹمنٹ میں جمع کرائی جائیں گی
ایڈمن آفیسر مقررہ دستاویزات تیار کر کے ایڈمن ہیڈ کو پیش کرے گا
50,000 یا زائد کی خریداری کیلئے تین کوٹیشنز کا ہونا لازمی ہے
اس کیلئے ایک تقابلی گوشوارہ تیار کیا جائے گا۔
مستقل سپلائر سے معمول کی سپلائی پر تقابلی کوٹیشنز طلب نہیں کی جائیں گی، بشرطیکہ قیمت اور کوٹیشن کی مدت مقررہ حد میں ہو
مجموعی لاگت (Gross Cost) میں ٹیکسوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
اکاؤنٹ ایگزیکٹو سپلائر کے ٹیکس کی شرح کی تصدیق کرے گا
اس مرحلے کا دورانیہ 2 دفتری ایام ہے
مرحلہ 3: ایڈمن کا جائزہ
جمع کرائی گئی دستاویزات کا جائزہ ایڈمن ہیڈ اور شعبے کا سربراہ لیں گے
سب سے موزوں وینڈر کا انتخاب اور منظوری لازمی ہے۔
منظوری کے بعد دستاویزات کا مکمل سیٹ اکاؤنٹ ایگزیکٹو کو بھیج دیا جائے گا
مرحلہ 4: وینڈر کا اندراج
اکاؤنٹ ایگزیکٹو سپلائر فارم کی بنیاد پر زوہو میں وینڈر کا اندراج کرے گا
مرحلہ 5: PO کی تیاری
اکاؤنٹ ایگزیکٹو ایڈمن کی دستاویزات کی بنیاد پر زوہو میں پرچیز آرڈر تیار کرے گا
نان اسٹاک آئٹم کی صورت میں GL اکاؤنٹ کا اندراج۔
اسٹاک آئٹم کی صورت میں شے کا نام اور مقدار۔
PO میں خریداری کی شرح (Rate) درج ہونی چاہیے۔
لاگو ہونے کی صورت میں ٹی ڈی ایس (TDS) کی شرح۔
ترسیل کی متوقع تاریخ۔
ادائیگی کی شرائط (Payment Terms) درج ہونی چاہئیں۔
ایڈوانس ادائیگی کی صورت میں پرچیز آرڈر کے نوٹس میں اس کا ذکر ضروری ہے
پرچیز آرڈر کا جائزہ ہیڈ آف اکاؤنٹس، شریعہ کمپلائنس آفیسر اور چیف ایگزیکٹو لیں گے
پرچیز آرڈر کی حتمی منظوری چیف ایگزیکٹو آفیسر دیں گے
منظور شدہ پرچیز آرڈر کی ایک کاپی ایڈمن ہیڈ کے ساتھ شیئر کی جائے گی
اکاؤنٹ ایگزیکٹو زوہو میں ایڈوانس پیمنٹ کی درخواست تیار کرے گا
اس کے ساتھ منظور شدہ PO کی کاپی منسلک ہوگی۔
مرحلہ 6: ایڈوانس پیمنٹ
ایڈوانس کی رقم تمام ٹیکسوں کو منہا کر کے دی جائے گی
ادائیگی کی منظوری ہیڈ آف اکاؤنٹس اور شریعہ کمپلائنس آفیسر کے مطابق ہوگی
تمام منظور شدہ بلوں کی ادائیگی اگلے دفتری دن دوپہر 12 بجے تک ہونی چاہیے
ادائیگی کی رسید ایڈمن ہیڈ کو ارسال کی جائے گی۔
ادائیگی کی ٹائم لائن اگلا دفتری دن دوپہر 12 بجے تک ہوگا
مرحلہ 7: GRN کی تیاری
ایڈمن ڈیپارٹمنٹ ہر دن کے اختتام پر موصول شدہ اشیاء کا PO نمبر کے تحت GRN تیار کرے گا
GRN پر ایڈمن ہیڈ کے دستخط ہونے چاہئیں اور یہ اکاؤنٹ ایگزیکٹو کے پاس جمع کرایا جانا چاہیے
مرحلہ 8: بل کی تیاری
اکاؤنٹ ایگزیکٹو PO کو بل میں تبدیل کر کے زوہو میں بل تیار کرے گا
فائنل انوائس (کمرشل بل) کی کاپی بل کے ساتھ منسلک ہونی چاہیے۔
ایگزیکٹو یقینی بنائے گا کہ انوائس میں درج مقدار اور قیمت پی او کے مطابق ہو
بل کی منظوری HOA، شریعہ کمپلائنس آفیسر دیں گے۔
مرحلہ 9: بل کی ادائیگی
کمپلائنس اور شریعہ آفیسرز ادائیگی کی کارروائی مکمل کریں گے
ادا شدہ بل کے سامنے زوہو میں اندراج لازمی طور پر کیا جانا چاہیے
جہاں ایڈوانس دیا گیا تھا اسے منظور شدہ بل کے ساتھ ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے
مرحلہ 10: تصدیق اور آڈٹ
اکاؤنٹ آفیسر دوری دوروں کے دوران ریکارڈ کی تصدیق کرے گا
ایڈمن آفیسر
ایڈمن آفیسر کی ذمہ داریاں
ایڈمن آفس کیمپس کی تمام تعمیراتی ضروریات پوری کرے گا
ایڈمن آفس کیمپس ناظم کے ماتحت کام کرے گا اور تعلیمی شوریٰ کے سربراہ کو رپورٹ کرے گا
ایڈمن آفس کنٹریکٹر ہائر کرنے پر اخراجات فارم پر درج کرے گا اور کیمپس ناظم سے منظوری لے گا
کیمپس میں درکار مٹیریل کی بھی مقامی ناظم سے منظوری حاصل کی جائے گی
ایڈمن آفس مٹیریل اپنی ذمہ داری میں رکھے گا اور وقتاً فوقتاً اس کی رپورٹ پیش کرے گا
اضافی مٹیریل بچنے کی صورت میں مقامی ناظم دکاندار کو واپس کروائیں گے
مٹیریل واپسی کی رقم دوبارہ مدرسے کے شعبہ مالیات یا فیصل شوریٰ کو جمع کروائی جائے گی
ایڈمن آفیسر تمام امور مقامی ناظم سے باہمی مشاورت سے طے کرے گا اور فیصل صاحب سے رابطے میں رہے گا
ایڈمن آفیسر اپنے اوقاتِ کار کے مطابق رپورٹنگ اور حاضری مقامی ناظم کے ذریعے کرے گا
ایڈمن آفیسر کو گھر سے ادارے آنے کا پیٹرول الاؤنس نہیں دیا جائے گا
ادارے میں آنے کے بعد کام کیلئے بائیک استعمال کرنے پر صرف اسکا معاوضہ دیا جائے گا
تمام کاموں کی مکمل فہرست بنائی جائے گی اور نئے کاموں کیلئے الگ فہرست بنائی جائے گی
کسی جگہ یا چیز کا ڈیزائن انتظامی شوریٰ کے فیصل فائنل کریں گے، پھر منظوری کے بعد کام ہوگا
کاموں کی فہرست ملنے کے بعد ایڈمن آفیسر کام مکمل کرنے کی میعاد مقرر کرے گا، اسے پورا کرنا اسکی ذمہ داری ہوگی
ناظمین کی مشترکہ ذمہ داریاں
سالانہ ذمہ داریاں
ہر سال کے اختتام پر اگلے سال کیلئے تمام کلاسز کے اسباق کا شیڈول مرتب کرنا
سال کے اختتام پر پورے سال کی اساتذہ کی حاضری کی رپورٹ پیش کرنا
تمام نئے طلبہ سے، خواہ کسی بھی شعبے یا درجے کے ہوں، داخلہ فارم پر کروانا
ناظمین کی ذمہ داری ہے کہ نئے طلبہ سے گوگل ایڈمیشن، پرنٹڈ اور اسکالر شپ فارم پر کروائیں
داخلہ فارم فارمیٹ نمبر آٹھ (8) میں ملاحظہ فرمائیں اور اسکالر شپ فارم فارمیٹ نمبر گیارہ (11) میں ملاحظہ فرمائیں۔
تمام کیمپسز میں ہر درجے کا ایک نگران استاد مقرر کرنا جو تمام امور کی رپورٹ ناظم کو دے
ادارہ چھوڑ کر جانے والے فرد سے لیونگ فارم پر کروانا
مہینہ وار ذمہ داریاں
ہر ماہ کی 30 تاریخ کو تمام ناظمین درج ذیل امور پر اپنے کیمپس کی رپورٹ پیش کریں گے
فیس کی وصولی کی رپورٹ (رپورٹ مرتب کرنے کیلئے فارمیٹ نمبر بارہ (12) ملاحظہ کریں)
آئندہ ماہ کا مکمل بجٹ (ماہانہ بجٹ کی رپورٹ بنانے کیلئے فارمیٹ نمبر پانچ (5) ملاحظہ کریں)
جاری مہینے کے تمام اخراجات کی تفصیل ( فارمیٹ نمبر پانچ ۔۔۔( 5
طلباء کی حاضری کی رپورٹ ( فارمیٹ نمبر دو (2) میں اندراج کریں)
تمام اساتذہ کی حاضری کی رپورٹ ( فارمیٹ نمبر ایک (1) میں اندراج کریں)
مہینے میں ایک سے زائد چھٹی یا تاخیر سے آنے والے اساتذہ کے نوٹسز جاری کرنا
پورے مہینے کی صفائی کی رپورٹ ( فارمیٹ نمبر تینتیس (33) ملاحظہ فرمائیں)
شرح مقدار خواندگی اور اکیڈمک کونسل کی ماہانہ تعلیمی رپورٹس مرتب کرنا
کیمپس میں جن اثاثہ جات کی مرمت درکار ہو اسکی رپورٹ پیش کرنا
کیمپس کی گروسری اور ضروری سامان خادم کے ساتھ خود جا کر خریدنا
اکیڈمک کونسل کے ذریعے طلبہ کا ماہانہ جائزہ کروانا اور رپورٹ پیش کرنا
ہفتہ وار ذمہ داریاں
تمام ناظمین کی ہفتہ وار میٹنگ ڈیفنس کیمپس میں ہوگی جس میں درج ذیل امور پر کاروائی ہوگی
طلباء کی حاضری کی رپورٹ ( فارمیٹ نمبر چھ (6) ملاحظہ کریں)
اساتذہ کی حاضری کی رپورٹ ( فارمیٹ نمبر ایک (1) میں اندراج کریں)
طلباء اور اساتذہ کی غیر حاضری کی رپورٹ
صفائی کی رپورٹ ( فارمیٹ نمبر تینتیس (33) ملاحظہ فرمائیں)
ہفتے میں پیش آنے والے مشاورتی امور پر متعلقہ ناظم اور پرنسپل حلم سے مشاورت کی جائے گی
یومیہ ذمہ داریاں
طلبہ کی روزانہ حاضری چیک کرنا اور رپورٹ تیار کرنا
روزانہ اساتذہ کی حاضری چیک کر کے آنے جانے کا وقت فارمیٹ میں درج کرنا
غیر حاضر طلباء اور اساتذہ کی رپورٹ
روزانہ لیٹ آنے والے اساتذہ اور طلبہ کی رپورٹ تیار کرنا
روزانہ صفائی چیک کرنا اور صفائی کی رپورٹ پیش کرنا
چھٹی کے وقت لائٹس وغیرہ بند کرنا
غیر حاضر استاد کی صورت میں متبادل تجویز کر کے کلاس میں بھیجنا
ماہانہ رپورٹ کی پالیسی
ماہانہ بنیادوں پر بھی رپورٹ فراہم کی جائے گی
ہفتہ واری رپورٹ کی پالیسی
ہر ہفتہ کیمپس ناظم اساتذہ کے اسباق کی رپورٹ اکیڈمک کونسل کو فراہم کرے گا
جائزہ کی پالیسی
ہر ماہ اکیڈمک کونسل طالب علموں کی استعداد کا جائزہ لے گی
نصاب کے موازنہ کی پالیسی
دونوں رپورٹس کا مقررہ مقدارِ خواندگی سے موازنہ کیا جائے گا، کمی کی صورت میں اساتذہ سے وجوہات معلوم کی جائیں گی
ناظمین کے متعلق ضروری نوٹ
تدریسی جدول میں تبدیلی کی منظوری کیلئے پرنسپل حلم مفتی سفیان صاحب کو بھیجنا لازم ہے، تصدیق کے بعد ہی لاگو ہوگی
اکیڈمک کونسل کے افراد مختلف کیمپسز کے تعلیمی امور کا جائزہ لیں گے، ناظمین اور اساتذہ سے مکمل تعاون درکار ہوگا
اکیڈمک کونسل کی ذمہ داریاں مذکورہ امور تک محدود نہیں، ضرورت کے مطابق مزید امور بھی سپرد کیے جائیں گے
اکیڈمک کونسل پالیسی
اکیڈمک کونسل کا بنیادی کردار تمام کیمپسز اور کورسز کی تعلیمی نگرانی کرنا ہے
اکیڈمک کونسل کی ذمہ داریاں
اکیڈمک کونسل کی چند ایک ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:
تمام کتابوں کی شرح مقدارِ خواندگی سال کے آغاز سے ہی وضع کرنا
ہر مہینے شرح مقدارِ خواندگی کا جائزہ لینا اور 25 تاریخ کو رپورٹ پرنسپل حلم کو جمع کرانا
مختلف کیمپسز میں ہفتہ وار تعلیمی معیار کا جائزہ لینا
تمام کورسز اور ورکشاپس کے نصابات مکمل طور پر تحریر کرنا اور وقتاً فوقتاً نظرثانی کرنا
تمام اساتذہ بالخصوص نئے فضلاء کی تربیت اور نگرانی کرنا
تمام اساتذہ کی تقرری، انٹرویو اور تجاویز جمع کروانا
تمام تعلیمی امور کی پالیسیز اور ہدایات تحریر و مرتب کرنا
مہینے میں ایک مرتبہ اساتذہ کے ساتھ مختلف عنوانات پر تربیتی نشست کرنا
تمام کیمپسز کے طلبہ سے ماہانہ ملاقات کر کے مسائل کے حل کی رپورٹ 25 تاریخ کو پرنسپل علم کو جمع کروانا
ماہانہ بنیاد پر تمام کیمپسز کے طلبہ کا جائزہ لینا
ناظم کیمپس
کیمپس ناظمین کے اختیارات
ناظمین اپنے کیمپس کے تمام انتظامی امور خود سرانجام دیں گے
اساتذہ سے میٹنگز کی پالیسی
ہر مہینے کے پہلے جمعہ دوپہر 2 بجے اساتذہ کی دعوت اور پرنسپل حلم سے مجلس ہوگی
مہینے کے آخری جمعہ اساتذہ کی اکیڈمک کونسل کے ساتھ میٹنگ ہوگی
مہینے کے دوسرے اور تیسرے جمعہ بھی وقتاً فوقتاً میٹنگ رکھی جائے گی، اساتذہ وقت فارغ رکھیں
میٹنگ میں کھانے کی پالیسی
میٹنگ میں کھانے کے اخراجات کی حد مقرر ہے، زائد خرچ صرف پرنسپل آفس کی منظوری سے ممکن ہوگا
تقرری معاہدہ
ماہانہ وظیفہ کی پالیسی
وظیفہ میں اضافہ میرٹ،خدمت کی کارکردگی پر ہوگا
آپ کا وظیفہ بینک اکاونٹ یا نقد اد کیا جائے گا
تنخواہ میں اضافہ کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا
تنخواہ میں اضافہ سال میں ایک مرتبہ ہوگا
سال کے داران تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوگا
ایمرجنسی ضرورت کی صورت میں طریقہ کار
سہولیات
میڈیکل سہولیات کی پالیسی
سائرہ میموریل ہسپتال سے میڈیکل سہلوت کی پالیسی
فراہم کردہ سہولیات کی تفصیل
صبح 9 سے دوپہر3 بجے تک OPD فری اور میڈیسن فری ہوگی
سپیشلسٹ ڈاکٹر کے چیک اپ کی صورت میں 50 پرسنٹ کا ڈسکاونٹ ہوگا
گائینی سے متعلقہ تمام اوپی ڈی چیک اپ فری ہے
تمام لیبارٹی ٹیسٹ پر25 پرسنٹ رعایت حاصل ہوگی
تمام ایکسرے ،یو ایس جی اور سی ٹی پر50 پرسنٹ ڈسکاونٹ ہوگا
بغیر آپریشن ڈیلیوری صرف 10,000 روپے (میڈیسنز کے بغیر)
آپریشن کے ساتھ ڈیلیوری صرف 20,000 روپے (میڈیسنز کے بغیر)
تمام میڈیکل سہولت میں 80 سے 90 فیصد رقم ادارے کی طرف سے سبسڈی ہوگی
طریقہ کار
ادارہ آفیشل لیٹر جاری کرے گا جسے دکھا کر باعزت طریقے سے سہولت حاصل کی جا سکے گی
حدود
کسی اور جگہ علاج کروانے کی صورت میں ادارہ سبسڈی دینے کا پابند نہیں ہوگا
ڈیلیوری کی سہولت کیلئے شروع سے آخر تک تمام چیک اپ سائرہ ہاسپٹل سے ہی کروانے ہوں گے
حجاز ہسپتال سے میڈیکل سہلوت کی پالیسی
طریقہ کار
ایچ آر آفس سے تصدیقی لیٹر لے کر ہسپتال کے اکاؤنٹس کاؤنٹر سے تصدیق کروانی ہوگی
فراہم کردہ سہولیات کی تفصیل
تمام او پی ڈی کے ٹیسٹ مفت
خصوصی صورتحال میں ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کر کے ادویات کی مفت فراہمی کی کوشش کی جائے گی
داخل مریضوں کی تمام ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹ مکمل طور پر مفت ہوں گے
گائنی سے متعلقہ تمام علاج، ادویات اور اخراجات مکمل طور پر مفت ہوں گے
حدود
ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات اراکین کو خود خریدنی ہوں گی
حمل کے تیسرے مہینے سے ولادت تک تمام معائنے حجاز ہسپتال کی ماہر گائناکالوجسٹ سے کروانا ضروری ہے، ورنہ سہولت لاگو نہیں ہوگی
میڈیکل سہلوت سے متعلق تاثرات اور تجاویز ضرور بتائیں
لون کی پالیسی
اہلیت
ایک سال سے خدمت کرنے والے تمام کل وقتی افراد ادارے سے قرض کی درخواست کے اہل ہیں
طریقہ کار
قرض کا درخواست فارم پر کرنا ہو گا
حدود
قرض کی زیادہ سے زیادہ رقم ماہانہ تنخواہ سے دو گنا سے زیادہ نہیں ہو سکتی
پہلے قرض کی مکمل ادائیگی سے پہلے دوسرے قرض کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی
خدمت درمیان میں چھوڑنے پر ادارہ قرض کی رقم دیگر واجب الادا رقوم سے کاٹنے کا مجاز ہے
زیادہ سے زیادہ قابل اجازت ادائیگی کی مدت چھ ماہ ہے
پیٹرول پالیسی (6.3)
روزمرہ کے معمول کے علاوہ کہیں اور کلاس پڑھانے پر اساتذہ کو فیول الاؤنس دیا جائے گا
ادارے کے کسی خارجی کام کیلئے بائیک استعمال ہونے پر فیول الاؤنس دیا جائے گا
مرکز کے وزٹ کا فیول الاؤنس مہینے میں صرف 5 مرتبہ تک ملے گا، زائد وزٹس کا نہیں
فیول الاؤنس فی کلومیٹر 14 روپے ہوگا جس میں پیٹرول اور بائیک کی معمولی دیکھ بھال شامل ہے
رخصت/ چھٹی کی پالیسی
مدرسین
طریقہ کار
دس اضافی چھٹیاں لینے کے لیے درخواست فارم فل کرنا ہوگا
دس اضافی چھٹیوں سے زائد چھٹی لینے لیے درخوست لکھنی ہوگی
سالانہ چھٹی کے لیے ہدایات
ادارے کا ہر فرد سالانہ دس (10) اضافی چھٹیوں کا حقدار ہے
لیو انکیشمنٹ
چھٹیوں میں ناظم کی اجازت سے کام کرنے پر ڈبل لیو انکیشمنٹ ملے گا
سال میں 10 دن سے کم چھٹی لینے والوں کو سال کے اختتام پر بقیہ ایام کا بونس ملے گا
حدود
ادارے کا ہر فرد اکیڈمک کلینڈر کا پابند ہے
اضافی چھٹی کی درخواست کیمپس ناظم اور ایچ آر کوآرڈینیٹر کی اجازت سے مشروط ہوگی
چھٹی کی منظوری کے بعد ناظم کیمپس استاد کا متبادل طے کرنے کا ذمہ دار ہوگا
دس سے اضافی چھٹیوں کی تنخواہ سے کٹوتی کی جائے گی۔
شادی کی چھٹی کے لیے ہدایات
اہلیت
کم از کم ایک سال خدمت کرنے والے مدرسین شادی کی چھٹی کیلئے بامعاوضہ اہل ہیں
تمام مدرسین 5 دن کی بامعاوضہ چھٹیاں حاصل کرسکتے ہیں
عمرہ کی چھٹی کے لیے ہدایات
اہلیت
کم از کم ایک سال خدمت کرنے والے مدرسین عمرہ کی چھٹی کیلئے بامعاوضہ اہل ہیں
عمرہ چھٹی ناظم اور ایچ آر کی منظوری سے زیادہ سے زیادہ 15 دن کی ہوگی، 5 دن بامعاوضہ اور بقیہ بلا معاوضہ
حج کی چھٹی کے لیے ہدایات
اہلیت
کم از کم ایک سال خدمت کرنے والے مدرسین حج کی چھٹی کیلئے بامعاوضہ اہل ہیں
حج چھٹی ناظم اور ایچ آر کی منظوری سے زیادہ سے زیادہ 40 دن کی ہوگی، 10 دن بامعاوضہ اور بقیہ بلا معاوضہ
ولادت کی چھٹی کے لیے ہدایات
ولادت کی چھٹی دو دن کی بامعاوضہ ہوگی
چھٹی کی درخواست کی منظوری کیمپس ناظم اور ایچ آر کوآرڈینیٹر سے لینا ہوگی
سوگوا ر چھٹی کے لیے ہدایات
قریبی رشتہ دار کی وفات پر تین دن کی بامعاوضہ سوگوار چھٹی کی اجازت ہوگی
ضروری وضاحت (استحقاق و حصول چھٹی)
اعلان کردہ تعطیلات کا استحقاق صرف انہی افراد کو ہوگا جو ان ایام میں ڈیوٹی پر موجود ہوں
سالانہ کیلنڈر کی تعطیلات سے مستفید ہونے کیلئے کم از کم تین ماہ کی مسلسل سروس لازمی ہے
چھٹی کیلئے فارم پر کر کے ناظم اور پھر ایچ آر کوآرڈینیٹر سے منظوری لینا ہوگی
غیر منصوبہ بند/غیر شیڈول چھٹیوں کے لیے ہدایات
ناظم کو بروقت اطلاع دینا ضروری ہے
ناظم موجود نہ ہوتو پرنسپل کو اس کی اطلاع دیں
ناظم کو اطلاع دیے بغیر چھٹی کرنے کی صورت میں بغیر اطلاع کے چھٹی سمجھی جائے گی
ہنگامی چھٹی کی صورت میں اگلے دن چھٹی کا فارم پرنا کرنا ضروری ہے
طلباء
چھٹی کی درخواست کو پر کرنا ضروری ہے
ہنگامی چھٹی ہوجائے تو اگلے دل فارم پُر کرنا ضروری ہے
چھٹی کرنے والے اور تاخیر سے آنے والے طلباء کی رپورٹ تیار کی جاتی ہے
ہدایات برائے عملہ
وقت کی پابندی
وقت کی پابندی کا اہتمام (4.1)
خدمت کے دن اور اوقات کام کی نوعیت اور ادارے و طلبہ کی ضروریات پر منحصر ہوں گے
آپ کے متعلقہ منتظم آپ کو آپ کے کام کے شیڈول سے آگاہ کر دیں گے۔
جو کہ آپ کی خدمت کے دن درکار ہونے اور گھنٹے آپ کے کام کے دوران تبدیل ہو سکتے ہیں۔
باقاعدگی سے حاضری اور ہر کام وقت پر ہونا ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔
غیر حاضری یا دیر سے آمد دوسروں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔
ہم آپ کو خاص طور پر وقت کے پابند رہنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
تمام اساتذہ بالخصوص مقامی، اسباق کے مقررہ وقت سے 15 منٹ پہلے پہنچنا لازم ہے
اگر آپ کوئی کام معینہ وقت پر نہ کر پائیں تو اپنے متوقع وقت سے پہلے اپنے منتظم سے رابطہ کریں۔
غیر رپورٹ شدہ غیر حاضری پر تادیبی کارروائی ہوسکتی ہے
انتہائی سستی اور غفلت کی صورت میں برطرفی کی سزا ہوسکتی ہے
دیر سے پہنچنا / جلد روانہ ہونے والوں کے لیے ہدایات
ادارے کے تمام افراد پر لازم ہے کہ وہ بروقت تشریف لائیں اور مقررہ وقت سے پہلے واپس نہ جائیں۔
ہر کیمپس منتظم روزانہ تاخیر سے آنے اور جلد جانے والوں کی رپورٹ مرتب کرے گا
مرتب کردہ حاضری رپورٹ کی پرنسپل آفس یا ایچ آر کو ترسیل ضروری ہے
منتظم کی طرف سے رپورٹ نہ بھیجنے پر اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی
تمام دیر سے آنے والوں کو یکجا کر کے رپورٹ کی سمری تیار کی جائے
رپورٹ مرتب کرنے کیلئے فارمیٹ نمبر چھبیس (26) ملاحظہ فرمائیں۔
چیک ان اور چیک آؤٹ پالیسی
ہر فرد کے لیے ٹائم اِن اور ٹائم آؤٹ ریکارڈ کرنا لازمی ہے
ٹائم ریکارڈ نہ کرنے کی صورت میں غیر حاضری تصور کی جائے گی
ایونٹ مینجمنٹ
مینجمنٹ ایونٹس (6.4)
پروگرام کی تشہیر
پروگرام سے کم از کم ایک ہفتہ پہلے اس کی بھرپور تشہیر کی جائے
سٹینڈیزکی تیاری
ایک ہفتہ پہلے متعلقہ پروگرام کی سٹینڈیز تیار ہو جائیں۔
پروگرام سے تین دن پہلے اخراجات ایکسل شیٹ میں درج کر کے پرنسپل سے منظوری اور ایچ آر سے رقم وصول کر لی جائے
ایک دن پہلے پروگرام کا مکمل شیڈول آغاز سے لے کر آخر تک تیار ہو۔
پروگرام سے ایک دن پہلے پورے کیمپس کی بشمول واش رومز باریک بینی سے صفائی کی جائے
پارکنگ کے لیے جگہ کا تعین۔
پارکنگ کیلئے افراد مقرر کیے جائیں اور دروازے پر آغاز سے آخر تک مستقل پہرہ ہو
پروگرام کے دوران کسی بھی فرد کیلئے ادارے کی طرف سے ریفریشمنٹ کی اجازت نہیں، ہر کوئی اپنا خرچ خود برداشت کرے گا
ہوئے کام کریں گے عام معمول کی طرح اپنا کھانے وغیرہ کا خرچ ذاتی طور برداشت کریں گے۔
مہمانوں کیلئے تیار کردہ ریفریشمنٹ صرف مہمانوں کیلئے ہے، بچا کھانا فریز کر کے آئندہ مہمانوں کیلئے رکھا جائے، استعمال کی اجازت نہیں
خارجی دروازے پر انفارمیشن ڈیسک قائم کیا جائے تاکہ نئے آنے والے آسانی سے معلومات حاصل کر سکیں
آنے والے حضرات آسانی سے معلومات حاصل کر سکیں۔
پروگرام میں کچھ افراد مقرر ہوں جو ہر آنے والے کا استقبال کر کے اسے مناسب جگہ بٹھائیں
مناسب جگہ پر بٹھا دیا جائے۔
خواص کے لیے کرسیوں اور جگہ کا تعین کیا جائے۔
دوران پروگرام پانی وغیرہ کے انتظام کے لیے خدام کا تعین۔
مہمانوں کو کھانا کھلانے کیلئے مضبوط جماعت قائم کی جائے، ہر دستر خوان پر کم از کم 12 افراد موجود ہوں
تمام آنے والے افراد کے رابطہ نمبر لینے کا انتظام کیا جائے۔
تمام اساتذہ اور خدام کا لباس صاف ستھرا اور مناسب ہو، ترجیحاً نیا یا دھلا ہوا لباس پہنیں
ہدایات برائے ایونٹ
ہدایات برائے ایونٹ
آئی ٹی مینجر (IT Manager) ہر (Event) میں حاضر ہو۔
ایونٹ کے دوران ہمسایوں کی شکایت پر فیکلٹی خوش اسلوبی سے حل کرے، ورنہ مولانا عتیق صاحب کو اطلاع دیں
(Deal) کریں گے۔
جسے جو ذمہ داری دی جائے وہ صرف اسی پر توجہ دے، دوسروں کے کاموں میں دخل نہ دے
خواص اور اخص الخواص کے کھانے کی الگ اور منظم ترتیب ہونی چاہیے
آئندہ آنے والے تمام مہمانوں کے لئے اگر کوئی مناسب صورت بن سکتی ہے تو کھانے کی ترتیب بنی چاہئے۔
گیٹ پر ہمہ وقت ایک فرد پہرہ دے، مین گیٹ کبھی خالی نہ چھوڑا جائے
استقبالیہ پر مہمانوں کے جوتوں کیلئے مناسب جگہ اور خواص کیلئے الگ جگہ مقرر کی جائے
سپیکر کے کھڑے ہونے کی جگہ پہلے سے تیار کی جائے تاکہ آ کر فوراً تقریر شروع کر سکے
فیس پالیسی
فیس کی مجموعی پالیسی
ہر طالب علم سے 10 تاریخ تک فیس وصول کر کے فوری رسید پرنٹ یا واٹس ایپ کی جائے
مقررہ وقت تک فیس نہ دینے والے طالب علم کو مطلع کیا جائے، پھر ملاقات کر کے وجہ تحریری طور پر پیش کی جائے
مکمل فیس نہ دینے والے طالب علم کیلئے اسکالرشپ کے تحت قابلِ ادا رقم پرنسپل آفس سے منظور کروائی جائے
ہر ماہ 25 تاریخ تک فیس کی رپورٹ پرنسپل آفس میں جمع کروائی جائے
کورس کے لحاظ سے فیس کی تقسیم:
درس نظامی : 10,000 ماہانہ
چار سالہ کورس : 7,000 ماہانہ
اسلامک ایسنشل کورس 4,000 ماہانہ
صراط الجنہ (ایک دن کلاس ) : 3,000 ماہانہ
فیس کی وصولی کا طریقہ کار :
یکم تاریخ
اکاؤنٹ ایگزیکٹو ہر طالب علم کو فزیکل یا واٹس ایپ کے ذریعےفیس واوچر بھیجیں۔
تاریخ
پینڈنگ فیس کی فہرست تیار کریں اور برانچ ہیڈ کے حوالے کر دیں۔
طلبہ کو کال کر کے ان سے فیس کی ادائیگی کی درخواست کریں۔
نوٹ:
فیس وصول ہونے پر ہر طالبعلم کو وصولی کی رسید لازما جاری کریں۔
فیس پالیسی برائے ٹپ سوسائٹی
ادارے کے ماہانہ اخراجات فی طالب علم تقریبا 10,000 روپے ہیں۔
علم آپ سوسائٹی کیمپس کیلئے فی طالب علم ماہانہ 2000 روپے فیس مقرر ہے
اگر کوئی طالب علم اپنی خوشی سے اس سے زیادہ رقم اخراجات کی مد میں ادارے کو دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
ٹپ سوسائٹی کیلئے فیسوں کی وصولی کا طریقہ کار
یکم تاریخ کو تمام طلباء کو فیس واؤ پر جاری کیے جائیں گے۔
فیس جمع نہ کروانے والے طلبہ کو 10 تاریخ کو یاد دہانی کا پہلا پیغام بھیجا جائے گا۔
مقررہ تاریخ تک فیس وصول نہ ہونے پر اکاؤنٹ آفس دوسری بار یاد دہانی کروائے گا
ٹپ سوسائٹی فیس وصولی کا انچارج:
آپ سوسائٹی میں فیس وصولی کا مکمل انچارج فی الحال مولانا علیان معاویہ صاحب ہیں
فیس وصول نہ ہونے پر اکاؤنٹ آفس کو اطلاع دی جائے گی، جس پر وہ رسید بھیجے گا
بیت القرآن فیس پالیسی
بیت القرآن کم از کم فیس:
فیس میں اضافے کیلئے فیصل اظہر اور قاری محمود صاحب سے مشاورت کی جائے
ہر طالب علم کیلئے کم از کم فیس : 7,000
حفظ فیس : 4,000
2,000 اسکول
1,000 بجلی
اس کا ایک نمونہ شیئر کریں۔
بيت القرآن فیس کی فالو آپ کا طریقہ کار:
یکم تاریخ
فیس کا واؤچر جاری کریں، اور والدین کو ہاتھ سے یا واٹس ایپ کے ذریعے دیں۔
تاریخ
ہر ماہ 10 تاریخ تک تمام فیسیں وصول ہوں، اکاؤنٹ ہیڈ پینڈنگ رپورٹ تیار کر کے برانچ ہیڈ سے شیئر کرے
اکاؤنٹ ایگزیکٹو ڈیفالٹر سے ملاقات کرے اور والدین کو فیس ڈیفالٹ لیٹر جاری کرے
ڈیفالٹر طلبہ کو فیس کلیئر ہونے تک کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہ دی جائے، سزا کے طور پر گھر بھیجا جائے
ماہانہ کفالت سسٹم
کفیل والے طالب علم کا یونیک آئی ڈی زوہو کسٹمر ریکارڈ میں درج کیا جائے
کفیل کی ادائیگی کے عرصے کے مطابق زوہو میں Recurring Invoice بنائی جائے
اکاؤنٹ آفس ہر ماہ کفیل کو طالب علم کی تعلیمی رپورٹ بھیجے گا
حلم سکالر شپ پالیسی
مکمل فیس ادا نہ کر سکنے والے طلبہ کیلئے ادارہ اسکالرشپ پالیسی فراہم کرتا ہے، فارم پر کروانا ضروری ہے
HR ڈیپارٹمنٹ
ایڈمن
شعبہ ایڈ من پالیسی
شعبہ ایڈمن کی ذمہ داریاں
شعبہ ایڈمن کی ذمہ داریوں اور طریقہ کار کو باقاعدہ شکل دی جا رہی ہے
سال میں ایک بار ہونے والے کام شعبہ ایڈمن کے دائرہ اختیار میں شمار ہوں گے
1500 روپے یا اس سے کم لاگت کا کام برانچ ناظم خادم کے ذریعے پیٹی کیش سے بغیر پیشگی اجازت کروا سکتا ہے
1500 روپے سے زائد لاگت والے کاموں کیلئے شعبہ ایڈمن سے پیشگی اجازت لازم ہوگی
نئی چیز یا سامان درکار ہونے پر Capex فارم پر تفصیلات درج کر کے شعبہ ایڈمن میں جمع کروانا
فارم جمع کروانا لازم ہوگا، فارم کے بغیر کوئی سامان فراہم نہیں کیا جائے گا
شکایت صرف قاری عبدالرحمن صاحب کی جانب سے موصول ہونے پر ہی زیرِ غور آئے گی
معمولی کام تین دن میں اور بڑے کام مولانا عتیق طارق صاحب کی منظوری کے بعد دس دن میں مکمل کیے جائیں گے
خدام سے متعلق انتظامی ہدایات
خدام کا انتظامی تعلق براہِ راست شعبہ ایڈمن سے ہے، تمام ہدایات وہیں سے جاری ہوں گی
روزمرہ صفائی اور نظم کی ذمہ داری بیت القرآن کیمپس ناظم کی ہے، کوتاہی کی صورت میں فوراً شعبہ ایڈمن کو اطلاع دی جائے
برانچ ناظم شعبہ ایڈمن کی رہنمائی میں خدام کو کام سونپنے اور نگرانی کا ذمہ دار ہوگا
1500 روپے تک کا کام برانچ ناظم فوری کروا سکتا ہے، زائد رقم کیلئے ایڈمن کی اجازت لازم ہوگی
خدام حلم اور بیت القرآن دونوں شعبوں میں خدمات انجام دینے کے مکلف ہوں گے
خدام کی چھٹی کیلئے بیت القرآن کیمپس ناظم سے سفارش کروانا ضروری ہوگی
ہاؤس کیپنگ
ہر کیمپس ناظم صفائی کی یومیہ، ہفتہ وار اور ماہانہ رپورٹ پیش کرے گا
نئی تقرریوں کا طریقہ کار
سی وی موصول ہونے کے بعد انفارمیشن کیلئے گوگل فارم بھیجا جائے
گوگل فارم کے جائزے کے بعد دور کے شہر والے امیدوار سے موبائل پر رابطہ کیا جائے
موبائل پر رابطے کے بعد مفید محسوس ہونے پر بالمشافہ انٹرویو کیلئے بلایا جائے
تقرری کے بعد فارم کے ذریعے تصویر، سی وی، شناختی کارڈ اور تعلیمی اسناد جمع کروائی جائیں
دستاویزات مکمل ہونے تک نئے فرد کو نہ بلایا جائے اور نہ ذمہ داری دی جائے
دستاویزات مکمل ہونے کے بعد نئے استاد کو ادارے کے اصول و ضوابط کی مکمل اورینٹیشن دی جائے
اثاثہ جات کی پالیسی
کیمپس کے تمام اثاثہ جات پر ٹیگ لگا کر فارمیٹ میں درج کرنا ناظمین کی ذمہ داری ہے
نئے اثاثے کی خریداری تین وینڈرز کی تحریری کوٹیشن اور پرنسپل آفس کی منظوری سے کی جائے
منظوری کے بعد اثاثے کی رقم مہینے کے شروع میں بجٹ کے ساتھ دی جائے گی
تمام اثاثہ جات پر لیگ ( نمبر ) لگا ہوا ہو نا ضروری ہے۔
کسی فرد کو ایسیٹ جاری ہونے پر فارم اور گوگل فارم پر اندراج لازمی ہے، ہارڈ کاپی ایچ آر کے پاس محفوظ رہے گی
ہدیہ پالیسی
استاد اور شاگرد کا تعلق خالصتاً اللہ کی رضا کیلئے قائم ہونا چاہیے
ذاتی مالی مفاد شامل ہونے سے استاد شاگرد کے تعلق کی برکت اور احترام کمزور پڑ جاتا ہے
یہ اصول حضرت ڈاکٹر صاحب کی حیات سے ورثے میں ملا ہے، انتظامیہ اسی کے مطابق معاملات اللہ کی رضا کیلئے رکھتی ہے
ہدیہ پالیسی اس مقصد کیلئے وضع کی جا رہی ہے تاکہ ادارے میں کسی کا ذاتی مالی تعلق قائم نہ ہو
ہدیہ (تحفہ) وصول کرنے کی قطعی ممانعت
کسی بھی استاد یا عملے کے فرد کو طالب علم یا والدین سے ہدیہ قبول کرنے کی قطعی اجازت نہیں
مجبوری کی صورت میں طریقہ کار
اگر کوئی شخص زبر دستی یا شدید اصرار کرکے کوئی تحفہ دے تو متعلقہ فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ:
اسے فوراً ادارے کی انتظامیہ (ایڈمن ڈیپارٹمنٹ) کے پاس جمع کروادے۔
یہ یقینی بنائے کہ تحفہ ذاتی استعمال میں لائے بغیر ادارے کی ملکیت بن جائے۔
مجھنے کو فوری طور پر جمع کروانے میں کسی قسم کی تاخیر یا غیر ضروری اعتراض کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انتظامیہ کا اختیار
انتظامیہ کے پاس جمع کرایا گیا ہدیہ ادارے کی ملکیت سمجھا جائے گا اور اپنی صوابدید پر استعمال ہوگا
خیرات یارفاہی کاموں میں دینا۔
کسی تعلیمی یا دفتری مقصد کے لیے استعمال کرنا۔
انتظامیہ چاہے تو تحفہ اصل فرد کو واپس بھی کر سکتی ہے، بشرطیکہ ادارے کے وقار کے خلاف نہ ہو
مالی تقاضا اور فرمائش کی ممانعت
طالب علم یا والدین سے مالی تقاضا یا فرمائش کرنا سنگین ضابطہ شکنی تصور ہوگا اور سخت کارروائی ہوگی
کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کی ممانعت
عملے یا طلبہ کو تعلیمی حلقے میں ذاتی تجارت یا کاروبار فروغ دینے کی اجازت نہیں
طلبہ کو تعلیمی حلقے میں کوئی چیز بیچنا یا اپنی تجارت کیلئے استعمال کرنا سختی سے منع ہے
افراد اپنے کاروبار کا حلقہ تعلیمی حلقے سے بالکل الگ رکھیں گے
قرض یا مالی معاونت کا مطالبہ
کسی بھی فرد سے قرض یا کارِ خیر میں تعاون کا مطالبہ کرنے کی اجازت نہیں
قرض کا لین دین یا کسی بھی مالی معاونت کا مطالبہ اس ضابطہ اخلاق میں شامل ہے
بیرونی رفاہی سر گرمیوں کی ترغیب
کسی بھی عملے کے فرد کو مدرسے ، گاؤں یاد یہات کے اندر مسجد کی تعمیر یا کسی بھی کار خیر کی طرف:
مسجد کی تعمیر یا کارِ خیر کیلئے کسی کو محسوس یا غیر محسوس انداز میں ترغیب دلانا منع ہے
اس سلسلے میں مطالبہ کرنا یا مہم چلانا سختی سے منع ہے، ایسی سرگرمیوں سے احتراز کیا جائے
خلاف ورزی کے نتائج
پالیسی کی خلاف ورزی پر ادارے کے ضوابط کے مطابق تادیبی کارروائی کی جائے گی
کارروائی میں انتظامی فیصلے، تنبیہ یا دیگر مناسب قانونی اقدامات شامل ہو سکتے ہیں
ترقی کی پالیسی
سال کے آخر میں ناظم کارکردگی رپورٹ جمع کرائے گا جس کی بنیاد پر تنخواہ و گریڈ میں اضافہ ہوگا، ناظمین کی ترقی پرنسپل آفس سے ہوگی
رہائش پذیر خادمین اور اساتذہ کیلئے پالیسی
ادارے میں قیام کے دوران کسی بھی غیر شرعی، غیر اخلاقی یا غیر قانونی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی
رہائش کیلئے متعین کمرہ صرف آرام کیلئے استعمال کیا جائے
سامان رکھنے یا کھانے کیلئے متعین کمرہ صرف اسی مقصد کیلئے استعمال کیا جائے
کارپٹ پر استری نہ کی جائے، صرف مقررہ جگہ پر استری کی جائے
اپنے ذاتی کمرے کی صفائی ستھرائی کا خوب خیال رکھیں۔
اپنے استعمال شدہ برتن خود صاف کریں، خادم پر ذاتی کاموں کا بوجھ نہ ڈالیں
اپنے کسی عزیز یا دوست کو رات یا دن قیام کروانے کی ہرگز اجازت نہیں
رات دس بجے کے بعد باہر جانے کی اجازت نہیں اور نہ ادارہ اس وقت کے بعد کھولا جائے گا
مین گیٹ کی چابی صرف مقررہ دو افراد کے پاس ہوگی، ڈپلیکیٹ چابی رکھنے کی اجازت نہیں
ادارے کا خادم کسی بھی مقیم کی ذاتی خدمت کا ہر گز پابند نہیں ہو گا۔
کلاس رومز، ٹیرس اور گیراج میں بغیر دھلے کپڑے یا سامان رکھنے کی اجازت نہیں
اپنے ذاتی کام وغیرہ کے لئے خادم کو ادارے سے باہر بھیجنے کی اجازت نہیں ہے۔
ادارے کے کسی بھی آفس میں بلا اجازت داخل ہونے / بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے۔
عارضی یا مستقل قیام نہ کرنے کی صورت میں پیشگی ناظم کو خود اطلاع دینا ضروری ہے
تمام شرائط کی پابندی ہر ساتھی پر لازم ہے، ورنہ ادارہ رہائش ختم کرنے کا حق رکھتا ہے
بلا دعوت کسی پروگرام کے کھانے میں شرکت کی اجازت نہیں، صرف باقاعدہ دعوت پر ہی شریک ہوں
پروگرامز میں ادارہ آپ کی خدمات حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے اور آپ اس کے پابند ہوں گے
صرف اجازت شدہ واش رومز استعمال کریں اور صفائی کا خاص خیال رکھیں
ذاتی مہمان کیلئے ادارے کی طرف سے کھانے کا انتظام نہیں کیا جائے گا
کسی بھی وقت ذاتی طور پر اے سی استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں
مقیم اساتذہ کو کھانے کی مد میں ماہانہ 5000 روپے دیے جائیں گے
مقیم اساتذہ ادارے کا کچن اور سامان بھی استعمال کر سکتے ہیں
لباس پالیسی
اساتذہ صاف اور عمدہ لباس اپنائیں، ترجیحاً سفید قمیص شلوار کے ساتھ سفید ٹوپی اور عمامہ
درج ذیل امور کا خیال رکھیں
لباس صاف ستھرا ہو۔
استری شدہ ہو۔
روزانہ کی بنیاد پر لباس میں تبدیلی ہو۔
اگر ہو سکے تو واسکٹ بھی پہن کر آئیں۔
نامناسب لباس پر مشورہ اور زبانی وارننگ دی جائے گی، بار بار خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی ہوگی
درج ذیل نا مناسب علیہ / لباس کا استعمال ممنوع ہے:
کندھے کا رومال
پھٹے ہوئے کپڑے ( سوراخ ، دھبے ، داغ، جو دھاگے سے ہیں، وغیرہ)
میلے کچیلے کپڑے ، ٹوپی، عمامہ وغیرہ۔
بالوں کا بڑھا ہوا ہونا۔
بال صاف ستھرے ہوں، داڑھی اور مونچھوں کی تراش سنت کے مطابق ہو
رنگ برنگے کپڑوں، ٹوپیوں اور مفلروں سے پرہیز کیا جائے
جوتے صاف رکھے جائیں اور رنگ برنگے جوتوں سے گریز کیا جائے
کیمپس کے اندر منہ پر رومال، مظر ، چادر وغیرہ نہ لیٹی جائے۔
ڈریس کوڈ ٹھیک نہ ہونے پر ناظم انتباہ کرے گا، مسلسل خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی ہو سکتی ہے
اے سی کے استعمال کی پالیسی
کلاسز کے اے سی صرف تعلیمی اوقات میں 26 ڈگری پر چلائے جائیں گے، ناظم خود چلانے اور بند کرنے کا ذمہ دار ہوگا
تعلیمی اوقات کے علاوہ ذاتی طور پر اے سی استعمال کی اجازت نہیں، البتہ مجالس یا عوامی پروگرام میں چلایا جا سکتا ہے
جن کیمپسز میں آفس ہے وہاں تعلیمی اوقات میں صرف دو گھنٹے 26 ڈگری پر اے سی چلانے کی اجازت ہوگی
آ فس AC پالیسی
تمام کیمپس آفسز میں اے سی 27 ڈگری پر زیادہ سے زیادہ 3 گھنٹے روزانہ استعمال ہوگا
کام کے اوقات سے زیادہ اے کی استعمال نہ کیا جائے۔
مقیمین اساتذہ AC پالیسی
عام حالات میں کیمپس میں رہائشی عملے کو AC استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
دن کے وقت AC استعمال نہ کریں۔
ضرورت پڑنے پر رہائشی عملہ صرف رات کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ چار گھنٹے AC استعمال کر سکتا ہے، کیمپس سربراہ کی منظوری ضروری ہے
یاد رہے کہ سردیوں میں اے سی ( بطور ہیٹر ) چلانے کی اجازت نہیں۔
اے سی استعمال کرنے والے افراد بجلی کے بل میں سے استعمال شدہ یونٹس کے حساب سے ادارے کو ادائیگی کریں گے
AC کے ماہانہ استعمال کی رپورٹ فارمیٹ نمبر چونتیس (34) پر درج کر کے جمع کروائیں۔
نیو کیمپس پالیسی
جب بھی کوئی نیا کیمپس یا کلاس کھولی جائے گی تو اس کے حوالہ سے تمام انتظام کیے جائیں گے۔ مثلاً
ضرورت کے بقدر کرسیوں کا انتظام کیا جائے گا۔
مار کر اور ڈسٹر وغیرہ کا بندوبست کیا جائے گا۔
وائٹ بورڈ وغیرہ کا اہتمام کیا جائے گا۔
سپیکر کا خصوصی بنیادوں پر انتظام کیا جائے گا۔
کارپٹ کا انتظام کیا جائے گا۔
پینٹ کا مکمل کام کروایا جائے گا۔
کیمروں کا انتظام کیا جائے گا۔
خواتین کی کلاسز والے تمام انتظامات مکمل کیے جائیں گے۔
سوشل میڈیا پالیسی
تعلیمی اوقات میں اساتذہ کیلئے موبائل کا استعمال ناجائز اور حرام ہے، موبائل دیکھ کر سبق پڑھانا بھی منع ہے
داخلہ پالیسی
ملاقات اور رہنمائی
ملاقات اور رہنمائی
نئے طلبہ کی ہفتہ وار ملاقات مولانا عتیق صاحب یا مقامی ذمہ داران سے ذہنی ہم آہنگی کیلئے لازمی ہوگی
طریقہ کار انتخاب
انٹرویو
داخلے سے پہلے مولانا عتیق صاحب یا متعلقہ ذمہ دار امیدوار کا تفصیلی انٹرویو لیں گے
حتمی فیصلہ
داخلے کا فیصلہ انٹرویو کے بعد کمیٹی کی منظوری سے مشروط ہوگا
دستاویزی کار روائی
کامیابی کی صورت میں فوراً آنلائن رجسٹریشن اور ایڈمیشن فارم پر کروایا جائے گا
درجہ اولی میں بر اور است داخلہ
درج ذیل صورتوں میں طالب علم کو بر اور است درجہ اولی میں داخلہ دیا جا سکتا ہے:
اگر طالب علم ذی استعداد ہو یا ادارے کے کسی شارٹ کورس سے فارغ التحصیل ہو۔
اگر طالب علم کسی دینی گھرانے سے ہو یا کسی شیخ سے اصلاحی تعلق رکھتا ہو۔
بشر طیکہ انٹرویو کے ذریعے طالب علم کا مستقل مزاجی سے پڑھنے کا شوق واضح ہو جائے۔
عمومی ضوابط
زیرِ تعلیم طالب علم کو کورس مکمل کیے بغیر دوسرے کورس میں تبدیل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی
داخلے، امتحانات اور اسکالرشپ سے متعلق تمام امور کھل کر واضح کیے جائیں گے
برائے درس نظامی
انٹرویو کے بعد کورس آؤٹ لائن، فیس اسٹرکچر اور اسکالرشپ سمیت تمام امور پر مکمل اورینٹیشن دی جائے گی
تعلیمی شرط : داخلے کے لیے گریجویشن (BA/BSC یا مساوی ) ہو نا ضروری ہے۔
عمر کی حد: عمر کی حد 45 سال مقرر ہے۔
زیرِ تعلیم طلبہ اور متحرک کاروباری حضرات عمر اور تعلیم کی شرط سے مستثنیٰ ہوں گے
ایڈمیشن پالیسی:
ادارے میں نئے طلبہ کے داخلے سر انجام دینے کے لیے درج ذیل پالیسی پر عمل کیا جائے گا:
عمومی ملاقاتیں:
ہفتے میں دو تین بار مختلف کیمپسز پر عمومی ملاقاتیں ہوں گی جن میں ناظمین اور ذمہ داران نئے آنے والوں سے ملیں گے
خصوصی ملاقاتیں:
خصوصی نوعیت کی ملاقاتوں کے لیے مولانا سفر ہم صاحب ہر کیمپس کا دورہ کریں گے۔
داخلہ اور انٹر ویو:
ملاقاتوں کے فوراً بعد نئے داخلوں کیلئے گوگل رجسٹریشن فارم پر کروایا جائے
نئے طلبہ کا انٹرویو لیا جائے گا، ڈی ایچ اے میں مولانا عتیق صاحب خود انٹرویو لیں گے
دیگر کیمپسز میں کیمپس ناظم اور مفتی سفیان صاحب مشترکہ طور پر انٹرویو لیں گے
انٹرویو میں کورسز، فیس، اسکالرشپ شرائط، وقت کی پابندی اور امتحانی نظام کی تفصیل بتائی جائے گی
انٹرویو کے فوراً بعد گوگل داخلہ فارم پر کروا کر کلاسز کا باقاعدہ آغاز کیا جائے
اور مینیشن اور استقبالیہ :
کلاسز کے آغاز سے قبل جامع اورینٹیشن سیشن منعقد کیا جائے
اورینٹیشن میں شریک طلبہ کا چائے وغیرہ سے بہترین انداز میں اکرام کیا جائے
اکرام کا نظم پہلے سے طے شدہ ہو، عین موقع پر انتظام کروانے سے گریز کیا جائے
اوپن ہاؤس:
ہر کیمپس میں اوپن ہاؤس کا انعقاد یقینی بنایا جائے اور تاریخوں کا پیشگی اعلان کیا جائے
لائبریری پالیسی
ناظمین کتابوں کی حفاظت کے پابند ہیں، ہر کتاب پر مہر لگا کر فارمیٹ میں اندراج اور حساب رکھا جائے
نئی کتابیں خریدنے کی پالیسی
نئی کتاب کیلئے فارمیٹ میں تفصیل لکھ کر ناظم اور پھر پرنسپل علم سے منظوری لی جائے، رقم طلبہ سے وصول کی جائے گی
تمام نئی کتابیں پرنسپل آفس کی منظوری کے بعد ڈی ایچ اے کیمپس سے جاری کی جائیں گی
ہر نئی کتاب پر مہر لگا کر رجسٹر شیٹ میں اندراج کرنا ضروری ہے
مابانه تربیت پالیسی
ہر ماہ خادمین اور اساتذہ کی تربیت کیلئے علیحدہ مجالس منعقد ہوں گی، اساتذہ کی مجلس میں شرکت لازم ہے
خواتین کی کلاسز شروع کرنے کی پالیسی
خواتین کی کلاس کے وقت کسی مرد استاد یا خادم کا وہاں موجود ہونا حرام ہے، بدنظمی پر ناظم کے خلاف سخت کارروائی ہوگی
خواتین کی تعلیم کے اصول و ضوابط پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا
خواتین کو پڑھانے والے مرد اساتذہ مکمل ضابطہ اخلاق، پردے کا خیال اور شائستہ گفتگو اپنائیں
طالبہ کا موبائل پر استاد سے ذاتی رابطہ ممنوع ہے
ہر خواتین کلاس میں ایک مراقبہ موجود ہوگی جو نظم و ضبط کی ذمہ دار ہوگی، اس کی حاضری استاد کی طرح لازم ہوگی
خواتین کی کلاسز کے انتظام سے متعلق پالیسی
خواتین کی کلاسز شروع ہونے سے قبل درج ذیل تمام امور مکمل کر لیے جائیں:
خواتین کے لئے چائے اور پانی کا نظم دیکھنا
خواتین کلاس شروع ہونے سے پہلے چائے پانی تیار رکھا جائے
کیمرے بند کرنا
پردہ کا انتظام کرنا
کلاسز شروع ہونے سے پہلے تمام پر دے لٹکا دیے جائیں۔
خواتین کے آنے جانے کے راستے کے علاوہ باقی تمام دروازے بند کر دیے جائیں
کلاسز شروع ہونے سے پہلے سکرین سیٹ کر کے اسکو فعال کرنا
خواتین کی کلاس کے وقت کسی مرد کے اندر موجود نہ ہونے کی یقین دہانی کی جائے
سپیکر وغیرہ چیک کرنا
کلاس شروع ہونے سے آدھا گھنٹہ پہلے ناظم خود نگرانی میں تمام انتظامات مکمل کروائے، صرف خادم پر انحصار نہ کرے
انحصار نہ کرے بلکہ خود ان تمام امور پر عمل کی یقین دہانی کرے اور خادم یہ تمام کام کر کے کلاس سے آدھا گھنٹہ پہلے باہر آجائے۔
خواتین کو پڑھانے کی شرعی حدود
خواتین کی کلاسز شروع ہونے سے قبل درج ذیل تمام امور مکمل کر لیے جائیں:
مرد اساتذہ کیلئے خواتین کو پڑھانا نازک معاملہ ہے، شرعی حدود کی مکمل پابندی ضروری ہے
طالبات سے صرف بقدرِ ضرورت کلام کرنا جائز ہے، بلا ضرورت بات کرنا جائز نہیں
بات کرتے وقت آواز اور لہجے میں لچک پیدا کرنا جائز نہیں
طالبات سے مذاق یا لطیفے سنانا شرعاً جائز نہیں، یہ سخت گناہ ہے
اساتذہ طالبات کو نام کے بجائے بنتِ فلاں یا زوجہِ فلاں کہہ کر پکاریں
کسی خاص طالبہ کے ساتھ امتیازی سلوک یا اسے نشانہ بنا کر طنز و ڈانٹ نہ کی جائے
کسی طالبہ کی خاصیت کو ایسے انداز میں پیش کیا جائے کہ دوسروں کیلئے بھی تحریک بنے
اساتذہ غیر مہذب زبان استعمال نہ کریں۔
سبق کے علاوہ گپ شپ نہ کی جائے، اصلاحی گفتگو ضرورت پر سبق کے دوران ہی کر دی جائے
طالبہ کی ذاتی زندگی کے بارے میں سوال نہ کیا جائے اور استاد بھی اپنی ذاتی زندگی کا ذکر نہ کرے
طالبہ سے ذاتی نمبر پر براہِ راست رابطہ سخت ممنوع ہے، رابطہ صرف گروپ میں کیا جائے
انفرادی پڑھانے کی پالیسی
انفرادی ذمہ داری نبھانے والے اساتذہ حاضری رپورٹ واٹس ایپ کے ذریعے ہیڈ آفس بھیجتے رہیں
مربی / نگران استاد کی پالیسی
ہر کلاس کیلئے نگران استاد مقرر ہوگا جو حاضری، غیر حاضر طلبہ سے رابطہ اور مسائل کا حل یقینی بنائے گا
نگران استاد وقتاً فوقتاً طلبہ کو نفلی روزوں کی ترغیب جیسی تربیتی سرگرمیاں بھی دے
تمام ناظمین اپنے کیمپس کی کلاسوں کے نگران اساتذہ کی فہرست بھجوائیں گے
مراقبہ کی پالیسی
خواتین کی کلاسز میں ادارے کی طرف سے مراقبہ موجود ہوگی جو نظم دیکھے گی اور استاد و طالبات کے درمیان واسطہ ہوگی
مراقبہ کی ذمہ داری کے حوالے سے اصول و ضوابط
مراقبہ کی ذمہ داری کے حوالہ سے کچھ اصول و ضوابط طے کیے گئے ہیں، جن کو ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے:
مراقبہ روزانہ تمام اسباق کا فیڈ بیک مقررہ فارمیٹ پر تحریری طور پر جمع کروائے
سبق میں طالبات کو پیش آنے والی مشکل اور اس کا حل فارمیٹ پر تحریر کیا جائے
مراقبہ کی ذمہ داری صرف نگرانی تک ہے، البتہ مجبوری میں سبق بھی پڑھا سکتی ہے
کلاس کی تمام طالبات کو رول نمبر جاری کرنا بھی مراقبہ کی ذمہ داری میں شامل ہو گا۔
روزانہ ہر سبق کی الگ حاضری لگانا مراقبہ کی ذمہ داری ہوگا
نئی آنے والی طالبات کا پہلے ہی دن داخلہ فارم مکمل کروا کر انتظامیہ کو مطلع کیا جائے
واٹس ایپ گروپ بنا کر تمام طالبات کو اس گروپ میں شامل کر نا مراقبہ کی ذمہ داری ہے۔
فاطمہ اکیڈمی کا آفیشل نمبر واٹس ایپ گروپ میں شامل کر کے مکمل رابطہ رکھا جائے
فاطمه اکیڈمی میں لگی ہوئی سکرین کا سیٹ اپ کرنا بھی مراقبہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
دوران سبق اساتذہ کرام کیلئے خصوصی ہدایت
دورانِ سبق سبق سے ہٹ کر گپ شپ اور سیاسی موضوعات پر بات چیت سختی سے ممنوع ہے
اساتذہ کوئی ایسا قول و فعل اختیار نہ کریں جس سے ادارے کا سیاسی جھکاؤ ظاہر ہو
کلاس کے دوران موبائل فون کا استعمال بالکل نہ کریں۔
موبائل میں کتاب کھول کر نہ پڑھائیں، کتاب نہ ہونے کی صورت میں ناظم سے رجوع کریں
امتحان کی پالیسی
دو بنیادی امتحانوں کے علاوہ ہر ماہ ہر کتاب کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کی جائے گی
ترقی کا فیصلہ 10 فیصد ماہانہ ٹیسٹ، 10 فیصد حاضری، 40 فیصد درمیانی اور 40 فیصد سالانہ امتحان کی بنیاد پر ہوگا
امتحان میں بیٹھنے کیلئے 75 فیصد حاضری لازم ہے، کم حاضری والے کو درخواست منظور کروانی ہوگی
امتحان والے دن جوابی کاپی، اسٹیپلر جیسی تمام ضروری چیزیں مہیا کرنا ضروری ہے
امتحان سے متعلق تفصیلی پالیسیز اور فارمیٹس
امتحان سے قبل مکمل امتحانی پالیسی مرتب کی جائے گی جس میں تاریخیں، نوٹس اور پیپرز شامل ہوں گے
ناظمین طلبہ کو نوٹس جاری کریں گے، اساتذہ سے پیپرز بنوائیں گے اور دیگر امور یقینی بنائیں گے
امتحانی ڈیٹ شیٹ مرتب کی جائے گی ( اسکے لیے فارمیٹ نمبر پندرہ (15) ملاحظہ کریں۔)
طلباء کو رول نمبر جاری کیے جائیں گے۔
امتحان کیلئے جوابی شیٹ مہیا کی جائے گی (انگریزی جوابی شیٹ کیلئے فارمیٹ نمبر سولہ (16) اور اردو جوابی شیٹ کیلئے فارمیٹ نمبر سترہ (17) ملاحظہ فرمائیں۔)
طلباء کو جوابی شیٹ کے بعد مزید شیٹ درکار ہو تو اسکے لیے انکو اضافی شیٹ فراہم کی جائے گی (انگریزی اضافی شیٹ کیلئے فارمیٹ نمبر اٹھارہ (18) اور اردو اضافی شیٹ کیلئے فارمیٹ نمبر انیس (19) ملاحظہ فرمائیں۔)
ہر پیپر میں طلباء کی حاضری لی جائے گی (انگریزی حاضری شیٹ کیلئے فارمیٹ نمبر میں (20) اور اردو حاضری شیٹ کیلئے فارمیٹ نمبر اکیس (21) ملاحظہ فرمائیں)
کلاس کا مجموعی رزلٹ مرتب کیا جائے گا ( اسکے لیے فارمیٹ نمبر بائیس (22) ملاحظہ کریں)
ہر طالب علم کا نفر اوی رزلٹ کارڈ بھی تیار کیا جائے گا ( اسکے لیے فارمیٹ نمبر تئیس (23) ملاحظہ کریں)
پوزیشن ہولڈر طلباء، اعزازی انعامات والے طلباء ، دستار بندی والے طلباء کی لسٹ بنانے کیلئے فارمیٹ نمبر چوبیسں (24) ملاحظہ کریں۔
ماہانہ جائزہ اور رپورٹ
مہینے کی 25 تاریخ کو زوہو سے پینڈنگ فیس والوں کی فہرست بنا کر حاضری فائل اپ ڈیٹ کی جائے
مہینے کی 25 تاریخ کو حاضری اور داخلہ فارم کا زوہو کسٹمرز سے موازنہ کیا جائے
تمام چھوڑ کر جانے والے کسٹمرز کو ان ایکٹو کر دیں۔
نئے طلبہ کازو ہو میں اندراج کر دیں۔
پینڈنگ فیس کی وجوہات پر رپورٹ تیار کریں۔
ماہانہ قابل وصول فیسوں کا جائزہ۔
زکوة طلبہ رپورٹ
ASL (Actual Students List)
اے ایس ایل رپورٹ کا Pivot تیار کریں۔
ناظم تعلیم
ناظم تعلیم کون ہے؟
فرائض و ذمہ داریاں
قواعد و ضوابط سے مکمل آگاہی رکھنا
قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنانا
تدریسی وسائل کا تعین اور فراہمی کو یقینی بنانا
اساتذہ کی نگرانی کرنا اور کارکردگی بہتر بنانا
طلبہ کی نگرانی کرنا اور رہنمائی فراہم کرنا
سازگار تعلیمی ماحول اور علمی ذوق پیدا کرنا
تعلیمی نظام کا جائزہ لے کر معیار بہتر بنانا
اساتذہ سے تجاویز حاصل کر کے عمل کرنا
تعلیمی مسائل کا جائزہ لے کر حل پیش کرنا
سرکاری و غیر سرکاری اداروں سے رابطہ اور نمائندگی کرنا
ریکارڈ محفوظ رکھنا اور رپورٹس فراہم کرنا
فون کالز وصول کر کے ان پر کارروائی کرنا
دفتری فائلیں اور ریکارڈ منظم رکھنا
منصوبوں کے بارے میں سفارشات پیش کرنا
تعلیمی رپورٹس کا جائزہ لے کر پیش کرنا
ملازمین میں خود احتسابی کا جذبہ فروغ دینا
حاضری کی نگرانی کر کے رپورٹ پیش کرنا
ادارے کا معائنہ کر کے کوتاہیوں کی اصلاح کرنا
شکایات کی جانچ کر کے کارروائی کرنا
شکایات کی ابتدائی تحقیق کر کے پیش کرنا
ریکارڈ کو جدید اور کمپیوٹرائزڈ انداز میں رکھنا
ملازمین کی کارکردگی کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرنا
مسائل کا جائزہ لے کر حل کے لیے اقدامات کرنا
مرکزی و ذیلی اداروں میں رابطہ اور ٹیم ورک فروغ دینا
اساتذہ کی تقسیم و تقرری کی نگرانی کرنا
تعلیمی نگرانی کے پروگراموں کی نگرانی اور تجزیہ کرنا
نگرانوں کو ہدایات سے بروقت آگاہ کرنا
ملازمین کے مسائل کا جائزہ لے کر حل کرنا
غیر فعال ریکارڈ محفوظ یا تلف کرنا
جماعتوں اور شعبوں کی گنجائش کا جائزہ لے کر رائے دینا
عمارتوں کی موزونیت کا جائزہ لے کر تجاویز دینا
شماریاتی فارم اور معلومات بروقت مکمل کرنا
اعداد و شمار جمع کر کے اپ ڈیٹ رکھنا
طلبہ کے قواعد سے آگاہ کر کے عمل درآمد کی نگرانی کرنا
طلبہ کی رپورٹس کا جائزہ لے کر سفارشات پیش کرنا
طلبہ کی ہمہ جہت رہنمائی کے لیے ماحول فراہم کرنا
طریقۂ کار
ناظم عربی تکلم
ذمہ دارِ زبانِ عربی اور اس کے فرائض
ذمہ دار مقرر کرنے کا مقصد
فرائض و ذمہ داریاں
عربی زبان کا ماحول قائم اور فعال رکھنا
خود عربی زبان کا التزام کر کے اساتذہ کی نگرانی کرنا
ناظم تعلیم سے مسلسل رابطہ اور مشاورت رکھنا
اساتذہ میں عربی زبان کا التزام پیدا کرنا
طلبہ کو عربی زبان کا پابند بنا کر نگرانی کرنا
کوتاہی کرنے والے طلبہ کی نشاندہی کر کے کارروائی کرنا
التزام کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا
عربی کلب میں طلبہ کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنا
اساتذہ سے مشاورت کر کے عربی ماحول بہتر بنانا
ناظمِ تعلیمِ عام سے رابطہ اور مشاورت رکھنا
ناظم اعلیٰ کے فرائض اور طریقۂ کار
ناظم اعلیٰ کون ہے؟
ادارے کے تمام امور کی نگرانی کرنا
ادارے کے قواعد و فیصلوں سے آگاہی رکھنا
فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا
شعبوں کے ناظمین سے تعاون اور شرکت کرنا
ناظمین کی شکایات سن کر حل کی کوشش کرنا
طلبہ کے اخلاق اور معیار کی مسلسل نگرانی کرنا
شعبوں کی خرابی دور کر کے معیار بہتر بنانا
اساتذہ اور طلبہ کے افکار کو نظام سے ہم آہنگ کرنا
انتظامی مجلس کے ارکان سے رابطہ برقرار رکھنا
ترقی کے لیے تجاویز پیش کر کے مجلس کے فیصلے پر عمل کرنا
بنیادی افکار سے واقفیت حاصل کر کے نافذ کرنا
کمزوریوں کے اسباب دور کرنے کی جدوجہد کرنا
طریقۂ کار
قوانین اور مجلس کے فیصلوں کا محافظ ہونا
ناظمین سے روزانہ گفتگو کے لیے وقت مختص کرنا
ہفتہ وار جامع رپورٹ مجلس کو ارسال کرنا
اساتذہ کی حوصلہ افزائی کر کے ہم آہنگ ماحول قائم کرنا
خلاف ورزی پر پہلے اصلاح کی کوشش، پھر اطلاع دینا
خرابی کی صورت میں پہلے ناظر کو، پھر ذمہ دار کو آگاہ کرنا
نئے فیصلوں پر فوری عمل کو یقینی بنانا
خوش اخلاقی سے طلبہ کی شکایات سننا
انتظامی اوقات ادارے میں گزار کر نگرانی کرنا
قوانین دلی رضامندی سے قبول کروانا، دباؤ سے نہیں
قوانین کے اصل مقصد کو سمجھ کر حکمت سے نافذ کرنا
چھٹی کی صورت میں ناظر کی ذمہ داریاں سنبھالنا
ادارے کی ترقی کی حتمی ذمہ داری محسوس کرنا
نگران
نگران کون ہے؟
فرائض، ذمہ داریاں اور طریقۂ کار
مقررہ اوقات میں طلبہ کو سرگرمیوں میں مشغول رکھنا
مطالعہ کے وقت کا لحاظ رکھ کر حاضری درج کرنا
نگرانی کے پورے وقت موجود رہنا
مسلسل گشت کر کے طلبہ کے حالات سے باخبر رہنا
طلبہ کی مصروفیت کا اطمینان کرنا
ذاتی مصروفیات سے گریز کر کے مکمل توجہ دینا
حاضری رجسٹر کے مطابق طلبہ کی نشاندہی کرنا
اپنی آمد و روانگی کا وقت رجسٹر میں درج کرنا
تاخیر یا بلا اجازت جانے والے طالب علم کو تنبیہ کرنا
نگرانی پر مکمل توجہ رکھنا اور غیر ضروری گفتگو سے گریز کرنا
نگرانی کے دوران طویل فون کالز سے اجتناب کرنا
طالب علم کو ذاتی کاموں میں مشغول نہ کرنا
طالب علم کو ہال سے باہر ذاتی کاموں میں نہ لگانا
استاد کے کام کی وجہ سے غیر حاضری پر تحریری اجازت طلب کرنا
طلبہ کو جماعتوں کے مطابق ترتیب سے بٹھانا
غیر نصابی کتاب پر پابندی اور کارروائی کرنا
مطالعہ کے دوران مکمل خاموشی یقینی بنانا
طویل غیر حاضری کا معاملہ ناظم دارِ اقامت کو بھیجنا
بدسلوکی کا معاملہ ناظم یا ذمہ دار کے حوالے کرنا
حفاظ طلبہ کا مذاکرہ کروا کر رپورٹ پیش کرنا
غیر حافظ طلبہ کو روزانہ تلاوت کا پابند بنانا
ذمہ داری دوسرے کو نہ سونپنا، بلا اجازت
بلا ضرورت ہال سے جانے کی اجازت نہ دینا
طالب علم کو بلا کر باقاعدہ اجازت دینا
دی گئی اجازت کا وقت تحریری طور پر درج کرنا
واپس نہ آنے والے طلبہ کو اگلے دن تنبیہ کرنا
مسلسل خلاف ورزی پر معاملہ آگے بھیجنا
اجتماعی رخصت کے لیے متعلقہ اجازت لینا لازمی
اپنے بچوں یا مہمانوں کو ہال میں نہ لانا
نگرانی کا وقت صرف نگرانی کے کاموں میں صرف کرنا
استاد کے فرائض و ذمہ داریاں
کامیاب استاد کون ہے؟
انتظامی فرائض و ذمہ داریاں
کردار و اخلاق میں طلبہ کے لیے بہترین نمونہ ہونا
طلبہ کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا
خوش اخلاق اور خوش مزاج ہونا
وقار اور نظم و ضبط اختیار کرنا، تکلف سے بچنا
طلبہ کے ساتھ عدل و انصاف سے کام لینا
ادارے کے نظام سے ہم آہنگ رہ کر حفاظت کرنا
ادارے کے فیصلوں کا مذاق اڑانا ممنوع
مثبت رائے متعلقہ ذمہ دار تک پہنچانا
مفید تجویز انتظامیہ کے سامنے پیش کرنا
سونپی گئی ذمہ داری خوش دلی سے قبول کرنا
ذمہ داری دیانت اور محنت سے انجام دینا
طالب علم کو ذاتی سفر میں ساتھ لے جانا ممنوع
ذاتی ضروریات طالب علم کے سامنے ظاہر نہ کرنا
طالب علم سے مالی ہدیہ قبول نہ کرنا
طلبہ کے ساتھ مالی معاملات کرنا ممنوع
غیر ضروری مالی و تجارتی معاملات سے اجتناب کرنا
طلبہ کی ذاتی و قیمتی اشیاء استعمال نہ کرنا
طالب علم کو ذاتی سواری استعمال کے لیے نہ دینا
ادارے میں ذاتی کاروباری سرگرمیوں سے اجتناب کرنا
طالب علم کو تمسخر یا تحقیر کا نشانہ نہ بنانا
طالب علم کو عزتِ نفس کے خلاف الفاظ سے نہ پکارنا
طلبہ کے ذہن اور ادارے کی پالیسی میں ہم آہنگی پیدا کرنا
حوصلہ شکن الفاظ سے گریز کرتے ہوئے کوتاہی پر تنبیہ کرنا
تنبیہ کرنے ہوئے یہ الفاظ نہ استعمال کرے
تم پڑھنے کے قابل نہیں۔
جا کر کوئی کام کرو۔
اپنا بستر اٹھاؤ اور گھر چلے جاؤ۔
طالب علم کو بدظن کرنے والی باتوں سے گریز کرنا
انتظامی فیصلوں پر ایسی گفتگو سے اجتناب کرنا جو طلبا پر منفی اثر ڈالیں
قوانین حکمت اور بصیرت کے ساتھ نافذ کرنا
ضوابط کی خلاف ورزی پر استاد کا احتساب ہوگا
تعلیمی فرائض و ذمہ داریاں
مقررہ وقت پر جماعت میں پہنچنا
سبق کی مکمل تیاری کر کے نصاب کے مطابق پڑھانا
تدریس کو دلچسپ اور مؤثر بنانا
کھڑے ہو کر پڑھانا اور بورڈ استعمال کرنا
جماعت میں نظم و ضبط اور کارکردگی پر نظر رکھنا
طلبہ کی سبق کی سمجھ کا اطمینان کرنا
طلبہ کے سوالات کی خوش دلی سے تشفی کرنا
سوال و جواب کا وقت سبق کے اختتام پر رکھنا
خود سوالات کر کے طلبہ کی سمجھ کا جائزہ لینا
نصاب مکمل کرنا، سوالات سے بچنے کا بہانہ نہ بنانا
طلبہ کی تعلیمی استعداد سے مکمل واقفیت رکھنا
کمزور طلبہ کی سطح بلند کرنا اور ذہین طلبہ کو برقرار رکھنا
مقررہ کتابوں کا روزانہ گہرا مطالعہ کرنا
جماعت میں حتی الامکان عربی زبان استعمال کرنا
سبق سے متعلق عملی سرگرمیاں کروانا
طلبہ کی کاپیوں کی باقاعدہ جانچ اور اصلاح کرنا
جماعت میں غیر نصابی کتابیں ساتھ نہ لانا
تدریس کے دوران کاپیاں چیک نہ کرنا
تدریسی اوقات میں موبائل فون استعمال نہ کرنا
سبق کے دوران کھانے پینے سے اجتناب کرنا
انسانی وقار کے منافی طریقہ اختیار نہ کرنا
غصہ اور سخت رویے سے پرہیز کرنا
جسمانی یا نفسیاتی سزا سے مکمل اجتناب کرنا
تدریس میں بناوٹ اور تکلف سے بچنا
اندراج (داخلہ) منسوخ کرنے کے مراحل
درج ذیل صورتوں میں طالب علم / طالبہ کا اندراج (داخلہ) منسوخ کیا جائے گا:
اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کی مخالفت کرنا
ادارے کی پالیسی کی مخالفت اور منفی سرگرمیاں کرنا
بلا اجازت مسلسل تین دن غیر حاضر رہنا
ممانعت کے باوجود ادارے سے باہر جانا
40 سے زائد اسباق سے غیر حاضر رہنا
خود داخلہ منسوخی کی درخواست دینا اور منظوری ہوجانا
سال دوبارہ پڑھنے کی اجازت نہ ملنا
سال دوبارہ پڑھنے کے بعد بھی ناکام ہونا
بلا اجازت کسی اور ادارے میں تعلیم حاصل کرنا
طلبہ یا ملازمین کے ساتھ مالی لین دین کرنا
عبادات اور فرض نمازوں میں کوتاہی کرنا
بد اخلاقی اور بے ادبی کا مظاہرہ کرنا
گناہوں اور بے حیائی کا ارتکاب کرنا
منشیات کا استعمال کرنا۔
ہتھیار یا نقصان پہنچانے والے آلات رکھنا
فحش یا سیاسی مواد اپنے پاس رکھنا
اسمارٹ موبائل فون استعمال کرنا۔
جرمانے کے باوجود دوبارہ وہی کام کرنا
چوری، دھوکہ، جھوٹ یا دھمکی دینا
ادارے کی ساکھ متاثر کرنے والا عمل کرنا
ادارے سے غیر متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینا
تعلیم میں رکاوٹ بننے والا دائمی مرض لاحق ہونا
آخری تنبیہ کے بعد بھی دوبارہ خلاف ورزی کرنا
تنبیہ یا حکم کی تعمیل نہ کرنا
مجلس انتظامیہ کو پہلی مرتبہ ہی داخلہ منسوخ یا مہلت دینے کا اختیار ہوگا
داخلہ منسوخ کرنے کا طریقۂ کار
شعبے کا ذمہ دار کا تنبیہ کرے گا اور باز رہنے کی ہدایت کرے گا
دوبارہ خلاف ورزی پر معاملہ ذمہ دارِ عام کو سپرد کیا جائے گا
ذمہ دارِ عام کو اساتذہ سے مشورہ یا ولی کو طلب کرنے کا اختیار ہوگا
مسلسل خلاف ورزی پر معاملہ انتظامی مجلس کو بھیجا جائے گا
مرکز میں خلاف ورزی پر دو تنبیہ کے بعد معاملہ مجلس کے سپرد کردیا جائے گا
مجلس انتظامیہ کو فوری داخلہ منسوخی یا وارننگ جاری کرنے کا اختیار ہوگا
مجلس انتظامیہ اپنے فیصلہ سے ولی کو باقاعدہ آگاہ کرے گی
خلاف ورزی پر طالب علم کے نام فارم تیار کر کے کارروائی تحریری طور درج کی جائے گی
داخلہ منسوخی پر فوراً جامعہ چھوڑنا لازمی ہوگا
داخلہ منسوخی کی اطلاع شعبہ حاضری کو دینا ہوگی
داخلہ منسوخی کی اطلاع تمام انتظامی شعبوں کو دینا ہوگی
داخلہ منسوخی کا اعلان نوٹس بورڈ پر آویزاں کرنا ہوگا
مستقل داخلہ منسوخی کا اختیار نائبِ رئیس کے پاس ہوگا
سنگین خلاف ورزی براہِ راست مجلس انتظامیہ کے سامنے پیش کرنا ہوگا
کامیابی اور ناکامی کے قواعد
تین یا زیادہ مضامین میں ناکامی پر راسب شمار کیا جائے گا
ایک یا زیادہ مضامین میں ناکامی پر ضمنی امتحان دینا یوگا
پہلے مرحلے میں ناکامی پر تعلیم جاری رہے گی ، سالانہ ناکامی پر ضمنی امتحان میں کامیابی لازمی ہوگی
ضمنی امتحان میں ناکامی پر دوسری مدت میں شرکت کی اجازت دی جاسکتی ہے
مسلسل ناکامی پر مجلس انتظامی داخلہ منسوخی یا اعادہ سال کا فیصلہ کرسکتی ہے
دو مضامین میں ناکامی پر ترقی صرف مجلس انتظامی کے فیصلے سے ہوگی
ضمنی امتحان صرف ناکام مدت کے مضامین میں لیا جائے گا
ضمنی امتحان ہر تعلیمی مدت کے اختتام پر منعقد ہوگا
ضمنی امتحان مقررہ وقت میں ہی لیا جائے گا
تقابلِ نتائج کے بعد مقررہ شرحِ کامیابی حاصل کرنا لازم ہوگا
دونوں تعلیمی مدتوں کے نتائج کا تقابل کیا جائے گا
ضمنی امتحانی فیس ادا کیے بغیر امتحان میں شرکت ممکن نہیں ہوگی
نتائج بہتر بنانے کے لیے فیس کے ساتھ ضمنی امتحان دیا جاسکتا ہے
تصحیحِ امتحانی پرچے، نمبرات کی تعیین اور امتحانی پرچوں کی جانچ کے قواعد
عمومی قواعد
نمبرات کی تعیین کی کمیٹی، مصححین ، مراجعین اور مدققین پر مشتمل ہوگی.
تمام ارکان مقررہ وقت پر اپنی ڈیوٹی کے لیے حاضر ہوں گے۔
ناظم تعلیم کا کمیٹی اراکین کی فہرست تیار کرنا
کمیٹی اراکین کا مقررہ اوقات میں پوری ذمہ داری سے کام کریں گے
بلا اجازت تصحیح ہال سے باہر نہیں جانا ہے
رخصت کے لیے ناظم تعلیم سے اجازت لینا ہوگی
تصحیح ہال میں غیر متعلقہ شخص کا داخلہ ممنوع ہوگا
بلا رول نمبر پرچوں کو الگ لفافے میں رکھنا ہوگا
تکمیل تک کمیٹیوں نے منتشر نہیں ہونا ہے
تصحیح میں جلد بازی سے گریز کریں ایک دفعہ کے بعد دوبارہ جانچ کریں
نمبرات کی معلومات کسی کو بتانا جائز نہیں ہے یہ امانت ہے
مکمل مدت تعیناتی پر مالی اعزازیہ دیا جائے گا
مصححین (پرچے چیک کرنے والوں) سے متعلق قواعد
تمام پرچے وصول ہونے تک آنسر کیز نہیں کھولی جائیں گی
تصحیح و جانچ کمیٹی کی اجتماعی نگرانی میں کی جائے گی
پرچوں کی تصحیح مقررہ مقام پر بروقت اور باریک بینی سے کی جائے
مصحح کا اپنا نام اور نمبرات ہر پرچے پر درج ہونگے
متعدد جوابات کی جانچ کر کے بہترین نمبر دیے جائیں گے
نمبرات کی تقسیم آنسر کی اور مقررہ وزن کے مطابق کی جائے گی
غیر حل شدہ سوال پر صفر یا متروک درج کیا جائے گا
تمام پرچوں کی تصحیح سرخ رنگ سے کرنا
حاصل شدہ نمبر جواب کے بائیں جانب درج کیے جائیں گے
ہر سوال کے نمبر پہلے صفحے پر درج کر کے مصحح دستخط کرے گا
کٹے ہوئے جواب کو نظر انداز ہی کیا جائے گا لیکن اگر طالب علم کی کامیابی اس پر موقوف ہو تو اس کو دیکھا جائے گا
شناخت ظاہر کرنے والے پرچے رازداری سے مدققین کے حوالے کریں
جوابی پرچے مقررہ مقام کے علاوہ منتقل کرنا ممنوع ہے
جوابی پرچوں کی تصویر یا نقل بنانا سختی سے ممنوع ہے
مراجعین (دوبارہ جانچ کرنے والوں) سے متعلق قواعد
مراجعین کا سبز رنگ سے ابتدائی جانچ کر کے نام درج کریں گے
رول نمبر کے مطابق نمبرات فہرست میں درج کر کے مدققین کے حوالے کریں گے
مکمل جوابی پرچے ترتیب سے شعبۂ تعلیم کے حوالے کریں گے
نمایاں اور ناکام طلبہ کے پرچوں کی دوبارہ خصوصی جانچ کی جائے گی
چیک لسٹ میں کئیے گئے اضافہ جات کی فہرست
نظم و نسق کے متعلق
برائے اساتذہ
اساتذہ سے میٹنگز کی پالیسی
ہر مہینے کے پہلے جمعہ دوپہر 2 بجے اساتذہ کی دعوت اور پرنسپل حلم سے مجلس ہوگی
مہینے کے آخری جمعہ اساتذہ کی اکیڈمک کونسل کے ساتھ میٹنگ ہوگی
مہینے کے دوسرے اور تیسرے جمعہ بھی وقتاً فوقتاً میٹنگ رکھی جائے گی، اساتذہ وقت فارغ رکھیں
میٹنگ میں کھانے کی پالیسی
میٹنگ میں کھانے کے اخراجات کی حد مقرر ہے، زائد خرچ صرف پرنسپل آفس کی منظوری سے ممکن ہوگا
برائے مدرسہ
تقرری معاہدہ
ماہانہ وظیفہ کی پالیسی
وظیفہ میں اضافہ میرٹ،خدمت کی کارکردگی پر ہوگا
آپ کا وظیفہ بینک اکاونٹ یا نقد اد کیا جائے گا
تنخواہ میں اضافہ کارکردگی کی بنیاد پر ہوگا
تنخواہ میں اضافہ سال میں ایک مرتبہ ہوگا
سال کے داران تنخواہ میں اضافہ نہیں ہوگا
ایمرجنسی ضرورت کی صورت میں طریقہ کار
سہولیات
میڈیکل سہولیات کی پالیسی
سائرہ میموریل ہسپتال سے میڈیکل سہلوت کی پالیسی
فراہم کردہ سہولیات کی تفصیل
صبح 9 سے دوپہر3 بجے تک OPD فری اور میڈیسن فری ہوگی
سپیشلسٹ ڈاکٹر کے چیک اپ کی صورت میں 50 پرسنٹ کا ڈسکاونٹ ہوگا
گائینی سے متعلقہ تمام اوپی ڈی چیک اپ فری ہے
تمام لیبارٹی ٹیسٹ پر25 پرسنٹ رعایت حاصل ہوگی
تمام ایکسرے ،یو ایس جی اور سی ٹی پر50 پرسنٹ ڈسکاونٹ ہوگا
بغیر آپریشن ڈیلیوری صرف 10,000 روپے (میڈیسنز کے بغیر)
آپریشن کے ساتھ ڈیلیوری صرف 20,000 روپے (میڈیسنز کے بغیر)
تمام میڈیکل سہولت میں 80 سے 90 فیصد رقم ادارے کی طرف سے سبسڈی ہوگی
طریقہ کار
ادارہ آفیشل لیٹر جاری کرے گا جسے دکھا کر باعزت طریقے سے سہولت حاصل کی جا سکے گی
حدود
کسی اور جگہ علاج کروانے کی صورت میں ادارہ سبسڈی دینے کا پابند نہیں ہوگا
ڈیلیوری کی سہولت کیلئے شروع سے آخر تک تمام چیک اپ سائرہ ہاسپٹل سے ہی کروانے ہوں گے
حجاز ہسپتال سے میڈیکل سہلوت کی پالیسی
طریقہ کار
ایچ آر آفس سے تصدیقی لیٹر لے کر ہسپتال کے اکاؤنٹس کاؤنٹر سے تصدیق کروانی ہوگی
فراہم کردہ سہولیات کی تفصیل
تمام او پی ڈی کے ٹیسٹ مفت
خصوصی صورتحال میں ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کر کے ادویات کی مفت فراہمی کی کوشش کی جائے گی
داخل مریضوں کی تمام ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹ مکمل طور پر مفت ہوں گے
گائنی سے متعلقہ تمام علاج، ادویات اور اخراجات مکمل طور پر مفت ہوں گے
حدود
ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات اراکین کو خود خریدنی ہوں گی
حمل کے تیسرے مہینے سے ولادت تک تمام معائنے حجاز ہسپتال کی ماہر گائناکالوجسٹ سے کروانا ضروری ہے، ورنہ سہولت لاگو نہیں ہوگی
میڈیکل سہلوت سے متعلق تاثرات اور تجاویز ضرور بتائیں
لون کی پالیسی
اہلیت
ایک سال سے خدمت کرنے والے تمام کل وقتی افراد ادارے سے قرض کی درخواست کے اہل ہیں
طریقہ کار
قرض کا درخواست فارم پر کرنا ہو گا
حدود
قرض کی زیادہ سے زیادہ رقم ماہانہ تنخواہ سے دو گنا سے زیادہ نہیں ہو سکتی
پہلے قرض کی مکمل ادائیگی سے پہلے دوسرے قرض کی درخواست قبول نہیں کی جائے گی
خدمت درمیان میں چھوڑنے پر ادارہ قرض کی رقم دیگر واجب الادا رقوم سے کاٹنے کا مجاز ہے
زیادہ سے زیادہ قابل اجازت ادائیگی کی مدت چھ ماہ ہے
پیٹرول پالیسی (6.3)
روزمرہ کے معمول کے علاوہ کہیں اور کلاس پڑھانے پر اساتذہ کو فیول الاؤنس دیا جائے گا
ادارے کے کسی خارجی کام کیلئے بائیک استعمال ہونے پر فیول الاؤنس دیا جائے گا
مرکز کے وزٹ کا فیول الاؤنس مہینے میں صرف 5 مرتبہ تک ملے گا، زائد وزٹس کا نہیں
فیول الاؤنس فی کلومیٹر 14 روپے ہوگا جس میں پیٹرول اور بائیک کی معمولی دیکھ بھال شامل ہے
رخصت/ چھٹی کی پالیسی
مدرسین
طریقہ کار
دس اضافی چھٹیاں لینے کے لیے درخواست فارم فل کرنا ہوگا
دس اضافی چھٹیوں سے زائد چھٹی لینے لیے درخوست لکھنی ہوگی
سالانہ چھٹی کے لیے ہدایات
ادارے کا ہر فرد سالانہ دس (10) اضافی چھٹیوں کا حقدار ہے
لیو انکیشمنٹ
چھٹیوں میں ناظم کی اجازت سے کام کرنے پر ڈبل لیو انکیشمنٹ ملے گا
سال میں 10 دن سے کم چھٹی لینے والوں کو سال کے اختتام پر بقیہ ایام کا بونس ملے گا
حدود
ادارے کا ہر فرد اکیڈمک کلینڈر کا پابند ہے
اضافی چھٹی کی درخواست کیمپس ناظم اور ایچ آر کوآرڈینیٹر کی اجازت سے مشروط ہوگی
چھٹی کی منظوری کے بعد ناظم کیمپس استاد کا متبادل طے کرنے کا ذمہ دار ہوگا
دس سے اضافی چھٹیوں کی تنخواہ سے کٹوتی کی جائے گی۔
شادی کی چھٹی کے لیے ہدایات
اہلیت
کم از کم ایک سال خدمت کرنے والے مدرسین شادی کی چھٹی کیلئے بامعاوضہ اہل ہیں
تمام مدرسین 5 دن کی بامعاوضہ چھٹیاں حاصل کرسکتے ہیں
عمرہ کی چھٹی کے لیے ہدایات
اہلیت
کم از کم ایک سال خدمت کرنے والے مدرسین عمرہ کی چھٹی کیلئے بامعاوضہ اہل ہیں
عمرہ چھٹی ناظم اور ایچ آر کی منظوری سے زیادہ سے زیادہ 15 دن کی ہوگی، 5 دن بامعاوضہ اور بقیہ بلا معاوضہ
حج کی چھٹی کے لیے ہدایات
اہلیت
کم از کم ایک سال خدمت کرنے والے مدرسین حج کی چھٹی کیلئے بامعاوضہ اہل ہیں
حج چھٹی ناظم اور ایچ آر کی منظوری سے زیادہ سے زیادہ 40 دن کی ہوگی، 10 دن بامعاوضہ اور بقیہ بلا معاوضہ
ولادت کی چھٹی کے لیے ہدایات
ولادت کی چھٹی دو دن کی بامعاوضہ ہوگی
چھٹی کی درخواست کی منظوری کیمپس ناظم اور ایچ آر کوآرڈینیٹر سے لینا ہوگی
سوگوا ر چھٹی کے لیے ہدایات
قریبی رشتہ دار کی وفات پر تین دن کی بامعاوضہ سوگوار چھٹی کی اجازت ہوگی
ضروری وضاحت (استحقاق و حصول چھٹی)
اعلان کردہ تعطیلات کا استحقاق صرف انہی افراد کو ہوگا جو ان ایام میں ڈیوٹی پر موجود ہوں
سالانہ کیلنڈر کی تعطیلات سے مستفید ہونے کیلئے کم از کم تین ماہ کی مسلسل سروس لازمی ہے
چھٹی کیلئے فارم پر کر کے ناظم اور پھر ایچ آر کوآرڈینیٹر سے منظوری لینا ہوگی
غیر منصوبہ بند/غیر شیڈول چھٹیوں کے لیے ہدایات
ناظم کو بروقت اطلاع دینا ضروری ہے
ناظم موجود نہ ہوتو پرنسپل کو اس کی اطلاع دیں
ناظم کو اطلاع دیے بغیر چھٹی کرنے کی صورت میں بغیر اطلاع کے چھٹی سمجھی جائے گی
ہنگامی چھٹی کی صورت میں اگلے دن چھٹی کا فارم پرنا کرنا ضروری ہے
طلباء
چھٹی کی درخواست کو پر کرنا ضروری ہے
ہنگامی چھٹی ہوجائے تو اگلے دل فارم پُر کرنا ضروری ہے
چھٹی کرنے والے اور تاخیر سے آنے والے طلباء کی رپورٹ تیار کی جاتی ہے
ہدایات برائے عملہ
وقت کی پابندی
وقت کی پابندی کا اہتمام (4.1)
خدمت کے دن اور اوقات کام کی نوعیت اور ادارے و طلبہ کی ضروریات پر منحصر ہوں گے
آپ کے متعلقہ منتظم آپ کو آپ کے کام کے شیڈول سے آگاہ کر دیں گے۔
جو کہ آپ کی خدمت کے دن درکار ہونے اور گھنٹے آپ کے کام کے دوران تبدیل ہو سکتے ہیں۔
باقاعدگی سے حاضری اور ہر کام وقت پر ہونا ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔
غیر حاضری یا دیر سے آمد دوسروں کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔
ہم آپ کو خاص طور پر وقت کے پابند رہنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
تمام اساتذہ بالخصوص مقامی، اسباق کے مقررہ وقت سے 15 منٹ پہلے پہنچنا لازم ہے
اگر آپ کوئی کام معینہ وقت پر نہ کر پائیں تو اپنے متوقع وقت سے پہلے اپنے منتظم سے رابطہ کریں۔
غیر رپورٹ شدہ غیر حاضری پر تادیبی کارروائی ہوسکتی ہے
انتہائی سستی اور غفلت کی صورت میں برطرفی کی سزا ہوسکتی ہے
دیر سے پہنچنا / جلد روانہ ہونے والوں کے لیے ہدایات
ادارے کے تمام افراد پر لازم ہے کہ وہ بروقت تشریف لائیں اور مقررہ وقت سے پہلے واپس نہ جائیں۔
ہر کیمپس منتظم روزانہ تاخیر سے آنے اور جلد جانے والوں کی رپورٹ مرتب کرے گا
مرتب کردہ حاضری رپورٹ کی پرنسپل آفس یا ایچ آر کو ترسیل ضروری ہے
منتظم کی طرف سے رپورٹ نہ بھیجنے پر اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی
تمام دیر سے آنے والوں کو یکجا کر کے رپورٹ کی سمری تیار کی جائے
رپورٹ مرتب کرنے کیلئے فارمیٹ نمبر چھبیس (26) ملاحظہ فرمائیں۔
چیک ان اور چیک آؤٹ پالیسی
ہر فرد کے لیے ٹائم اِن اور ٹائم آؤٹ ریکارڈ کرنا لازمی ہے
ٹائم ریکارڈ نہ کرنے کی صورت میں غیر حاضری تصور کی جائے گی
ایونٹ مینجمنٹ
مینجمنٹ ایونٹس (6.4)
پروگرام کی تشہیر
پروگرام سے کم از کم ایک ہفتہ پہلے اس کی بھرپور تشہیر کی جائے
سٹینڈیزکی تیاری
ایک ہفتہ پہلے متعلقہ پروگرام کی سٹینڈیز تیار ہو جائیں۔
پروگرام سے تین دن پہلے اخراجات ایکسل شیٹ میں درج کر کے پرنسپل سے منظوری اور ایچ آر سے رقم وصول کر لی جائے
ایک دن پہلے پروگرام کا مکمل شیڈول آغاز سے لے کر آخر تک تیار ہو۔
پروگرام سے ایک دن پہلے پورے کیمپس کی بشمول واش رومز باریک بینی سے صفائی کی جائے
پارکنگ کے لیے جگہ کا تعین۔
پارکنگ کیلئے افراد مقرر کیے جائیں اور دروازے پر آغاز سے آخر تک مستقل پہرہ ہو
پروگرام کے دوران کسی بھی فرد کیلئے ادارے کی طرف سے ریفریشمنٹ کی اجازت نہیں، ہر کوئی اپنا خرچ خود برداشت کرے گا
ہوئے کام کریں گے عام معمول کی طرح اپنا کھانے وغیرہ کا خرچ ذاتی طور برداشت کریں گے۔
مہمانوں کیلئے تیار کردہ ریفریشمنٹ صرف مہمانوں کیلئے ہے، بچا کھانا فریز کر کے آئندہ مہمانوں کیلئے رکھا جائے، استعمال کی اجازت نہیں
خارجی دروازے پر انفارمیشن ڈیسک قائم کیا جائے تاکہ نئے آنے والے آسانی سے معلومات حاصل کر سکیں
آنے والے حضرات آسانی سے معلومات حاصل کر سکیں۔
پروگرام میں کچھ افراد مقرر ہوں جو ہر آنے والے کا استقبال کر کے اسے مناسب جگہ بٹھائیں
مناسب جگہ پر بٹھا دیا جائے۔
خواص کے لیے کرسیوں اور جگہ کا تعین کیا جائے۔
دوران پروگرام پانی وغیرہ کے انتظام کے لیے خدام کا تعین۔
مہمانوں کو کھانا کھلانے کیلئے مضبوط جماعت قائم کی جائے، ہر دستر خوان پر کم از کم 12 افراد موجود ہوں
تمام آنے والے افراد کے رابطہ نمبر لینے کا انتظام کیا جائے۔
تمام اساتذہ اور خدام کا لباس صاف ستھرا اور مناسب ہو، ترجیحاً نیا یا دھلا ہوا لباس پہنیں
ہدایات برائے ایونٹ
ہدایات برائے ایونٹ
آئی ٹی مینجر (IT Manager) ہر (Event) میں حاضر ہو۔
ایونٹ کے دوران ہمسایوں کی شکایت پر فیکلٹی خوش اسلوبی سے حل کرے، ورنہ مولانا عتیق صاحب کو اطلاع دیں
(Deal) کریں گے۔
جسے جو ذمہ داری دی جائے وہ صرف اسی پر توجہ دے، دوسروں کے کاموں میں دخل نہ دے
خواص اور اخص الخواص کے کھانے کی الگ اور منظم ترتیب ہونی چاہیے
آئندہ آنے والے تمام مہمانوں کے لئے اگر کوئی مناسب صورت بن سکتی ہے تو کھانے کی ترتیب بنی چاہئے۔
گیٹ پر ہمہ وقت ایک فرد پہرہ دے، مین گیٹ کبھی خالی نہ چھوڑا جائے
استقبالیہ پر مہمانوں کے جوتوں کیلئے مناسب جگہ اور خواص کیلئے الگ جگہ مقرر کی جائے
سپیکر کے کھڑے ہونے کی جگہ پہلے سے تیار کی جائے تاکہ آ کر فوراً تقریر شروع کر سکے
حلم فیس پالیسی
فیس کی مجموعی پالیسی
ہر طالب علم سے 10 تاریخ تک فیس وصول کر کے فوری رسید پرنٹ یا واٹس ایپ کی جائے
مقررہ وقت تک فیس نہ دینے والے طالب علم کو مطلع کیا جائے، پھر ملاقات کر کے وجہ تحریری طور پر پیش کی جائے
مکمل فیس نہ دینے والے طالب علم کیلئے اسکالرشپ کے تحت قابلِ ادا رقم پرنسپل آفس سے منظور کروائی جائے
ہر ماہ 25 تاریخ تک فیس کی رپورٹ پرنسپل آفس میں جمع کروائی جائے
کورس کے لحاظ سے فیس کی تقسیم:
درس نظامی : 10,000 ماہانہ
چار سالہ کورس : 7,000 ماہانہ
اسلامک ایسنشل کورس 4,000 ماہانہ
صراط الجنہ (ایک دن کلاس ) : 3,000 ماہانہ
فیس کی وصولی کا طریقہ کار :
یکم تاریخ
اکاؤنٹ ایگزیکٹو ہر طالب علم کو فزیکل یا واٹس ایپ کے ذریعےفیس واوچر بھیجیں۔
تاریخ
پینڈنگ فیس کی فہرست تیار کریں اور برانچ ہیڈ کے حوالے کر دیں۔
طلبہ کو کال کر کے ان سے فیس کی ادائیگی کی درخواست کریں۔
نوٹ:
فیس وصول ہونے پر ہر طالبعلم کو وصولی کی رسید لازما جاری کریں۔
فیس پالیسی برائے ٹپ سوسائٹی
ادارے کے ماہانہ اخراجات فی طالب علم تقریبا 10,000 روپے ہیں۔
علم آپ سوسائٹی کیمپس کیلئے فی طالب علم ماہانہ 2000 روپے فیس مقرر ہے
اگر کوئی طالب علم اپنی خوشی سے اس سے زیادہ رقم اخراجات کی مد میں ادارے کو دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔
ٹپ سوسائٹی کیلئے فیسوں کی وصولی کا طریقہ کار
یکم تاریخ کو تمام طلباء کو فیس واؤ پر جاری کیے جائیں گے۔
فیس جمع نہ کروانے والے طلبہ کو 10 تاریخ کو یاد دہانی کا پہلا پیغام بھیجا جائے گا۔
مقررہ تاریخ تک فیس وصول نہ ہونے پر اکاؤنٹ آفس دوسری بار یاد دہانی کروائے گا
ٹپ سوسائٹی فیس وصولی کا انچارج:
آپ سوسائٹی میں فیس وصولی کا مکمل انچارج فی الحال مولانا علیان معاویہ صاحب ہیں
فیس وصول نہ ہونے پر اکاؤنٹ آفس کو اطلاع دی جائے گی، جس پر وہ رسید بھیجے گا
بیت القرآن فیس پالیسی
بیت القرآن کم از کم فیس:
فیس میں اضافے کیلئے فیصل اظہر اور قاری محمود صاحب سے مشاورت کی جائے
ہر طالب علم کیلئے کم از کم فیس : 7,000
حفظ فیس : 4,000
2,000 اسکول
1,000 بجلی
اس کا ایک نمونہ شیئر کریں۔
بيت القرآن فیس کی فالو آپ کا طریقہ کار:
یکم تاریخ
فیس کا واؤچر جاری کریں، اور والدین کو ہاتھ سے یا واٹس ایپ کے ذریعے دیں۔
تاریخ
ہر ماہ 10 تاریخ تک تمام فیسیں وصول ہوں، اکاؤنٹ ہیڈ پینڈنگ رپورٹ تیار کر کے برانچ ہیڈ سے شیئر کرے
اکاؤنٹ ایگزیکٹو ڈیفالٹر سے ملاقات کرے اور والدین کو فیس ڈیفالٹ لیٹر جاری کرے
ڈیفالٹر طلبہ کو فیس کلیئر ہونے تک کلاس میں بیٹھنے کی اجازت نہ دی جائے، سزا کے طور پر گھر بھیجا جائے
ماہانہ کفالت سسٹم
کفیل والے طالب علم کا یونیک آئی ڈی زوہو کسٹمر ریکارڈ میں درج کیا جائے
کفیل کی ادائیگی کے عرصے کے مطابق زوہو میں Recurring Invoice بنائی جائے
اکاؤنٹ آفس ہر ماہ کفیل کو طالب علم کی تعلیمی رپورٹ بھیجے گا
حلم سکالر شپ پالیسی
مکمل فیس ادا نہ کر سکنے والے طلبہ کیلئے ادارہ اسکالرشپ پالیسی فراہم کرتا ہے، فارم پر کروانا ضروری ہے
ہدیہ پالیسی
استاد اور شاگرد کا تعلق خالصتاً اللہ کی رضا کیلئے قائم ہونا چاہیے
ذاتی مالی مفاد شامل ہونے سے استاد شاگرد کے تعلق کی برکت اور احترام کمزور پڑ جاتا ہے
یہ اصول حضرت ڈاکٹر صاحب کی حیات سے ورثے میں ملا ہے، انتظامیہ اسی کے مطابق معاملات اللہ کی رضا کیلئے رکھتی ہے
ہدیہ پالیسی اس مقصد کیلئے وضع کی جا رہی ہے تاکہ ادارے میں کسی کا ذاتی مالی تعلق قائم نہ ہو
ہدیہ (تحفہ) وصول کرنے کی قطعی ممانعت
کسی بھی استاد یا عملے کے فرد کو طالب علم یا والدین سے ہدیہ قبول کرنے کی قطعی اجازت نہیں
مجبوری کی صورت میں طریقہ کار
اگر کوئی شخص زبر دستی یا شدید اصرار کرکے کوئی تحفہ دے تو متعلقہ فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ:
اسے فوراً ادارے کی انتظامیہ (ایڈمن ڈیپارٹمنٹ) کے پاس جمع کروادے۔
یہ یقینی بنائے کہ تحفہ ذاتی استعمال میں لائے بغیر ادارے کی ملکیت بن جائے۔
مجھنے کو فوری طور پر جمع کروانے میں کسی قسم کی تاخیر یا غیر ضروری اعتراض کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انتظامیہ کا اختیار
انتظامیہ کے پاس جمع کرایا گیا ہدیہ ادارے کی ملکیت سمجھا جائے گا اور اپنی صوابدید پر استعمال ہوگا
خیرات یارفاہی کاموں میں دینا۔
کسی تعلیمی یا دفتری مقصد کے لیے استعمال کرنا۔
انتظامیہ چاہے تو تحفہ اصل فرد کو واپس بھی کر سکتی ہے، بشرطیکہ ادارے کے وقار کے خلاف نہ ہو
مالی تقاضا اور فرمائش کی ممانعت
طالب علم یا والدین سے مالی تقاضا یا فرمائش کرنا سنگین ضابطہ شکنی تصور ہوگا اور سخت کارروائی ہوگی
کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کی ممانعت
عملے یا طلبہ کو تعلیمی حلقے میں ذاتی تجارت یا کاروبار فروغ دینے کی اجازت نہیں
طلبہ کو تعلیمی حلقے میں کوئی چیز بیچنا یا اپنی تجارت کیلئے استعمال کرنا سختی سے منع ہے
افراد اپنے کاروبار کا حلقہ تعلیمی حلقے سے بالکل الگ رکھیں گے
قرض یا مالی معاونت کا مطالبہ
کسی بھی فرد سے قرض یا کارِ خیر میں تعاون کا مطالبہ کرنے کی اجازت نہیں
قرض کا لین دین یا کسی بھی مالی معاونت کا مطالبہ اس ضابطہ اخلاق میں شامل ہے
بیرونی رفاہی سر گرمیوں کی ترغیب
کسی بھی عملے کے فرد کو مدرسے ، گاؤں یاد یہات کے اندر مسجد کی تعمیر یا کسی بھی کار خیر کی طرف:
مسجد کی تعمیر یا کارِ خیر کیلئے کسی کو محسوس یا غیر محسوس انداز میں ترغیب دلانا منع ہے
اس سلسلے میں مطالبہ کرنا یا مہم چلانا سختی سے منع ہے، ایسی سرگرمیوں سے احتراز کیا جائے
خلاف ورزی کے نتائج
پالیسی کی خلاف ورزی پر ادارے کے ضوابط کے مطابق تادیبی کارروائی کی جائے گی
کارروائی میں انتظامی فیصلے، تنبیہ یا دیگر مناسب قانونی اقدامات شامل ہو سکتے ہیں
اے سی کے استعمال کی پالیسی
کلاسز کے اے سی صرف تعلیمی اوقات میں 26 ڈگری پر چلائے جائیں گے، ناظم خود چلانے اور بند کرنے کا ذمہ دار ہوگا
تعلیمی اوقات کے علاوہ ذاتی طور پر اے سی استعمال کی اجازت نہیں، البتہ مجالس یا عوامی پروگرام میں چلایا جا سکتا ہے
جن کیمپسز میں آفس ہے وہاں تعلیمی اوقات میں صرف دو گھنٹے 26 ڈگری پر اے سی چلانے کی اجازت ہوگی
آ فس AC پالیسی
تمام کیمپس آفسز میں اے سی 27 ڈگری پر زیادہ سے زیادہ 3 گھنٹے روزانہ استعمال ہوگا
کام کے اوقات سے زیادہ اے کی استعمال نہ کیا جائے۔
مقیمین اساتذہ AC پالیسی
عام حالات میں کیمپس میں رہائشی عملے کو AC استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
دن کے وقت AC استعمال نہ کریں۔
ضرورت پڑنے پر رہائشی عملہ صرف رات کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ چار گھنٹے AC استعمال کر سکتا ہے، کیمپس سربراہ کی منظوری ضروری ہے
یاد رہے کہ سردیوں میں اے سی ( بطور ہیٹر ) چلانے کی اجازت نہیں۔
اے سی استعمال کرنے والے افراد بجلی کے بل میں سے استعمال شدہ یونٹس کے حساب سے ادارے کو ادائیگی کریں گے
AC کے ماہانہ استعمال کی رپورٹ فارمیٹ نمبر چونتیس (34) پر درج کر کے جمع کروائیں۔
تعلیم کے متعلق
برائے اساتذہ
خواتین کی کلاسز شروع کرنے کی پالیسی
خواتین کی کلاس کے وقت کسی مرد استاد یا خادم کا وہاں موجود ہونا حرام ہے، بدنظمی پر ناظم کے خلاف سخت کارروائی ہوگی
خواتین کی تعلیم کے اصول و ضوابط پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا
خواتین کو پڑھانے والے مرد اساتذہ مکمل ضابطہ اخلاق، پردے کا خیال اور شائستہ گفتگو اپنائیں
طالبہ کا موبائل پر استاد سے ذاتی رابطہ ممنوع ہے
ہر خواتین کلاس میں ایک مراقبہ موجود ہوگی جو نظم و ضبط کی ذمہ دار ہوگی، اس کی حاضری استاد کی طرح لازم ہوگی
خواتین کی کلاسز کے انتظام سے متعلق پالیسی
خواتین کی کلاسز شروع ہونے سے قبل درج ذیل تمام امور مکمل کر لیے جائیں:
خواتین کے لئے چائے اور پانی کا نظم دیکھنا
خواتین کلاس شروع ہونے سے پہلے چائے پانی تیار رکھا جائے
کیمرے بند کرنا
پردہ کا انتظام کرنا
کلاسز شروع ہونے سے پہلے تمام پر دے لٹکا دیے جائیں۔
خواتین کے آنے جانے کے راستے کے علاوہ باقی تمام دروازے بند کر دیے جائیں
کلاسز شروع ہونے سے پہلے سکرین سیٹ کر کے اسکو فعال کرنا
خواتین کی کلاس کے وقت کسی مرد کے اندر موجود نہ ہونے کی یقین دہانی کی جائے
سپیکر وغیرہ چیک کرنا
کلاس شروع ہونے سے آدھا گھنٹہ پہلے ناظم خود نگرانی میں تمام انتظامات مکمل کروائے، صرف خادم پر انحصار نہ کرے
انحصار نہ کرے بلکہ خود ان تمام امور پر عمل کی یقین دہانی کرے اور خادم یہ تمام کام کر کے کلاس سے آدھا گھنٹہ پہلے باہر آجائے۔
خواتین کو پڑھانے کی شرعی حدود
خواتین کی کلاسز شروع ہونے سے قبل درج ذیل تمام امور مکمل کر لیے جائیں:
مرد اساتذہ کیلئے خواتین کو پڑھانا نازک معاملہ ہے، شرعی حدود کی مکمل پابندی ضروری ہے
طالبات سے صرف بقدرِ ضرورت کلام کرنا جائز ہے، بلا ضرورت بات کرنا جائز نہیں
بات کرتے وقت آواز اور لہجے میں لچک پیدا کرنا جائز نہیں
طالبات سے مذاق یا لطیفے سنانا شرعاً جائز نہیں، یہ سخت گناہ ہے
اساتذہ طالبات کو نام کے بجائے بنتِ فلاں یا زوجہِ فلاں کہہ کر پکاریں
کسی خاص طالبہ کے ساتھ امتیازی سلوک یا اسے نشانہ بنا کر طنز و ڈانٹ نہ کی جائے
کسی طالبہ کی خاصیت کو ایسے انداز میں پیش کیا جائے کہ دوسروں کیلئے بھی تحریک بنے
اساتذہ غیر مہذب زبان استعمال نہ کریں۔
سبق کے علاوہ گپ شپ نہ کی جائے، اصلاحی گفتگو ضرورت پر سبق کے دوران ہی کر دی جائے
طالبہ کی ذاتی زندگی کے بارے میں سوال نہ کیا جائے اور استاد بھی اپنی ذاتی زندگی کا ذکر نہ کرے
طالبہ سے ذاتی نمبر پر براہِ راست رابطہ سخت ممنوع ہے، رابطہ صرف گروپ میں کیا جائے
انفرادی پڑھانے کی پالیسی
انفرادی ذمہ داری نبھانے والے اساتذہ حاضری رپورٹ واٹس ایپ کے ذریعے ہیڈ آفس بھیجتے رہیں
مربی / نگران استاد کی پالیسی
ہر کلاس کیلئے نگران استاد مقرر ہوگا جو حاضری، غیر حاضر طلبہ سے رابطہ اور مسائل کا حل یقینی بنائے گا
نگران استاد وقتاً فوقتاً طلبہ کو نفلی روزوں کی ترغیب جیسی تربیتی سرگرمیاں بھی دے
تمام ناظمین اپنے کیمپس کی کلاسوں کے نگران اساتذہ کی فہرست بھجوائیں گے
مراقبہ کی پالیسی
خواتین کی کلاسز میں ادارے کی طرف سے مراقبہ موجود ہوگی جو نظم دیکھے گی اور استاد و طالبات کے درمیان واسطہ ہوگی
مراقبہ کی ذمہ داری کے حوالے سے اصول و ضوابط
مراقبہ کی ذمہ داری کے حوالہ سے کچھ اصول و ضوابط طے کیے گئے ہیں، جن کو ذیل میں ذکر کیا جاتا ہے:
مراقبہ روزانہ تمام اسباق کا فیڈ بیک مقررہ فارمیٹ پر تحریری طور پر جمع کروائے
سبق میں طالبات کو پیش آنے والی مشکل اور اس کا حل فارمیٹ پر تحریر کیا جائے
مراقبہ کی ذمہ داری صرف نگرانی تک ہے، البتہ مجبوری میں سبق بھی پڑھا سکتی ہے
کلاس کی تمام طالبات کو رول نمبر جاری کرنا بھی مراقبہ کی ذمہ داری میں شامل ہو گا۔
روزانہ ہر سبق کی الگ حاضری لگانا مراقبہ کی ذمہ داری ہوگا
نئی آنے والی طالبات کا پہلے ہی دن داخلہ فارم مکمل کروا کر انتظامیہ کو مطلع کیا جائے
واٹس ایپ گروپ بنا کر تمام طالبات کو اس گروپ میں شامل کر نا مراقبہ کی ذمہ داری ہے۔
فاطمہ اکیڈمی کا آفیشل نمبر واٹس ایپ گروپ میں شامل کر کے مکمل رابطہ رکھا جائے
فاطمه اکیڈمی میں لگی ہوئی سکرین کا سیٹ اپ کرنا بھی مراقبہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
داخلہ و تعلیمی تشخیص
داخلہ منسوخ کرنے کے مراحل
درج ذیل صورتوں میں طالب علم / طالبہ کا اندراج (داخلہ) منسوخ کیا جائے گا:
اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کی مخالفت کرنا
ادارے کی پالیسی کی مخالفت اور منفی سرگرمیاں کرنا
بلا اجازت مسلسل تین دن غیر حاضر رہنا
ممانعت کے باوجود ادارے سے باہر جانا
40 سے زائد اسباق سے غیر حاضر رہنا
خود داخلہ منسوخی کی درخواست دینا اور منظوری ہوجانا
سال دوبارہ پڑھنے کی اجازت نہ ملنا
سال دوبارہ پڑھنے کے بعد بھی ناکام ہونا
بلا اجازت کسی اور ادارے میں تعلیم حاصل کرنا
طلبہ یا ملازمین کے ساتھ مالی لین دین کرنا
عبادات اور فرض نمازوں میں کوتاہی کرنا
بد اخلاقی اور بے ادبی کا مظاہرہ کرنا
گناہوں اور بے حیائی کا ارتکاب کرنا
منشیات کا استعمال کرنا۔
ہتھیار یا نقصان پہنچانے والے آلات رکھنا
فحش یا سیاسی مواد اپنے پاس رکھنا
اسمارٹ موبائل فون استعمال کرنا۔
جرمانے کے باوجود دوبارہ وہی کام کرنا
چوری، دھوکہ، جھوٹ یا دھمکی دینا
ادارے کی ساکھ متاثر کرنے والا عمل کرنا
ادارے سے غیر متعلق سرگرمیوں میں حصہ لینا
تعلیم میں رکاوٹ بننے والا دائمی مرض لاحق ہونا
آخری تنبیہ کے بعد بھی دوبارہ خلاف ورزی کرنا
تنبیہ یا حکم کی تعمیل نہ کرنا
مجلس انتظامیہ کو پہلی مرتبہ ہی داخلہ منسوخ یا مہلت دینے کا اختیار ہوگا
داخلہ منسوخ کرنے کا طریقۂ کار
شعبے کا ذمہ دار کا تنبیہ کرے گا اور باز رہنے کی ہدایت کرے گا
دوبارہ خلاف ورزی پر معاملہ ذمہ دارِ عام کو سپرد کیا جائے گا
ذمہ دارِ عام کو اساتذہ سے مشورہ یا ولی کو طلب کرنے کا اختیار ہوگا
مسلسل خلاف ورزی پر معاملہ انتظامی مجلس کو بھیجا جائے گا
مرکز میں خلاف ورزی پر دو تنبیہ کے بعد معاملہ مجلس کے سپرد کردیا جائے گا
مجلس انتظامیہ کو فوری داخلہ منسوخی یا وارننگ جاری کرنے کا اختیار ہوگا
مجلس انتظامیہ اپنے فیصلہ سے ولی کو باقاعدہ آگاہ کرے گی
خلاف ورزی پر طالب علم کے نام فارم تیار کر کے کارروائی تحریری طور درج کی جائے گی
داخلہ منسوخی پر فوراً جامعہ چھوڑنا لازمی ہوگا
داخلہ منسوخی کی اطلاع شعبہ حاضری کو دینا ہوگی
داخلہ منسوخی کی اطلاع تمام انتظامی شعبوں کو دینا ہوگی
داخلہ منسوخی کا اعلان نوٹس بورڈ پر آویزاں کرنا ہوگا
مستقل داخلہ منسوخی کا اختیار نائبِ رئیس کے پاس ہوگا
سنگین خلاف ورزی براہِ راست مجلس انتظامیہ کے سامنے پیش کرنا ہوگا
امتحانی نظام
کامیابی اور ناکامی کے قواعد
تین یا زیادہ مضامین میں ناکامی پر راسب شمار کیا جائے گا
ایک یا زیادہ مضامین میں ناکامی پر ضمنی امتحان دینا یوگا
پہلے مرحلے میں ناکامی پر تعلیم جاری رہے گی ، سالانہ ناکامی پر ضمنی امتحان میں کامیابی لازمی ہوگی
ضمنی امتحان میں ناکامی پر دوسری مدت میں شرکت کی اجازت دی جاسکتی ہے
مسلسل ناکامی پر مجلس انتظامی داخلہ منسوخی یا اعادہ سال کا فیصلہ کرسکتی ہے
دو مضامین میں ناکامی پر ترقی صرف مجلس انتظامی کے فیصلے سے ہوگی
ضمنی امتحان صرف ناکام مدت کے مضامین میں لیا جائے گا
ضمنی امتحان ہر تعلیمی مدت کے اختتام پر منعقد ہوگا
ضمنی امتحان مقررہ وقت میں ہی لیا جائے گا
تقابلِ نتائج کے بعد مقررہ شرحِ کامیابی حاصل کرنا لازم ہوگا
دونوں تعلیمی مدتوں کے نتائج کا تقابل کیا جائے گا
ضمنی امتحانی فیس ادا کیے بغیر امتحان میں شرکت ممکن نہیں ہوگی
نتائج بہتر بنانے کے لیے فیس کے ساتھ ضمنی امتحان دیا جاسکتا ہے
تصحیحِ امتحانی پرچے، نمبرات کی تعیین اور امتحانی پرچوں کی جانچ کے قواعد
عمومی قواعد
نمبرات کی تعیین کی کمیٹی، مصححین ، مراجعین اور مدققین پر مشتمل ہوگی.
تمام ارکان مقررہ وقت پر اپنی ڈیوٹی کے لیے حاضر ہوں گے۔
ناظم تعلیم کا کمیٹی اراکین کی فہرست تیار کرنا
کمیٹی اراکین کا مقررہ اوقات میں پوری ذمہ داری سے کام کریں گے
بلا اجازت تصحیح ہال سے باہر نہیں جانا ہے
رخصت کے لیے ناظم تعلیم سے اجازت لینا ہوگی
تصحیح ہال میں غیر متعلقہ شخص کا داخلہ ممنوع ہوگا
بلا رول نمبر پرچوں کو الگ لفافے میں رکھنا ہوگا
تکمیل تک کمیٹیوں نے منتشر نہیں ہونا ہے
تصحیح میں جلد بازی سے گریز کریں ایک دفعہ کے بعد دوبارہ جانچ کریں
نمبرات کی معلومات کسی کو بتانا جائز نہیں ہے یہ امانت ہے
مکمل مدت تعیناتی پر مالی اعزازیہ دیا جائے گا
مصححین (پرچے چیک کرنے والوں) سے متعلق قواعد
تمام پرچے وصول ہونے تک آنسر کیز نہیں کھولی جائیں گی
تصحیح و جانچ کمیٹی کی اجتماعی نگرانی میں کی جائے گی
پرچوں کی تصحیح مقررہ مقام پر بروقت اور باریک بینی سے کی جائے
مصحح کا اپنا نام اور نمبرات ہر پرچے پر درج ہونگے
متعدد جوابات کی جانچ کر کے بہترین نمبر دیے جائیں گے
نمبرات کی تقسیم آنسر کی اور مقررہ وزن کے مطابق کی جائے گی
غیر حل شدہ سوال پر صفر یا متروک درج کیا جائے گا
تمام پرچوں کی تصحیح سرخ رنگ سے کرنا
حاصل شدہ نمبر جواب کے بائیں جانب درج کیے جائیں گے
ہر سوال کے نمبر پہلے صفحے پر درج کر کے مصحح دستخط کرے گا
کٹے ہوئے جواب کو نظر انداز ہی کیا جائے گا لیکن اگر طالب علم کی کامیابی اس پر موقوف ہو تو اس کو دیکھا جائے گا
شناخت ظاہر کرنے والے پرچے رازداری سے مدققین کے حوالے کریں
جوابی پرچے مقررہ مقام کے علاوہ منتقل کرنا ممنوع ہے
جوابی پرچوں کی تصویر یا نقل بنانا سختی سے ممنوع ہے
مراجعین (دوبارہ جانچ کرنے والوں) سے متعلق قواعد
مراجعین کا سبز رنگ سے ابتدائی جانچ کر کے نام درج کریں گے
رول نمبر کے مطابق نمبرات فہرست میں درج کر کے مدققین کے حوالے کریں گے
مکمل جوابی پرچے ترتیب سے شعبۂ تعلیم کے حوالے کریں گے
نمایاں اور ناکام طلبہ کے پرچوں کی دوبارہ خصوصی جانچ کی جائے گی
قاعدہ درج کریں
کلی
جزوی
اکثری
استثنائی
×
×
تعلیم درج کریں
علمی
عملی
عملی درج کریں
مشقی
غیر مشقی
حکم درج کریں
فرض
فرض عین
فرض کفایہ
واجب
سنت
سنت مؤکدہ
سنت غیر مؤکدہ
نفل
مستحب
افضل
جائز
مباح
حرام
مکروہ تحریمی
مکروہ تنزیہی
ناجائز
بنیادی
دفعِ مضرت
ابہام
یاد دہانی درج کریں
عملی تکرار
علمی تکرار
ایک بار
مخاطب درج کریں
خواص
مقتداء
جنس درج کریں
مرد
عورت
دہرائی درج کریں
ضروری
غیر ضروری
حیثیت درج کریں
انفرادی
اجتماعی
زمانہ درج کریں
قبل آدمؑ
حضرت آدمؑ سے حضرت نوحؑ تک
حضرت نوحؑ سے حضرت ابراہیمؑ تک
حضرت ابراہیمؑ سے حضرت موسیٰؑ تک
حضرت موسیٰؑ سے حضرت عیسیٰئ تک
حضرت عیسیٰؑ سے آپ ﷺ تک
آپ ﷺ کے زمانے سے قیامت تک
قیامت کے بعد تک
تعلق درج کریں
ظاہری
باطنی
اندراج کریں
بند کریں
مکطس و عکس کی فہرستوں کے ساتھ دیگر نصابوں کا موازنہ
'مکطس' کا مطلب ہے، مسلمان کی طرح سوچنا۔
'عکس' کا مطلب ہے، عمل کر سکنا۔
النصیحہ کے نصاب کے ساتھ موازنہ
النصیحہ کے نصاب سے مراد An Nasihah Publications کا آٹھ سالہ نصاب ہے۔
النصیحہ کے نصاب سے مراد An Nasihah Publications کا آٹھ سالہ نصاب ہے۔
مکتب کے نصاب کے ساتھ موازنہ
مکتب کے نصاب سے مراد مکتب تربیت المسلمین کا اسلامیات کا نصاب ہے۔
مکتب کے نصاب سے مراد مکتب تربیت المسلمین کا اسلامیات کا نصاب ہے۔
سرکاری نصاب کے ساتھ موازنہ
سرکاری نصاب سے مراد پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کا 2022 کا اسلامیات کا نصاب ہے۔
سرکاری نصاب سے مراد پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کا 2022 کا اسلامیات کا نصاب ہے۔